Book Name:Mahboob e Attar ki 122 Hikayaat

ہی دیکھیں ، گفتگو کرتے وقت بھی ان کی نگاہیں نیچی ہوا کرتی تھیں ،ان کا یہ انداز دیکھ کر میں نے بھی نیت کی کہ میں بھی نگاہیں نیچی رکھنے کی کوشش کروں گااور قفلِ مدینہ کا عینک لگایا کروں گا ۔پھر ایک دن آیا کہ میں نے اپنی نیت پر عمل کرتے ہوئے قفلِ مدینہ عینک خریدا اور استعمال کرنا شروع کردیا ۔ اَلْحَمْدُ للّٰہعَزَّوَجَلَّ! حاجی زم زم رضاعطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الباریکے وصال کے بعد مجھے خواب میں دو مرتبہ ان کی زیارت ہوئی ہے اور وہ بہت خوش دکھائی دئیے۔

اللہ     عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔  امین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                      صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(۳۱) نیکی کی دعوت کے کارڈ سینے پر سجایا کرتے تھے

          شیخِ طریقت امیراہلسنّت  دامت برکاتہم العالیہ کا مسلمانوں کو نیکی کی دعوت پیش کرنے کا جذبہ مرحبا!کہ آپ نہ صرف اپنے بیانات،مَدَنی مذاکروں ،اِنفرادی کوششوں اور تحریروں کے ذریعے نیکی کی دعوت عام کرتے ہیں بلکہ وَقْتاً فوَقْتاً نیکی کی مختصردعوت پر مشتمل سینے پر لگانے والے مَدَنی کارڈ بھی مُرتَّب فرماتے رہتے ہیں ، یہ کارڈ مکتبۃ المدینہ سے ھدِیَّۃً حاصل کئے جاسکتے ہیں ، حاجی زم زم رضا عطّاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الباری کا معمول تھا کہ وہ نیکی کی دعوت کے یہ کارڈ (بدل بدل کر) اپنے سینے پر سجایا کرتے تھے ، بلکہ المدینۃ العلمیۃ کے اسلامی بھائی کا بیان ہے کہ جب بھی کوئی نیا

 



Total Pages: 208

Go To