Book Name:Mahboob e Attar ki 122 Hikayaat

جائے ، ان پر انفرادی کوشش کیسے کی جائے؟ یہ ساری باتیں سکھائی جاتی تھیں۔ حاجی زم زم رضاعطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الباریایک مرتبہ ہمارے درجے کے قریب سے گزرے تو دیکھا کہ بینا(یعنی دیکھنے کی صلاحیت رکھنے والے)اسلامی بھائیوں کی آنکھوں پر بھی پٹیاں بندھی ہوئی ہیں۔ میں ان کو دیکھ کر قریب آیا تو دریافت فرمایا کہ آنکھوں پر پٹّی باندھنے کی کیا حکمت ہے؟ میں نے عرض کی :تاکہ ان اسلامی بھائیوں کو نابینا اسلامی بھائیوں کی مشکلات کا اِدراک ہوسکے ۔فرمایا: یہ پٹّی تو آنکھوں کے قفل مدینہ کے لئے بھی نہایت کار آمد ہے ، مجھے ایسی پٹی چاہئے۔ میں نے اپنی ذاتی پٹّی پیش کردی۔ فرمانے لگے : اس کی قیمت آپ کو لینی پڑے گی ۔ میں نے بہتیرا انکار کیا مگر انہوں نے فرمایا کہ آپ پیسے لیں گے تو ہی میں یہ پٹّی لوں گا۔میں نے مجبوراً رقم قَبول کرلی ۔پھر حاجی زم زم نے ہمارے درجے میں اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ کر بیان کیا اور نابینا اسلامی بھائیوں کی دلجوئی کرتے ہوئے فرمایا:میں نے بھی آنکھوں پر پٹی باندھ لی تاکہ مجھے بھی آپ کی مشکلات کا احساس ہوسکے ۔

اللہ     عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔  امین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                                                                 صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(۲۹) آنکھوں کے قفلِ مدینہ کی مَشْق کروایا کرتے

          زم زم نگر حیدر آباد(باب الاسلام سندھ) سے تعلق رکھنے والے مبلغِ دعوتِ اسلامی

 



Total Pages: 208

Go To