Book Name:Mahboob e Attar ki 122 Hikayaat

انعامات جو کہ نیک بنانے کے مَدَنی پھول اور نسخے ہیں ان کے سب سے بڑے داعی یہی تھے ۔ زبان کا قفلِ مدینہ ، آنکھوں کا قفلِ مدینہ نگاہوں کی حفاظت کے دعوتِ اسلامی کے سب سے بڑے داعی میرے حسنِ ظن کے مطابق یہی حاجی زمزم رضا تھے اور خود ان کے اندر بہت خوفِ خدا دیکھا جاتا تھا، اللہ کرے کہ ان کا کوئی نِعْمَ الْبَدَل ہمیں مل جائے، اللہ کی رحمت کے خزانے میں کوئی کمی نہیں ہے، یااللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   ان کو بے حساب بخش دے، میرے پیارے پیارے اللّٰہ! حاجی زمزم کو بے حساب بخش دے، یااللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   !تیری رحمت اس کے شاملِ حال نہ رہی تو بے چارہ کیا کرے گا! میرے مالک! اس نے بہت تکلیفیں اٹھائیں ، بہت بہت تکلیفیں اٹھائیں میرے مالک! ان تکالیف کو اِس کے گناہوں کا کفّارہ بنادے، ان تکالیف کو ان کے لیے ترقّیِ دَرَجات کا سبب بنادے، یااللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   ! ان کو فردوس اعلیٰ میں اپنے پیارے حبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا پڑوس دے دے ، ان کے بارے میں ہمارا حسنِ ظن ہے یہ تیرے نیک بندے تھے تیرے محبوب  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے عاشق تھے ، اس کے چاہنے والے تھے، ہمارا حسنِ ظن ہے کہ انہوں نے دین کی بے لوث خدمت کی ، ہمارے حسنِ ظن کی لاج رکھ لے، ان کو بخش دے، اے اللہ ! ان کی قبر خواب گاہِ بہشت بن جائے ، جنت کا باغ بن جائے ، ان کی قبر پررحمت و رضوان کے پھولوں کی بارشیں ہوجائیں ، یَااِلٰہَ الْعٰلَمِیْن! ان کی قبر تا حدِّ نظر وسیع ہوجائے ان کو گھبراہٹ نہ ہو وحشت نہ ہو ، قبر میں اکیلا پن نہ رہے تیرے حبیب کے جلوؤں سے ان کی قبر آباد رہے، یَااِلٰہَ الْعٰلَمِیْن! ان کے لواحقین اور پسماندگان کو صبر جمیل اور صبر جمیل پر اجر جزیل مرحمت فرما، اپنے محبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے صدقے میں ہم سب کا ایمان سلامت رکھ، ہمیں مدینے میں شہادت دے ایمان سلامت رکھ، محبوب کے جلووں میں موت دے، یااللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے صدقے میں ہماری یہ ٹوٹی پھوٹی دعاقَبول فرما ۔   اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !     صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

(۱۰۴)اِیصالِ ثواب کی ترغیب

        دعائے مغفرت کرنے کے بعدشیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے فرمایا :  ’’حاضِرین اور مَدَنی چینل کے ناظِرین سے مَدَنی التجا ہے کہ حاجی زمزم رضا کے لیے خوب خوب اِیصالِ ثواب فرمائیں ۔ قرانِ کریم کے تحفے ، درود پاک پڑھنے کے تحفے، مَدَنی قافلے (میں سفرکی نیَّتوں )کے تحفے ، مَدَنی انعامات پر عمل کرکے اس کے تحفے، ہمارے جامعات المدینہ ومدارس المدینہ بھی قرآن خوانیاں کرکے ہمیں جلدی جلدی اِیصالِ ثواب کے تحفے دیں ۔‘‘  اَلْحَمْدُلِلّٰہِ   عَزَّ وَجَلَّ ! امیراہلسنّت  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اسلامی بھائیوں اور اسلامی بہنوں نے حاجی زم زم رضا عطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری کو خوب خوب اِیصالِ ثواب کیا ، جس کی کچھ تفصیل آخری صفحات پر ملاحظہ کی جاسکتی ہے ۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !      صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

