Book Name:Jame Ul Ahadees Jild 1

نے جب یہ روایت سنی تو فرمایا : میرابھی یہ ہی مذھب ہے ۔

حق گوئی وشہادت ۔ امام نسائی اخیر عمر میں حاسدین کی ریشہ دوانیوں سے تنگ آکر فلسطین

کے ایک مقام رملہ آگئے ،یہاں بنوامیہ کی طویل حکومت کے سبب خارجیت و ناصبیت کا زور تھا ، عوام حضرت علی سے بدگمان تھے ،بلکہ دمشق میں اس وقت اکثریت ان ہی لوگوں کی تھی ۔آپ نے یہ فضادیکھی تو اصلاح عقائد کی غرض سے حضرت علی کے مناقب پر مشتمل کتاب الخصائص

تصنیف فرمائی ۔

        تصنیف سے فارغ ہوکر آپ نے دمشق کی جامع مسجد میں لوگوں کے سامنے اسکو پڑھکر سنادیا ،چونکہ یہ کتاب وہاں کے لوگوں کے نظریات کے خلاف تھی اس لئے اسکو سنکر وہاں کے لوگ مشتعل ہوگئے ۔ مجمع سے کسی شخص نے کہا: ہمیں آپ کوئی ایسی روایت سنائیں جس سے

حضرت امیر معاویہ کی حضرت علی پر برتری ظاہر ہو۔

       آپ نے جواب میں فرمایا : حضرت معاویہ کا معاملہ برابر سرابر ہوجائے توکیا یہ  تمہارے خوش ہونے کیلئے کافی نہیں ہے ،یا مطلب یہ تھا کہ کیا امیر معاویہ کیلئے حضرت علی کے مساوی ہوناکافی نہیں ہے جو تم برتری کا سوال کررہے ہو ،یہ سننا تھا کہ وہ لوگ آگ بگولہ ہوگئے اور تمام آداب کو بالائے طاق رکھ کر انہوں نے آپ کو زدوکوب کرنا شروع کیا ، بعض اشقیاء نے آپکے جسم نازک پر بھی لاٹھیاں ماریں جسکی وجہ سے آپ بہت نڈھال ہوگئے ۔اسی حالت میں آپ کو مکان پر لائے ،آپ نے فرمایا : مجھے مکہ مکرمہ لے چلو تاکہ میراانتقال مکہ مکرمہ میں ہو

اسی حادثہ سے آپکا وصال ۱۳؍ صفر المظفر ۳۰۳ھ ۸۸ سال  کی  عمر میں ہوا ۔صفامروہ کے درمیان

دفن ہوئے ۔

 تصانیف :۔ امام نسائی نے کثرت مشاغل کے باوجود متعدد کتابیں تصنیف کیں جنکے اسماء اس

طرح ہیں ۔

       السنن الکبری ،المجتبی ،خصائص علی ،مسند علی ،مسند مالک ،مسند منصور ،فضائل الصحابہ ، کتاب التمیز،  کتاب المدلسین ،کتاب الضعفاء کتاب الاخوۃ ،کتاب الجرح والتعدیل ،مشیخۃ

النسائی ،اسماء الرواۃ ،مناسک حج ،

 



Total Pages: 604

Go To