Book Name:Jame Ul Ahadees Jild 1

اصول حدیث سے نا واقفی اور انکی حدیث دانی کے ڈھول کا پول ظاہر کرنے کیلئے امام احمد رضا نے چند لطائف تحریر فرمائے ہیں ، ان میں سے فی الحال فقط   تین   ملاحظہ فرمائیں ۔

        لطیفہ ۔( ۱)

       (ملاجی نے )امام طحاوی کی حدیث بطریق ابن جابر عن نافع پر بشربن بکر سے طعن کیاہے کہ وہ غریب الحدیث ہے، ایسی روایتیں لاتاہے کہ سب کے خلاف ، قالہ الحافظ فی التقریب ۔

       اقول :۔

      اولاً: ذراکچھ شرم کی ہوتی کہ بشربن بکر رجال صحیح بخاری سے ہیں ، صحیح حدیثیں رد کرنے بیٹھے تواب بخاری بھی بالائے طاق ہے۔

       ثانیاً: اس صریح خیانت کو دیکھئے کہ تقریب میں صاف صاف بشر کو ثقہ فرمایا  تھا وہ ہضم کرگئے ۔

     ثالثا:  محدث جی ! تقریب میں’’ ثقۃ یغرب ‘‘   ہے ، کسی ذی علم سے سیکھو کہ’’ فلان

یغرب ، اور’’ فلان  غریب الحدیث ‘‘ میں کتنا فرق ہے ۔

        رابعاً :اغراب کی یہ تفسیر کہ ایسی روایتیں لاتاہے کہ سب کے خلاف ، محدث جی! غریب ومنکر کا فرق کسی طالب علم سے پڑھو ۔

     لطیفہ۔ (۲)

     اقول:۔ وہاں ایک ستم خوش ادائی یہ کی ہے کہ:۔

       وہ تخمینا برابر ہونا ہی مع سایۂ اصلی کہ ہے نہ سایۂ اصلی الگ کرکے وہذالایخفی علی من لہ ادنی عقل (اور یہ ادنی سی عقل رکھنے والے پر بھی مخفی نہیں ۔م) تو در اصل سایہ ٹیلوں کا بعد نکالنے سایۂ اصلی کے تخمینا آدھی مثل ہوگا یا کچھ زیادہ اور مثل کے ختم ہونے میں اتنی دیر ہوگی کہ بخوبی فارغ ہوئے ہونگے ۔(معیار الحق)

       ملاجی ! ذراکچھ دنوں جنگل کی ہوا کھائو، ٹیلوں کی ہری ہری دوب، ٹھنڈے وقت کی سنہری دھوپ دیکھو کہ آنکھوں کے تیور ٹھکانے آئیں علماء تو فرمارہے ہیں کہ ٹیلوں کا سایہ پڑتا ہی نہیں جب تک آدھے سے زیادہ وقت ظہر نہ



Total Pages: 604

Go To