Book Name:Jame Ul Ahadees Jild 1

میں رہے ،اس کا نکاح اپنے بیٹے سے کردو،اگر وہ طلاق دے گا

باندی تمہاری رہے گی ۔

       یہ کہہ کر لیث بن سعد نے کہا ۔فواللہ مااعجبنی سرعۃ جوابہ۔ اللہ کی قسم ہے آپ کے جواب پر مجھ کواتنا تعجب  نہ ہوا جتنا کہ ان کے جواب دینے کی سرعت سے ہوا ۔یعنی پوچھنے کی

دیر تھی کہ جواب تیار تھا۔

       امام ابویوسف بیان کرتے ہیں : ایک دفعہ ایک شخص سے اسکی بیوی کا جھگڑا ہوا۔ شوہر یہ قسم کھا بیٹھا کہ جب تک تونہیں بولے گی میں بھی نہیں بولوں گا بیوی کیوں پیچھے رہتی  ۔اس نے   بھی برابر کی قسم کھائی جب تک تونہیں بولے گا میں بھی نہیں بولوں گی ۔جب غصہ ٹھنڈاہوا تواب دونوں پریشان۔ شوہر حضرت سفیان ثوری کے پاس گیا کہ اس کا حل کیا ہے ،فرمایا کہ بیوی سے بات کرو وہ تم سے کرے اور قسم کا کفارہ دیدو ۔شوہر حضرت امام اعظم کی خدمت میں حاضرہوا ۔ آپ نے فرمایا ۔جائو تم  اس سے بار کرو اور وہ تم سے بات کرے،کفارہ کی ضرورت نہیں ۔جب سفیان ثوری کو یہ معلوم ہوا تو بہت خفاہوئے ۔امام اعظم کے پاس جاکر یہاں تک کہہ دیاکہ تم لوگوں کو غلط مسئلہ بتاتے ہو ۔امام صاحب نے اسے بلوایا اوراس سے دوبارہ پوراواقعہ بیان کرنے کو کہا ۔  جب وہ بیان کرچکا تو امام صاحب نے حضرت سفیان ثوری سے کہا ۔جب شوہر کے قسم کے بعد عورت نے شوہر کو مخاطب کرکے وہ جملہ کہا تو عورت کی طرف سے بولنے کی ابتداء ہوگئی ۔ اب قسم کہاں رہی ۔اس پر حضرت سفیان ثوری نے کہا ۔واقعی عین موقع پرآپ کی فہم وہاں تک پہونچ جاتی ہے جہاں ہم لوگوں کا خیال نہیں جاتا ۔

امام اعظم پر مظالم اوروصال :۔بنوامیہ کے آخری حکمراں مروان الحمار نے یزید بن

عمر وبن ھبیرہ کو عراق کاوالی بنادیاتھا ،عراق میں جب بنو مروان کے خلاف فتنہ اٹھا توابن ھبیرہ نے علماء کو جمع کرکے مختلف کاموں پر متعین کیا ۔ابن ابی لیلی ،ابن شبرمہ اوردائود بن ابی ہند بھی

اس میں شامل تھے ۔

       امام اعظم کے پاس قاصد بھیج کرآپ کو بلوایا اورابن ھبیرہ نے آپ پر عہدہٗ قضا  پیش کرتے ہوئے یہاں تک کہا کہ یہ حکومت کی مہر ہے ،آپکے حکم کے بغیر سلطنت میں کوئی کام نہیں ہوگا ،بیت المال  پرسارا اختیار آپ کا رہے گا ۔لہذا آپ یہ عہد قبول کریں ،آپ نے انکارکیا ۔ابن ھبیرہ نے قسم کھائی کہ یہ عہد ہ آپ کو قبول کرنا ہوگا ورنہ



Total Pages: 604

Go To