Book Name:Jame Ul Ahadees Jild 1

حضرت علی مرتضی کی دعاہمارے حق میں  قبول کرلی گئی ہے۔(۱)

       اس روایت سے ثابت کہ آپکی   ولا دت  ۸۰ ھ میں ہوئی۔ دوسری روایت جو حضرت امام ابویوسف سے ہے اس میں ۷۷ھ ہے ۔ علامہ کوثری نے ۷۰ھ کودلائل وقرائن سے ترجیح دی ہے اورکہا  ہے کہ ۸۷ھ میں اپنے والد کے ساتھ حج کوگئے اوروہاں حضرت عبداللہ بن

الحارث سے ملاقات ہوئی اور حدیث سنی ۔اسی ۷۰ھ کوابن حبان نے بھی صحیح بتایا ہے ۔

        معتمدقول یہ ہی ہے کہ آپ فارسی النسل ہیں اورغلامی کادھبہ آپکے  آباء میں کسی پر نہیں لگا، مورخوں نے غیر عرب پر موالی کا استعمال کیا ہے  بلکہ عرب میں ایک رواج یہ بھی تھا کہ پردیسی یا کمزورفرد کسی بااثر شخص یاقبیلہ کی حمایت وپناہ حاصل کرلیتا تھا ۔لہذاجبکہ حضرت امام

اعظم کے جد امجد جب عراق آئے توآپ نے بھی ایساہی کیا ۔

        امام طحاوی شرح مشکل الآثار میں راوی کہ حضرت عبداللہ بن یزید کہتے ہیں ،میں امام اعظم کی خدمت میں حاضر ہوا توانہوں نے مجھ سے پوچھا ،تم کون ہو ؟میں نے عرض کیا :میں ایسا شخص ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے جس پر اسلام کے ذریعہ احسان فرمایا ،یعنی نومسلم ۔حضرت امام  اعظم نے فرمایا: یوں نہ کہو ،بلکہ ان قبائل میں سے کسی سے تعلق پیداکرلو پھر تمہاری نسبت بھی انکی

طرف ہوگی ،میں خود بھی ایساہی تھا ۔(۲)

       مولی صرف غلام ہی کو نہیں کہاجاتا ،بلکہ ولاء اسلام ،ولاء حلف ،اور ولاء لزوم کو بھی ولاء کہتے ہیں اور ان تعلق والوں کو بھی موالی کہاجاتاہے ۔امام بخاری ولاء اسلام کی وجہ سے جعفی

 ہیں ۔امام مالک ولاء حلف کی وجہ سے  تیمی ۔ اورمقسم کو ولاء لزوم یعنی حضرت ابن عباس کی

خدمت میں ایک عرصہ تک رہنے کی وجہ سے مولی ابن عباس کہاجاتاہے ۔(۳)

کنیت کی وضاحت :۔  آپکی کنیت ابوحنیفہ کے سلسلہ میں  متعدد اقوال ہیں ۔

۱۔    چونکہ اہل عرب دوات کو حنیفہ کہتے ہیں اورکوفہ کی جامع مسجد میں وقف کی چارسودواتیں طلبہ کیلئے ہمیشہ وقف رہتی تھیں ۔امام اعظم کا حلقۂ درس وسیع تھا اورآپکے ہرشاگرد کے پاس

علیحدہ دوات رہتی تھی ، لہذاآپ کو ابوحنیفہ کہاگیا ۔

 



Total Pages: 604

Go To