Book Name:Mahboob e Attar ki 122 Hikayaat

امین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم

کسی کا احسان کیوں اٹھائیں کسی کو حالات کیوں بتائیں

تمہیں سے مانگیں گے تم ہی دو گے تمہارے دَر سے ہی لو لگی ہے

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                      صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

مَدَنی کاموں میں مصروفیت

          رکن شوریٰ حاجی محمد علی عطاری مدظلہ العالی کا بیان کچھ یوں ہے کہ حاجی زم زم رضا عطاری علیہ رحمۃُ اللہِ الباریدعوتِ اسلامی کے مختلف مَدَنی کاموں میں از خود مصروف رہا کرتے تھے ، کسی کے کہنے یا حوصلہ افزائی کا انتِظار نہیں کیا کرتے تھے ۔کبھی مَدَنی مشورے کے لئے جارہے ہیں تو کبھی علاقائی دورہ برائے نیکی کی دعوت کے لئے ،کبھی کسی مریض کی عیادت کرنے یاکبھی میّت کی تعزیت کیلئے اس کے گھر جارہے ہیں ،توکبھی کسی کے جنازے میں شرکت کے لئے جارہے ہیں ، کبھی جامعۃ المدینہ فیضانِ مدینہ حیدر آباد میں طلبہ میں بیان کررہے ہیں توکبھی ان کی تربیت فرما رہے ہیں ،انہیں مَدَنی قافلوں میں سفر، مَدَنی انعامات پر عمل اور دعوتِ اسلامی کے دیگر مَدَنی کاموں کا جذبہ دِلا رہے ہیں۔کبھی مَدَنی بہاریں مُرتَّب کررہے ہیں تو کبھی کسی موضوع پر کوئی رسالہ لکھ رہے ہیں ،پھر اپنے گھر کو بھی وَقْت دے رہے ہیں ، اپنے بچّوں کی تربیت بھی کررہے ہیں ،جب بابُ المدینہ کراچی جاتے تو وہاں بھی شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہکی بارگاہ میں حاضِر ہونے کے ساتھ

 



Total Pages: 208

Go To