$header_html

Book Name:Jame Ul Ahadees Jild 1

عبدالرحمن انصاریہ اور حضرت قاسم بن محمد بن ابوبکر کے پاس موجود

ہیں ۔

       حضرت عمر بن عبدالعزیز نے صرف عمال حکومت کو احادیث مدون کرنے کا حکم نہیں دیا

بلکہ آپ خود بھی احادیث لکھا کرتے تھے حضرت ابو قلابہ سے روایت ہے ،فرمایا:۔

       خرج علینا عمر بن عبدالعزیز لصلوۃ الظہر ومعہ قرطاس ثم خرج علینا لصلوۃ العصر وھومعہ فقلت لہ : یاامیرالمومنین ، ماہذاالکتاب ؟ قال حدیث

حدثنی بہ عون بن عبداللہ فاعجبنی فکتبتہ ۔

       ’’ حضرت عمربن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ نماز ظہر کیلئے باہر تشریف لائے تو انکے ہاتھ میں ایک کاغذ تھا ۔پھر عصر کیلئے تشریف لائے توپھربھی وہ کاغذ انکے پاس تھا میں نے عرض کیا : امیرالمومنین !یہ کتاب کیسی ہے ؟فرمایا: یہ حدیث پاک ہے جوعون بن عبداللہ نے مجھے

سنائی ۔مجھے یہ حدیث پاک بہت پسند آئی اور میں نے اس کو لکھ لیا ۔‘‘

        حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تدوین حدیث کی ضرورت کا جو احساس کیا تھا  یوں محسوس ہوتاہے جیسے انہوں نے بہت جلد ملت کے اکابر علماء کو اس احساس میں اپنے ساتھ شریک کرلیاتھا اور کتابت حدیث کی کراہت کا جو رویہ عہد صحابہ اور عہد تابعین کے ابتدائی دور میں موجود تھا ، وہ رویہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کے دور کے تقاضوں کی وجہ سے پہلے مدھم ہوا اور پھر ختم ہوگیا ۔ اس بات کی دلیل یہ ہے کہ اس عہد میں بے شمار علماء نے تدوین حدیث کی کوششوں میں حصہ لیا ۔ کتابت حدیث کے متعلق ملت کے رویے میں تبدیلی کے اسباب کا

اندازہ حضرت امام زہری کے اس قول سے ہوتاہے ۔وہ فرماتے ہیں :۔

        لولا احادیث  تأتینامن قبل المشرق ننکرہا لا نعرفہا ماکتبت حدیثاً

ولآاذنت فی کتابہ۔

       ’’ اگر وہ احادیث نہ ہوتیں جو مشرق کی طرف سے ہم تک پہونچتی ہیں اور ہم انکے

متعلق نہیں جانتے تومیں نہ تو احادیث کو  لکھتا اور نہ اسکی اجازت دیتا ‘‘

        گویا وقت کے تقاضوں نے احادیث طیبہ کی حفاظت کیلئے  تدوین حدیث کو انتہائی ضروری قرار دیدیا تھا اور



Total Pages: 604

Go To
$footer_html