Book Name:Jame Ul Ahadees Jild 1

صحیح لذاتہ: ۔جسکے  تمام  رواۃ عادل  ضابط ہو ں،   سند متصل  ہو  اور شذوذ  و علت سے خالی ہو۔

 گو یا صحت کے لئے پانچ شرائط ہیں ۔

۱۔    عدالت راوی :۔  ہر راوی  کا مسلمان، بالغ اور عاقل ہونے کے  ساتھ  ساتھ  متقی  و

 باوقار ہونا ۔

 ۲۔     ضبط راوی :۔ ہر راوی  کا حدیث کا حاصل کر نے  کے بعد پورے  طور پر محفوظ کر نے کا اہتمام کرنا خواہ بذریعہ  یادداشت  یا بذریعہ تحریر۔

 ۳۔     اتصال سند :۔  شروع سند سے  آخر  تک  ہر راوی  اپنے سے  اوپر والے سے براہ راست روایت کو حاصل کرے۔

۴۔    عدم  شذوذ:۔ ثقہ   راوی  خود  سے اوثق کی  مخالفت نہ کرے۔

۵۔    عدم  علت:۔ ظاہر صحت کے ساتھ  ایسے خفیہ عیب سے خالی ہو جو صحت پر اثر انداز ہو تی ہے۔

 حکم :۔ قابل احتجاج اور واجب العمل  ہے ۔

 مثال:۔ حدثنا عبد اللہ بن یوسف قال: اخبرنا مالک  عن  ابن  شہاب عن محمد بن جبیر  بن مطعم عن ابیہ  قال: سمعت رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ  علیہ وسلم قرء فی المغرب بالطور۔(۳۵)

       امام بخاری فرماتے ہیں : حدیث  بیان کی ہم سے عبداللہ  بن یوسف نے وہ کہتے ہیں : خبر دی  ہم کو امام مالک نے امام  ابن شہاب زہری سے روایت کر تے ہوئے،  وہ روایت کر تے   ہیں محمد بن جبیر سے، اور یہ اپنے والد  جبیر  بن مطعم سے، انہوں نے کہا کہ میں  نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو سنا کہ آپ نے نماز مغرب میںسورہ  طور کی تلاوت فرمائی ۔

        یہ حدیث صحیح ہے، اسکی سند متصل ، رواۃ عادل ،اور ضابط اور حدیث شذوذ و علت سے خالی ہے۔

 انتباہ:۔ محض احادیث صحیحہ کی  جامع کتابوں میںاولین کتب بخاری و مسلم ہیں،دونوں کو صحیحین

کہا جا تا ہے،  اور مصنفین کو شیخین، پھر  ان دونوں میں بھی  مجموعی طور  پر پہلا  مقام بخاری کو حاصل  ہے اگر چہ مسلم کی بعض احادیث بخاری  پر فائق  مانی گئی ہیں ۔

 



Total Pages: 604

Go To