Book Name:Mahboob e Attar ki 122 Hikayaat

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !     صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

اراکینِ شوریٰ کے تَأَثُّرات

         حاجی زم زم رضا عطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری کے وِصال کے وقت حسنِ اتفاق سے کئی اراکینِ شوریٰ باب المدینہ میں موجود تھے کیوں کہ ان کے مدنی مشورے چل رہے تھے ۔چنانچِہ مدنی مشورے میں مختلف زاویوں سے محبوبِ عطار رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ہکا خوب ذکرِ خیر ہوا ، اراکینِ شوریٰ نے ان کے بارے میں مختصرطور پر جو تأثُّرات دئیے وہ یہ تھے کہ٭  حاجی زم زم رضا عطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری مُتَحمِّل مزاج و ہمدردتھے ٭  ان میں خیر خواہی کا جذبہ تھا٭ سمجھانے کاانداز جارِحانہ نہیں بلکہ نرم ہوتا تھا ئبالخصوص اپنے شہر حیدر آباد کی بُزُرگ شخصیَّت تھے ٭ عوام سے گھلنے ملنے والے تھے ٭ عام شخص کا فون بھی رِسیو کرلیتے تھے ٭  فون پر بھی غم خواری کیا کرتے تھے   

 ٭عالَمی مَدَنی مرکزفیضانِ مدینہ باب المدینہ کراچی آتے تو کئی اسلامی بھائی ان کو دیکھ کر ملنے پَہُنچ جاتے اور دعاؤں کیلئے عَرْض کرتے ٭ مذاق مسخری سے دُور تھے ٭ سنجیدہ رہتے ٭ خوفِ خدا رکھنے والے تھے اور گناہوں کے ارتکِاب سے ڈرتے تھے  ۔

 اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !           صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

دیگراسلامی بھائیوں کے تَأَثُّرات

        مَدَنی انعامات کے تاجدار، محبوبِ عطارحاجی زم زم رضا عطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری  کے وصال کے بعد کثیر اسلامی بھائیوں نے ان کے بارے میں اپنے تَأَثُّرات مَدَنی چینل کو بھیجے ، ایسے ہی 14 تأثرات ملاحَظہ کیجئے : (جملوں میں حسبِ ضَرورت ترمیم کی گئی ہے)

٭  راولپنڈی(پنجاب) کے ایک اسلامی بھائی ارسلان قادری کا کہنا ہے :   ہمارا حُسنِ ظن ہے کہ رکنِ شوریٰ و محبوب عطار حاجی زم زم رضا عطاری علیہ رحمۃُ اللہ الباریبہت نیک وپرہیزگار اسلامی بھائی تھے، ہم مَدَنی چینل پر جب بھی انہیں دیکھتے تو وہ قفلِ مدینہ کی عینک لگائے رکھتے تھے اور یہ بہت اچھے انداز میں نیکی کی دعوت دیتے اور بہت اچھی زندگی گزاری اور اب مرحوم نگرانِ شوریٰ حاجی مشتاق عطاری اور مفتی ٔ دعوتِ اسلامی مفتی محمد فاروق عطاری رحمۃ اللہ تعالی علیہما کے پہلومیں دفن ہوئے ہیں ،

اللہ  تَعَالٰی کی ان پر رحمت ہو ان کے صدقے ہماری بے حساب مغفرت ہو، اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم۔

٭ ساہیوال(پنجاب ) کے ایک اسلامی بھائی محمد عرفان کا بیان ہے کہ حاجی زم زم رضا عطاری علیہ رحمۃُ اللہ الباری ہمارے عَلاقے میں بیان کے لئے تشریف لائے تھے۔جب بیان کے بعد ہم گاڑی پران کو مدینۃ الاولیاء ملتان چھوڑنے کے لئے جارہے تھے تو انہوں نے ہمیں امیر اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی بَہُت اچّھی چّھی باتیں بتائیں اور ہماری تربیت فرمائی، اللہ عَزَّ وَجَلَّ   ان کی مغفرت فرمائے، اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ۔

