$header_html

Book Name:Jame Ul Ahadees Jild 1

زہری کی روایا ت سے بتلایا کہ کسی شخص کو دینی مشورہ دینا سو غزوات میں جہاد کرنے سے بہتر ہے ۔ اس گفتگو کے بعد امام مالک نے کوئی بات نہیں کی اور اپنی جان

جان آفریں کے سپرد کردی ۔

       ۱۱؍یا۱۴ ؍ ربیع الاول ۱۷۹ھ کو آپ نے مدینہ طیبہ میں وصال فرمایا اور جنت البقیع میں مدفون ہوئے ۔اولاد امجاد میں تین صاحبزادے یحیی ،محمد ،اور احمد چھوڑے ،کسی  نے آپکی سنہ

ولادت اور سنہ وصال کو یوں نظم کیا ہے ۔

                      فخرالائمۃ مالک ۔نعم الامام السالک

                     مولدہ نجم ھدی ۔ وفاتہ فازمالک

                            ۹۳          ۱۷۹

 مؤطا امام مالک   

       آپ نے متعددکتب تصنیف فرمائیں لیکن مؤطا آپکی مشہور ترین کتاب جو کتب خانہ اسلام کی فقہی ترتیب پر دوسری کتاب سمجھی جاتی ہے ۔اس کی تالیف وترتیب مدینہ طیبہ ہی میں ہوئی ،کیونکہ آپ کا قیام ہمیشہ مدینہ منورہ ہی میں رہا ،آپ نے حج بھی صرف ایک مرتبہ  ہی کیا باقی پوری حیات مبارکہ مدینہ پاک ہی میں گذاردی ۔

       امام شافعی نے اس کتاب کو دیکھ کر فرمایا تھا : کہ کتاب اللہ کے بعدروئے زمین پر اس

سے زیادہ صحیح کوئی کتاب نہیں ۔

       امام ابو زرعہ رازی فن جرح وتعدیل کے امام فرماتے ہیں : اگر کوئی شخص قسم کھالے کہ

مؤطا کی تمام احادیث صحیح ہیں تووہ حانث نہیں ہوگا ۔

        امام مالک نے ایک لاکھ احادیث میں سے مؤطا کا انتخاب کیا ،پہلے اس میں دس ہزار احادیث جمع کی تھیں ،پھر مسلسل غور کرتے رہے یہاں تک کہ اس میں چھ سو احادیث باقی رہ گئیں ۔بعد ہ مراسیل وموقوف اور اقوال تابعین کا اضافہ ہے ۔یعنی کل روایات کی تعداد ایک

ہزار سات سوبیس ہے ۔

       لفظ موطا’’توطیہ‘‘ کا اسم مفعول ہے جسکے معنی ہیں ، رونداہوا ،تیار کیا ہوا ، نرم وسہل بنایا

ہوا ۔ یہاں یہ سب معانی بطور استعارہ مراد لئے ہیں ۔

 



Total Pages: 604

Go To
$footer_html