Book Name:Jame Ul Ahadees Jild 1

       حرمین شریفین کے قیام کے زمانہ میں بعض رسائل بھی لکھے اور علمائے حرمین نے بعض  سوالات  کئے تو انکے جواب بھی  تحریر  کئے اور ذہانت کو دیکھکر سب کے سب حیران و ششدررہ گئے ۔

       فتاوی رضویہ کی بارہ جلدیں طبع ہوکر منظر عام پر آگئی ہیں ، اگرچہ بعض رسائل ابھی جلدوں میں شامل نہیں ،اور آخری جلدوں کا اکثر حصہ  بھی نہ مل سکا ۔ پھر بھی جو موجود ہے وہ اپنی مثال آپ ہے ، آج تک اردو زبان میں  ایسا عظیم فقہی  شاہکار معرض تحریر میں نہ آیا ۔ کسی کتاب کی ضخا مت اسکی خوبی کا معیار نہیں ہوتی  بلکہ وہ مضامین ثابتہ ہوتے ہیں جو سیکڑوں کتابوں کا عطر  تحقیق بناکر پیش کئے جاتے ہیں ۔فتاوی رضویہ اپنی تحقیق انیق کے اعتبار سے سب پر فائق ہے

       فتاوی  رضویہ نے تحقیق کا ایک انوکھا معیار اور اسلوب سکھایا اور محققین کو اس طرف متوجہ کیاہے کہ علم  فقہ صرف چند مسائل بیان کردینے کا نام نہیں بلکہ فقہ کے متعلقہ علوم پر جب تک دسترس حاصل نہ ہو اس وقت تک حوادث روزگار اور بد لتے ہوئے حالات سے نمٹنا اور ان کا شرعی نقطۂ نگاہ سے حل تلاش کرنا ممکن نہ ہوسکے گا ۔ مفتی وفقیہ کاکام ہے کہ وہ درپیش مسائل میں حکم شرعی سے لوگوں کو آگاہ کرے اور یہ اسی وقت  ممکن ہوگا جبکہ وہ اس مسئلہ کے متعلقہ مباحبث کی چھان بین اور انکی تنقیح کے بعد حکم بیان کرے ورنہ سخت لغزش کا خطرہ ہے ۔

       امام احمد رضا کی وسعت نظر ، جو دت فکر ، ذہن ثاقب اور رائے  صائب نے انکو اپنے دور میںپوری دنیا کا مرکز اور مرجع فتاوی بنادیا تھا ۔ آپکے یہاں  متحدہ ہندوستان کے علاوہ برما ، چین ،امریکہ ، افغانستان ، افریقہ اور حجاز مقدس  وغیرہا سے بکثرت استفتاء آتے اور ایک ایک وقت میں پانچ  پانچ سو جمع ہوجاتے تھے ۔ ان سب کا جواب نہایت فراخدلی اور خلوص وللہیت  سے دیا جاتاتھا اور کبھی کسی فتوی پر اجرت نہیں  لی جاتی تھی اور نہ ہی کہیں سے تنخواہ مقرر تھی ۔ یہ اس خاندان کا طرئہ امتیاز رہاہے ۔

        اس خاندان میں فتوی نویسی کی مسند سب سے پہلے آپ  کے جد امجد قطب زماں حضرت مولانا مفتی رضا علی خاں  صاحب قدس سرہ نے  بچھائی ، اور پوری زندگی خالصۃ لوجہ اللہ  فتوی  لکھا۔

       آپ کے بعد امام احمد رضا قدس سرہ کے  والد محترم رئیس الاتقیاء  عمدۃ المتکلمین  حضرت علامہ  مفتی  نقی علی خاں صاحب قدس سرہ جانشین ہوئے۔ اور پھر امام  احمد  رضانے پچاس سال سے زیادہ فتاوی  تحریر فرمائے۔

       آپ کے بعد دونوں صاحبزادگان  حجۃ الاسلام حضرت علامہ محمد حامد رضا خانصاحب اور حضور مفتی اعظم ہند حضرت علامہ  محمد مصطفی  رضا خانصاحب علیہما الرحمہ نے  مجموعی طور پر ساٹھ سال  تک مسند افتاء  کو رونق بخشی ۔



Total Pages: 604

Go To