Book Name:Jame Ul Ahadees Jild 1

       لہذا نقل و روایت کا کام عہد رسالت  ہی میں شروع ہو چکا تھاجیسا کہ آپ پڑھ چکے ۔ البتہ باقاعدہ  علم و فن کی حیثیت ا س  نے   بعد میں اختیار کی  جیسا کہ دوسرے  علوم و فنون کے ساتھ ہوا ۔

       یہی وجہ ہے کہ حضرات صحابہ و تابعین  بالعموم  سند سے سوال نہیں کرتے  تھے  جیسا کہ ابن سیرین نے فرمایا ۔مگر جب دور فتن  آیا اور جعلی اقوال حضورکی طرف منسوب کئے جانے لگے تو اب ضرورت پیش آئی کہ سند سے بھی تعرض کیا جائے اور احوال  رواۃ کی چھان  بین ہو ۔لہذا اہل  علم و عمل ، صاحب تقوی و طہارت اور سب سے بڑھکر اہل سنت کی روایت کو قبول کیا  جانے لگا  اور باقی پر  جرح و تنقید شروع  ہوئی یہاں  تک کہ ناقلین حدیث کے اخلاق وکردار ،  عادات واطوار،  اور سوانح  و سیرت سے بحث کی جانے لگی، آخر کار وہ علوم و فنون سامنے آئے جن سے رواۃ کے حالات زندگی ،علمی مقام و مرتبہ اور مذہب و مسلک کا تعین کیا  جا سکے ، ان کی مددسے حدیث کے اتصال و انقطاع، ارسال و تدلیس وغیرہ کی اصطلاحات وضع کی گئیں  پھر  مزید  توسیع  و وضاحت  کے ساتھ تحصیل  و نقل کی صورتیں ، شرائط و آداب  روایت کو بیان  کیا جانے لگا   امت مسلمہ کے محققین  نے اس بارے میں  خوب خوب تحقیقات کیں ، لیکن یہ تمام تفصیلات  اولاً زبانی  اور مجلسوں کی بحث  و تکرار  تک ہی  محدود تھیں ۔  اور دوسری  صدی کے نصف تک  ان تمام اصول  و قواعد کو سیکھنے  سکھانے کا کام اپنی اپنی یادداشت سے لیا  جاتا  تھا ۔تحریر و کتابت  کے ذریعہ  مدون اور ضبط کرنے کی ضرورت محسوس نہ کی گئی، البتہ  دوسرے  علوم مثلاً حدیث وفقہ اور اصول  فقہ کی کتابوں  کے ضمن میں انکو بیان کیا جاتا  تھا ، دوسری  اور تیسری صدی  میں یہ ہی  طریقہ  رائج رہا ،  پھر جیسے جیسے سلطنت اسلامیہ  میں توسیع ہوتی جاتی علوم اسلامیہ میں بھی وسعت  کے سامان پیداہوتے ؎جاتے تھے آخرکار اس علم اصول حدیث پر بھی مستقل کتابیں  تصنیف کی

جانے لگیں ۔

        سب سے پہلی کتاب اس فن میں مستقل قاضی ابو محمد حسن  بن عبد الرحمن  رامہرمزی

 متوفی  ۳۶۰ھ نے  بنام ’’ المحدث  الفاضل بین الراوی والواعی‘‘  تصنیف کی ۔ (۳)

        اسکے بعد  علماء  اور ائمہ  نے اس فن  پر خوب  خوب طبع آزمائی کی اور متون وشروح اور حواشی کا سلسلہ چل پڑاجوتاہنوزجاری ہے ۔

       اس فن کی ایجاد کا سہرا حضرات صحابہ  میں  حضرت  عبد اللہ  بن عباس ، حضرت  انس  بن مالک ،  اور ام المؤمنین حضرت عائشہ  صدیقہ  کے سر بندھتا ہے ۔

 



Total Pages: 604

Go To