٭  مرکزالاولیاء (لاہور)کے ایک اسلامی بھائی عبدالقدیر عطّاری کا بیان ہے کہ باغِ عطّار کے گُلاب کے پھول(یعنی حاجی زم زم رضا عطّاری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ہ) کا اِس دنیا سے رخصت کا پُر کیف منظر دیکھاتو دل میں حسرت پیدا ہوئی کہ کاش مجھے بھی ایسی موت مل جائے۔

٭  سردار آباد(فیصل آباد) کے ایک اسلامی بھائی محمد شہباز عطاری کہتے ہیں :  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ   سے میری دُعا ہے کہ مجھے بھی حاجی زم زم رضا عطاری علیہ رحمۃُ اللہ الباری جیسا  مَدَنی انعامات کا عامل بنادے  ۔

٭  واہ کینٹ (پنجاب) کے اسلامی بھائی عبدالخالق عطّاری کا بیان ہے کہ مبلغِ دعوت اسلامی حاجی زم زم رضا عطاری علیہ رحمۃُ اللہ الباری کے غسل کے وَقْت (آنکھ کھول کر امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کودیکھنے والی) مَدَنی بہار نظر آئی توا ٓنکھیں اشکبار ہوگئیں اور دل میں یہ حسرت پیدا ہوئی کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ   ہم گنہگاروں کو بھی یہ سعادت نصیب فرمائے ، اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ۔

٭  باب المدینہ (کراچی )میں خصوصی اسلامی بھائیوں کے ذمّہ دار  اسلامی بھائی محمد وسیم عطاری کا بیان ہے کہ حاجی زم زم رضا عطاری علیہ رحمۃُ اللہ الباری کے ساتھ بہت وَقْت گزرا جس میں بہت کچھ سیکھنے کو ملا، آپ اتنے شفیق تھے کہ بیان کرنے کے لئے میرے پاس الفاظ نہیں ، بالخصوص آپ اسلامی بھائیوں کے ضائع ہونے کے مُعامَلے میں بَہُت زیادہ کڑھتے تھے اور ضِیاع سے بچانے کے لئے ہر ایک کو اپنامحبوب بناکر رکھتے تھے ، آپ بالخصوص آنکھوں کے قفلِ مدینہ کا بہت ذہن دیتے تھے ۔  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  ان کو اَعْلٰی عِلِّیِیْن میں جگہ عطافرمائے، اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ۔

٭ شفا انٹرنیشنل اَسپتال اسلام آبادکے نیوروسرجن ڈاکٹر شاہد عطّاری کا بیان ہے کہ : حاجی زم زم رضا عطاری علیہ رحمۃُ اللہ الباری یقینا ایک مخلص مبلّغ تھے ، انہوں نے زندگی کے کئی مُعامَلات میں میری رہنمائی فرمائی ، مرشد سے محبت اور اطاعت کا ذہن دیا ۔ ان کا اس دنیا سے چلے جانابہت بڑا المیہ ہے ،  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ   انکے درجات بلند فرمائے، اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ۔   

٭ زم زم نگر (حیدر آباد باب الاسلام سندھ ) مجلسِ مالیات کے ایک ذمّے دار اسلامی بھائی محمد شاہد عطّاری کا بیان ہے کہ محبوبِ عطّار رکنِ شوریٰ حاجی زم زم رضا عطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری  جب بھی مکتب میں تشریف لاتے تو نگاہیں جھکائے رکھنے ، دھیمی آواز میں بات کرنے اور فکرِ مدینہ کا ذِہْن دیا کرتے تھے۔

٭ زم زم نگر(حیدر آباد باب الاسلام سندھ )میں حفاظتی اُمور کے ایک اسلامی بھائی کا بیان ہے کہ حاجی زم زم رضا عطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری کو جب بھی دیکھا مُتَواضِع (یعنی عاجِزی کرنے والا )ہی پایا۔

٭  مدینۃ الاولیاء ملتان (پنجاب)کی ایک اسلامی بہن کا بیان ہے کہ مَدَنی چینل پر خصوصی مَدَنی مکالمے میں سیرتِ محبوب عطار حاجی زم زم رضا عطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری کے متعلق سن کر قلبی خوشی



Total Pages: 51

Go To