Book Name:Jame Ul Ahadees Jild 1

       اعلی حضرت خود شیخ سعدی کے فارسی ترجمہ کو سراہا کرتے تھے لیکن اگر حضرت سعدی اردو زبان کے اس ترجمہ کو پاتے تو فرماہی دیتے کہ ترجمۂ قرآن شیٔ دیگرست و علم القرآن شیٔ  دیگر ۔

       تفسیر قرآن پر بھی آپ نے کام شروع کیا تھا لیکن سورئہ ’ والضحی ‘ کی بعض آیات کی تفسیر اسی اجزاء ( چھ سوسے زائد صفحات ) پر پھیل گئی ، پھر دیگر ضروری مصروفیات نے اس کام کی مہلت ہی نہ دی ۔

       فرماتے ہیں: ۔

       زندگیاں ملتیں تو تفسیر لکھتے ، یہ ایک زندگی تو اسکے لئے کافی نہیں ۔

        فقہ واصول میں تو آپکی عبقریت کے قائل عقیدتمند ہی نہیں  دور حاضر کے محققین نے بھی بر ملا اعتراف کیا ہے ۔

       مولوی ابو الحسن میاں ندوی لکھتے ہیں :۔

        فقہ حنفی اور اسکی جزئیات پر ان کو جو عبور حاصل تھا اسکی نظیر شاید کہیں  ملے ، اور اس دعوی پر ان کا مجموعۂ فتاوی شاہدہے ، نیز ان کی تصنیف  ’’ کفل الفقہ الفاہم فی احکام  القرطاس والدراھم ‘‘ جو انہوں نے ۱۳۲۳ ھ میں مکہ معظمہ میں لکھی تھی ۔

       فتاوی رضویہ میںاسکے بے شمار شواہد موجود ہیں ۔ جلد اول میں  پانی کے اقسام کی تفصیل پڑھئے ۔ جس پانی سے وضو جائز ہے اسکی ۱۶۰ ؍قسمیں ،اور جس سے وضو نہیں ہو سکتا اسکی ۱۴۶؍ قسمیں بیان  فرمائیں اور ہر ایک کی تفصیل سے بھی آگاہ کیا ۔ حق یہ ہے کہ پانی کی انواع واقسام کا تجزیہ کرکے پانی پانی کردیا ۔

        اسی طرح ۱۷۵ صورتیں  وہ بیان کیں کہ پانی کے استعمال پر عدم قدرت ثابت ہوتی ہے اور تیمم کا جواز متحقق ہوتاہے ۔ تیمم کن چیزوں سے جائز ہے ، انکی تعداد ۱۸۱ بیان فرمائی ، ان میں ۱۰۷؍ کی خود امام  موصوف نے اپنی جودت  طبع سے نشاندہی کی ، اور جن سے تیمم جائز نہیں  وہ ۱۳۰؍ ہیں ۔یہا ں ۷۲؍ کا اضافہ  منجانب مصنف ہے ۔

        فقہی جزئیات پر عبور کامل کی روشن دلیلیں انکے فتاوی سے ظاہر ہیں ، حق یہ ہے کہ  آپکے دور میں  عرب وعجم کے علماء مسائل  شریعت میں  آپ کے استحضار  علمی کو دیکھ کر حیران  رہے ۔

       مولوی ابو الحسن علی ندوی لکھتے ہیں: ۔

 



Total Pages: 604

Go To