Book Name:Jame Ul Ahadees Jild 1

ایسی احادیث جن میں کتابت احادیث کی ممانعت کی گئی ہے وہ منسوخ ہیں ۔

       اپنے موقف کی تفصیل بیان کرتے ہوئے علامہ محمد بن علوی مالکی فرماتے ہیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۳۳۔    المنہل اللطیف فی  اصول الحدیث الشریف،  ۱۹

        ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ کتابت حدیث کی ممانعت پردلالت کرنے والی احادیث کازمانہ مقدم ہے یاان احادیث کا جن میں کتابت حدیث کی اجازت دی گئی ہے ۔اگرممانعت والی احادیث ابتدائی زمانے کی ہوں اوراجازت والی احادیث بعد کے زمانے کی تومسئلہ ہی حل ہوجاتا ہے ۔ اوراگر یہ کہا جائے کہ جن احادیث میں کتابت حدیث کی اجازت ہے وہ مقدم ہیں ااور ممانعت والی موخر تواس سے وہ حکمت ہی فوت ہوئی جاتی ہے جس کے تحت احادیث لکھنے کی ممانعت کی گئی۔ وہ حکمت یہ تھی کہ قرآن وحدیث میں التباس پید انہ ہوجائے جیسا کہ حضور

اقدس  صلی اللہ  تعالیٰ علیہ وسلم کے ارشاد گرامی سے ظاہر ہے آپ نے فرمایا :۔

       امحضوا کتاب اللہ واخلصوہ۔

       اللہ تعالیٰ کی کتاب کو ہر قسم کے شائبۂ التباس سے پاک رکھو ۔

       قرآن اور حدیث میں التباس کا خدشہ اسلام کے ابتدائی دور میں تو قابل فہم ہے جب ابھی فن کتابت بھی عام نہیں ہوا تھا اور مدینہ  میںیہودی اور منافقین بھی تھے ،ان حالات میں قرآن اور حدیث کے درمیان التباس کا خدشہ تھا۔ اس لئے احادیث کی کتابت کو منع کردیا گیا تاکہ لوگ قرآن حکیم کی طرف پوری پوری توجہ دیں اور کتابت قرآن کے ساتھ کتابت حدیث کی وجہ سے دونوں  میں التباس پیدا نہ ہو ۔ لیکن یہ بات قرین قیاس نہیں کہ ابتدامیں تو احادیث لکھنے کی اجازت ہو اور جب کتابت کا فن عام ہوگیا اور قرآن و حدیث میں التباس کا کوئی خطراہ نہ رہا تواحادیث لکھنے کی ممانعت کردی گئی۔ اس لئے قرین قیاس یہ ہی ہے کہ ممانعت والی احادیث

اجازت والی احادیث سے مقدم ہیں اور ممانعت والی منسوخ ہیں ۔(۳۴)

        احادیث ممانعت واجازت  میںدفع تعارض اور تطبیق کے سلسلہ میں یہ پہلا طریقہ تھا کہ وجوہ نسخ میں سے ایک وجہ کو اختیا ر کرکے دونوں طرح کی روایات میں تطبیق دی گئی اور وہ ہے روایات میں باعتبار زمانہ تقدم وتاخر ۔

       دفع تعارض کیلئے یہاں ایک اور صورت بھی ہے کہ وجوہ جمع میں سے کسی ایک وجہ کو بروئے کار لایا جائے



Total Pages: 604

Go To