Book Name:Jame Ul Ahadees Jild 1

نالہا ئے شب دیجور سب میں سنت رسول کا عکس صاف طور پر دکھائی دیتا تھا ۔

       میں کسی ایک فرد کی بات نہیں کررہا ہوں بلکہ شمع نبوت کے پروانوں کا عموما یہ ہی حال تھا، آج کی طرح دنیا ان پر غالب اور مسلط نہیں تھی بلکہ وہ ان تمام عوائق وموانع سے بالا تر ہوکر صرف اور صرف اپنے محبوب کی یاد کو دل میں بسائے سفروحضر میں اپنی دنیا کو انہیں کے ذکر سے

آباد رکھتے تھے ،ان کا عشق رسول ہر ارشاد کی تعمیل سے عبارت تھا ۔

       عبادات میں تو رسول اللہ   صلی اللہ  تعالیٰ علیہ وسلم کی اتباع کے بغیر ان کیلئے کوئی چارئہ کار ہی نہ تھا  ، لیکن انکی اتباع ہر اس کام میں مضمر ہوتی جو انکے رسول کی طرف کسی نہ کسی طرح

منسوب ہوتا ۔

        کتب احادیث کے مطالعہ سے یہ بات واضح طورپر ثابت ہوچکی ہے کہ حضور اقدس  صلی اللہ  تعالیٰ علیہ وسلم نے حدیث پاک بیان کرتے وقت  جس خاص ہیئت ووضع کو اختیار فرمایا ہوتاتھا تو راوی بھی اسی اداسے  حدیث روایت کرتا ۔مثلا احادیث مسلسلہ  میں وہ احادیث جن کے راوی بوقت روایت مصافحہ کرتے ، تبسم فرماتے یا کسی دوسری ہیئت کا اظہار کرتے جو حضور

سے ثابت ہوتی ۔

        مصطفی جان رحمت  صلی اللہ  تعالیٰ علیہ وسلم کی ادائووں کو اپنانا اور ان پر کاربند رہنا  انکی زندگی  کا جزو لاینفک بن چکا تھا، صحابہ کرام میں سنت رسول کی پیروی کا جذبہ اس حدتک موجود تھا کہ جس مقام پر جو کام حضور نے کیا تھا صحابہ کرام بھی اس مقام پر وہی کام کرنے کی کوشش کرتے تھے ۔ 

       حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے بارے میں مشہور ہے کہ:۔

       کان یتتبع آثار ہ فی کل مسجد صلی فیہ ،وکان یعترض براحلتہ فی طریق

رأی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم عرض ناقۃ (۵۰)

        جن جن مقامات پر حضور سید عالم صلی اللہ  تعالیٰ علیہ وسلم نے حالت سفر وحضر میں نماز یں پڑھیں تھیں حضرت عبداللہ بن عمر ان مقامات کوتلاش کرکے نمازیں پڑھتے ،اور جہاں حضور

نے اپنی سواری کا رخ پھیرا ہوتا وہاں قصدا آپ بھی ایسا ہی کرتے تھے ۔

       یہاں تک کہ کہاجاتاہے کہ سفرکے موقع پر اگر حضور نے کسی جگہ استنجاء فرمایا ہوتا تو آپ

 



Total Pages: 604

Go To