Book Name:Mahboob e Attar ki 122 Hikayaat

دعوتِ اسلامی کے اشاعَتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ کتاب’’پردے کے بارے  میں سُوال جواب‘‘ کے صَفْحہ 312پراس سُوال کے جواب میں کہ کیا گفتگو کرتے ہوئے نظر نیچی رکھنی ضَروری ہے؟امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ لکھتے ہیں کہ اِس کی صورَتیں ہیں مَثَلاً مَرْد کا مُخاطَب ( یعنی جس سے بات کر رہے ہیں وہ) اَمْرَد ہو اور اُس کو دیکھنے سے شَہْوت آتی ہو ( یا اجازتِ شَرْعی سے مرد اجنبیہ سے یا عورت اجنَبی مَرد سے بات کر رہی ہو )تو نظراس طرح نیچی رکھ کر گفتگو کرے کہ اُس کے چِہرے بلکہ بدن کے کسی عُضْوْ حتّٰی کہ لباس پر بھی نظر نہ پڑے۔ اگر کوئی مانِعِ شَرْعی(یعنی شَرْعی رُکاوٹ)نہ ہو تو مُخاطَب(یعنی جس سے بات کررہاہے اُس)کے چِہرے کی طرف دیکھ کر بھی گفتگو کرنے میں شَرْعاًکوئی حَرَج نہیں۔ اگر نگاہوں کی حفاظت کی عادت بنانے کی نیّت سے ہر ایک سے نیچی نظر کئے بات کرنے کا معمول بنائے تو بَہُت ہی اچّھی بات ہے کیوں کہ مُشَاہَدَہ یِہی ہے کہ فی زمانہ جس کی نیچی نگاہیں رکھ کر گفتگو کرنے کی عادت نہیں ہوتی اُسے جب اَمْرَد یا اَجْنَبِیَّہ سے بات کرنے کی نوبت آتی ہے اُس وَقت نیچی نگاہیں رکھنا اُس کیلئے سَخْت دشوار ہوتا ہے۔(پردے کے بارے میں سوال جواب،ص۳۱۲)

(۲۵) قُفْلِ مدینہ کا عینک

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!نگاہیں نیچی رکھنے کی عادت بنانے کے لئے قفلِ مدینہ کے عینک کا استعمال بے حد مُفید ہے، مَدَنی انعامات کے تاجدار ،محبوبِ عطّار حاجی زم زم رضاعطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الباری گناہوں سے آنکھوں کی حفاظت کے لئے

 



Total Pages: 208

Go To