(۱۰۵)’’فیضانِ زم زم‘‘مسجد بنانے کی نیتیں

         شیخِ طریقت امیر اہلسنّت  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے حاجی زم زم رضا عطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری کے وصال کی خبرسنانے کے بعدمرحوم کے اِیصالِ ثواب کے لئے ’’مسجد فیضانِ زم زم ‘‘کے نام سے دنیا بھر میں مسجدیں بنانے کی ترغیب دیتے ہوئے کچھ یوں فرمایا : ’’میری خواہش ہے کہاللہ  کا کوئی نیک بندہ اٹھے اور اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   کے اس نیک بندے کی برکتیں لینے کے لیے ایک مسجد بنانے کی مجھے خوشخبری دے دے کہ وہ ’’فیضانِ زمزم ‘‘ نامی ایک مسجد بنادے گا، میں دعا کرتا ہوں کہاللہ  تَعَالٰی اُس کے لیے جنّت میں عالی شان محل عطا فرمائے، میں زم زم رضا سے بَہُتمَحَبّت کرتا رہا ہوں ، میرے دل کو بھی خوشی حاصل ہوگی۔‘‘ تو اسلامی بھائیوں نے آپ  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے باب المدینہ کراچی، مرکزالاولیاء لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی، نواب شاہ ، گوجرانوالہ، پاک پتن، عطار والا( بُورے والا)، خانیوال ، بلوچستان اوربیرون ملک ساؤتھ افریقہ ، سی لنکا وغیرہ میں مسجدیں بنانے کی ہاتھوں ہاتھ نیتیں کیں اور تادمِ تحریرملک وبیرونِ ملک تقریباً72مسجدیں بنانے کی نیتیں پیش کی جاچکی ہیں ، جن میں سے کم وبیش 40پلاٹ خرید لئے گئے اور تادمِ تحریر (یعنی ۱۲ محرم الحرام۱۴۳۴ھ میں )پانچ جگہ پر تعمیراتی کام بھی شروع ہوچکاہے ۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !        صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

پیٹ کی بیماری میں مرنے والا شہید ہے

        حاجی زم زم رضا عطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری کا انتقال پیٹ کی بیماری کی وجہ سے ہوا ہے ، اور پیٹ کی بیماری میں انتقال کرنے والے کو شہید قرار دیا گیا ہے ، چنانچہ حضرتِ سیِّدُناابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہسے روایت ہے کہ رسولِ اکرم ، نُورِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا :  تم کس کو شہیدسمجھتے ہو؟صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرضواننے عرض کی :  یارسولَاللّٰہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ! جوشخص اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی راہ میں قتل کیاجائے وہ شہید ہے ۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا : پھر تو میری امَّت کے شہداء بَہُت کم ہوں گے!صَحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرضوان نے عرض کی :  یارسولَاللّٰہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ! پھروہ کون لوگ ہیں ؟ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا : مَنْ قُتِلَ فِیْ سَبِیْلِ اللہ فَہُوَ شَہِیْدٌ وَمَن مَّاتَ فِی سَبِیلِ اللہ فَہُوَ شَہِیْدٌ وَمَن مَّاتَ فِی الطَّاعُوْنِ فَہُوَ شَہِیْدٌ وَمَن مَّاتَ فِی الْبَطْنِ فَہُوَ شَہِیْدٌ جوشخص راہِ خدا ( عَزَّ وَجَلَّ  )میں قتل کیا جائے وہ شہید ہے اور جو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی راہ میں مرجائے وہ شہید ہے اور جو طاعون کی بیماری میں مرجائے وہ شہید ہے اور جو ’’پیٹ کی بیماری ‘‘میں مرجائے وہ شہید ہے۔(صحیح مسلم، کتاب الامارۃ، باب بیان الشھداء ص۱۰۶۰، حدیث۱۹۱۴)

        شارِح مُسلِم حضرت امام یحییٰ بن شَرْف نَوَوِی علیہ رحمۃُ اللہ القویاِس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں : مَبْطُوْنسے مُراد پیٹ کی بیماری والاہے اوراس سے مراد دَست ہیں ۔علامہ قاضی عِیاض علیہ رَحمَۃُ اللہ الرزّاق نے فرمایا : اس سے مُراد اِسْتِسْقاء اورپیٹ کاپُھولناہے اوریہ بھی کہاگیاہے کہ اِس سے وہ شخص مراد ہے جوپیٹ کی کسی بھی بیماری میں فوت ہوا ہو(وہ شہیدہے) ۔

                                                                                                                                                            (شرح مسلم للنووی ج۷ جز ۱۳ص۶۲ دارالکتب العلمیۃ بیروت)

 



Total Pages: 51

Go To