Book Name:Jame Ul Ahadees Jild 1

زوج کے پاس چلی جائے( یعنی جس سے اس کانکاح ہوا ہے ) لوگوں نے سفیان کی بات سنی اور پسند کی امام ابوحنیفہ خاموش بیٹھے رہے ۔مسعر بن کدام نے ان سے کہا تم کیا کہتے ہو ۔ سفیان ثوری نے کہا وہ اس بات کے علاوہ کیا کہیں گے ۔ابوحنیفہ نے کہا ۔دونوں لڑکوں کو بلائو، چنانچہ وہ دونوںآئے ۔  حضرت امام نے ان میں سے ہر ایک سے دریافت کیا ۔’’ تم کو وہ عورت پسند ہے جس کے ساتھ تم نے شب باشی کی ہے ۔‘‘ ان دونوں نے ہاں میں جواب دیا ۔آپ نے ہرایک سے کہا اس عورت کانام کیا ہے جوتمہارے بھائی کے پاس گئی ہے ۔دونوں نے لڑکی کا اور اس کے باپ کانام بتایا ۔

       آپ نے ان سے کہا ۔اب تم اس کو طلاق دو ۔چنانچہ دونوں نے طلاق دی اور آپ نے خطبہ پڑھ کر ہرایک کا نکاح اس عورت سے کردیا جواس کے پاس رہی ہے ۔اور آپ نے دونوں لڑکوں کے والد سے کہا ۔دعوت ولیمہ کی تجدید کرو ۔

       ابوحنیفہ کا فتوی سن کرسب متحیر ہوئے اورمسعر نے اٹھ کرابوحنیفہ کا منہ چوما اور کہا تم

لوگ مجھ کوابوحنیفہ کی محبت پر ملامت کرتے ہو ۔

       جواب امام سفیان کا بھی  درست تھا لیکن کیا  ضروری تھا کہ دونوں شوہر وں کی غیرت

اس بات کو گوارہ کر لیتی کہ جس سے دوسرے نے شب باشی کی ہے  کہ وہ اب اس پہلے کے

 

 

ساتھ رہے ۔

       امام وکیع ہی بیان کرتے ہیں :  ہم امام ابوحنیفہ کے پاس تھے کہ  ایک عورت آئی اور اس نے کہا کہ میرے بھائی کی وفات ہوئی ہے اس نے چھ سودینار چھوڑے اوراب مجھ کو ورثہ میں ایک دینار ملاہے ۔ابوحنیفہ نے کہا کہ میراث کی تقسیم کس نے کی ہے ۔اس نے کہا دائود طائی نے کی ہے ۔آپ نے فرمایا انہوں نے ٹھیک کی ہے۔ کیاتمہارے بھائی نے دولڑکیاں چھوڑی

 ہیں ؟  عورت نے ہاں میں جواب دیا ۔آپ نے  پوچھا اور ماں چھوڑی ہے؟عورت نے ہاں میں جواب دیا ۔آپ نے پوچھا اوربیوی چھوڑی ہے؟عورت نے ہاں میں جواب دیا ۔آپ نے پوچھا اورایک بہن اوربارہ بھائی چھوڑے ہیں ؟عورت نے ہاں میں جواب دیا ۔آپ نے کہا لڑکیوں کا دوتہائی حصہ ہے یعنی چار سودینا راورچھٹا حصہ ماں کا ہے



Total Pages: 604

Go To