Book Name:Jame Ul Ahadees Jild 1

واقعہ ہے کہ

       ان عمربن الخطاب توضأ فی جر نصرانیۃ۔

       ایک موقع پر حضرت عمرفاروق اعظم نے ایک نصرانی عورت کے گھڑے سے وضوکیا ۔

 پڑھنے والے نے اسکو ’حرّ ، بمعنی اندام نہانی پڑھا ، اب قارئین خود اندازہ کرلیں کہ بات چل رہی تھی کہ کن پانیوں اورکون کونسے برتنون سے وضوہوسکتا ہے اور یہ کیسی فحش کلامی پر اترآئے۔

 یہ حال ہے اس کتابت کا محض جس پر منکرین حدیث نے بنائے کار رکھی ہے ۔

       ہوسکتا ہے کوئی صاحب کہہ اٹھیں کہ اس طرح کی تصحیف اورایسے ذھول ومسامحات سے کتنوں کا دامن پاک رہا ہے ؟ یہ ان حضرات کی کوتاہی تھی پھر اسکا نفس کتابت سے کیا تعلق کہ اسکو مذموم قرار دیا جائے ۔

       ہم کہتے ہیں  صحیح ہے کہ فی نفسہ کتابت کسی علم کی حفاظت کیلئے مذموم نہیں ،لیکن اتنی بات توطے ہوگئی کہ محض کتابت پرتکیہ کرلینا اوراسی کو حفاظت علم وفن کا معیار قرار دینا درست نہیں رہا جب تک حفظ وضبط کا اسکے ساتھ مضبوط سہارا نہ ہو۔

       پھر یہاں یہ امربھی قابل توجہ ہے کہ جن غلطیوں کی نشاندھی کی گئی ہے وہ معمولی نہیں بلکہ درایت سے کوسوں دورنری جہالت کی پیداوار ہیں ، اختلاف قرأت یا نسخوں کی تبدیلی اس طرح کی غلطیوں میں مسموع نہیں ہوتی ۔بلکہ ان مثالوں کو تصحیف کہنا ہی نہیں چاہیئے انکے لئے تو تحریف کا عنوان دینا ضروری ہے ۔

       اس سے بھی زیادہ مضحکہ خیز وہ مثالیں ہیں جن میں قاری نے غلط پڑھنے کے ساتھ ساتھ انکے معانی پر جزم کرکے توجیہ کرتے ہوئے وہ باتیں کہدی ہیں جو بالکل بے سروپا ہیں ۔

       ایک حدیث شریف میں ہے: ۔

       زرغبا تزددحباً۔

       حضرت عبداللہ بن عمروبن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے حضور اقدس صلی اللہ  تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا،کبھی کبھی ملاقات سے محبت زیادہ ہوتی ہے ۔

       امام حاکم کہتے ہیں :۔

       ایک صاحب جنکا نام محمد بن علی المذکرتھا ،ہوسکتا ہے وعظ گوئی کا پیشہ کرتے ہوں لہذا لوگوں کوعشروصدقات کی ترغیب دینے کیلئے ایک واقعہ گڑھ لیا ہو ،چنانچہ اس حدیث کو ان الفاظ

 



Total Pages: 604

Go To