Book Name:Jame Ul Ahadees Jild 1

       امین  ملت شہزادۂ احسن العلماء حضرت ڈاکٹر سید محمد امین میاں صاحب قبلہ

 مد ظلہ  العالی سجادہ نشین  آستانہ برکاتیہ  مارہرہ مقدسہ

س

نحمدہ و نصلی و نسلم علی حبیبہ الکریم و علی الہ و صحبہ اجمعین ۔

       اس فقیر برکاتی سے علامہ محمدحنیف خاں صاحب رضوی مدظلہ  نے فرمائش کی کہ ان  کی کتاب ’’جامع الاحادیث‘‘ پر چند سطریں لکھ دوں۔ میں  آج ہی سہ پہر کو پردیس کے  لئے روانہ ہو رہا ہوں لیکن دل نہ مانا کہ علامہ کی محبت بھری فرمائش کو معرض التوا میں ڈالوں۔ سو یہ چند ٹوٹی پھوٹی سطریں حاضر ہیں ۔

        ’’رضویات‘‘ کی ضمن میں ’’جامع الاحادیث‘‘ اکیسویں صدی کی پہلی مہتم بالشان تصنیف ہے، چھہ جلدوںپر مشتمل اس  تصنیف لطیف کے مندرجات مجدد اعظم  اعلی حضرت  امام احمد رضا خاں قادری برکاتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی حدیث دانی پر دال ہیں۔ مصنف محترم حضرت علامہ محمد حنیف خاں  قادری برکاتی رضوی صدر المدرسین جامعہ نوریہ بریلی شریف کے اوقات میں اللہ تبارک تعالیٰ نے کتنی برکت عطا فرمائی کہ پہلے تو تقریباً چار ہزار احادیث کا مطالعہ بنظر غایر فرمایا۔ پھر انکو فقہ کے ابواب کی ترتیب میں سلیقے سے سجایا۔ پھر ایک ایک حدیث  کے سلسلہ میں بیش از بیش حوالوں کا التزام فرمایا۔ بیشتر احادیث کا ترجمہ فرمایا۔ جہاں عربی متن نہ تھا، وہاں متن نقل کر نے کا انتظام فرمایا۔ صرف اسی پر قناعت نہ کی بلکہ مجدد اعظم کی دیگر تصانیف میں جہاں جہاں احادیث کا ذکر دیکھا ان احادیث کو متعلقہ احادیث کے شانہ بشانہ درج کرنے کے ساتھ ساتھ ایک  مبسوط و مفصل مقدمہ بھی تحریر فرما دیا جس میں علم حدیث کے مختلف عناصر کے بارے میں شافی اور کافی الطلاعات بہم کردی ہیں ۔

       حاسد اور مخالف کے ذریعے کی گئی  تنقیص بھی کیسے کیسے گل کھلاتی ہے۔ مولانا علی میاں ندوی نے اپنے والد مولانا عبد الحئی کی کتاب’ـنزہۃ الخواطر‘‘ میں اعلی حضرت قدس سرہ کی شان گھٹانے کے سلسلے میں ایک جملہ یہ بھی لکھا تھا      :-

       ’’ قلیل البضاعۃ فی الحدیث  والتفسیر‘‘

        یعنی امام احمد رضا کی اہلیت حدیث و تفسیر میں بہت کم تھی۔ حاسد اعلی حضرت کے جواب میں محب اعلی



Total Pages: 604

Go To