Book Name:Mahboob e Attar ki 122 Hikayaat

کے حوالے سے ایک مرتبہ ایسی آزمائش آئی کہ مختلف ذمّے داران طرح طرح کی مجبوریوں اور رکاوٹوں کی وجہ سے اس شعبے میں فعّال نہ رہے اور یہ مَدَنی کام اپنی رونقیں کھونے لگا، میں اس صورت حال پر دل ہی دل میں کُڑھتا رہتا مگر امید کی کوئی کرن دکھائی نہ دیتی ، اسی ٹینشن میں ایک مرتبہ رات کے تین بج گئے مگر مجھے نیند نہیں آرہی تھی حتّٰی کہ میں نے سوچ لیا کہ بس اب صبح میں حاجی زم زم رضا عطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری ( جومرکزی مجلس شوری میں خُصوصی اسلامی بھائیوں کے نگران تھے) کو عرض کردوں گا کہ میں اب مزید یہ مَدَنی کام نہیں کرسکتا ۔حُسنِ اتِّفاق سے اُسی وَقت مجھے ان کاM.S..S  آپہنچا جس میں میری کسی کاوِش کے سلسلے میں حوصلہ افزائی کے الفاظ تھے کہ’’آپ نے میرے نگران (یعنی نگرانِ شوریٰ ) کی آنکھیں ٹھنڈی کیں اللہ  تَعَالٰی آپ کی آنکھیں ٹھنڈی کرے ۔‘‘میں دل ہی دل میں شرمندہ ہوا کہ میں یہاں مَنْع کرنے کی سوچ بناچکا ہوں مگر یہ تو میری حوصلہ افزائی فرما رہے ہیں ۔بہرحال میں نے جوابی S.M.S. میں ان کا شکریہ ادا کیا میر ی بیداری پر مُطَّلع ہو کر انہوں نے مجھے فون کیا اور میری دل جوئی کی کہ خیریت تو ہے آپ آج رات گئے تک جاگ رہے ہیں !پھر مجھ پر دیگر شفقتیں بھی فرمائیں اور روز مرّہ کے جَدْوَل کے حوالے سے مفید مشورے بھی دئیے۔اب میں کیونکر مَدَنی کام سے انکار کرسکتاتھا لہٰذا میں نے اپنا فیصلہ خود ہی بدل دیا،  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ   کے فضل وکرم سے تمام رُکاوٹیں ایک ایک کر کے ہٹتی چلی گئیں اور خُصُوصی اسلامی بھائیوں میں مَدَنی کام کی دھومیں مچنا شُروع ہوگئیں  ۔ بابُ الاسلام سطْح کے سنّتوں بھرے اجتماع میں خُصُوصی اسلامی بھائیوں کے لئے الگ سے مکتب بنانے کی ترکیب ہوئی جس میں انہیں تمام بیانات اشاروں کی زَبان میں سنائے گئے ، اَلْحَمْدُلِلّٰہِ   عَزَّ وَجَلَّ ! حاجی زم زم رضا عطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ البارینے اِس حوالے سے بھی بَہُت شفقتیں فرمائیں اور آخِری نِشَست میں ’’ ذکرُاللہ ‘‘اشاروں سے کروانے کی ترکیب بنائی ۔اللہ   تَعَالٰی ان کو جزائے خیر دے ۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !        صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

(۹۱) استِقامت کا مَدَنی نُسخہ

        مرکزالاولیاء(لاہور) کے ایک ذمّے دار اسلامی بھائی محمد اجمل عطّاری  کا بیان ہے کہ مَدَنی انعامات کے تاجدار ، محبوبِ عطّارحاجی زم زم رضاعطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری نے مجھے بتا یا تھا کہ ایک بار میں نے باپا جان کی خدمت میں عرض کیا کہ اسلامی بھائی مدنی ماحول میں آتے ہیں پھر ٹوٹ جاتے ہیں ، کوئی ایسا طریقہ ارشاد فرمادیں کہ مَدَنی ماحول میں استِقامت مل جائے! تو آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے جو کچھ فرمایا اُس کا خلاصہ یہ ہے کہ جو یہ چاہتا ہے کہ مجھے مَدَنی ماحول میں استِقامت مل جائے تو اُسے چاہیے کہ اپنے کان ، آنکھ اورزَبان بند کرکے اپنے کام میں لگا رہے یعنی اپنے کام سے کام رکھے۔پھر اس کی وَضاحت فرمائی کہ اگر کوئی ذَیلی مشاوَرت کانگران ہے تو وہ یہ نہ دیکھے کہ میرانگرانِ حلقہ مُشاورت کیا کررہا ہے، وہ اپنے حلْقے میں آجارہا ہے یا نہیں ؟ اگر کوئی حلقہ نگران ہے تو وہ یہ نہ دیکھے کہ میرا عَلاقائی نگران کیا کررہا ہے؟ اِسی طرح اگر کوئی عَلاقائی نگران ہے توو ہ اپنے ڈویژن نگران کو نہ دیکھے کہ وہ جَدْوَل چلارہا ہے یا نہیں ؟ فُلاں عَلاقے یا حلقے میں یہ مسئلہ ہوگیا!اِدھر یہ ہوگیا اُدھر وہ ہو گیا!یاد رکھیے! اس بات کودیکھنا، اس کو چیک کرنا یہ ہماری ذمّے داری نہیں بلکہ ہمیں جو ذمّے داری دی گئی ہم سے اس کا حساب ہوگا لہٰذا اپنے کام میں لگے رہیں ۔ہاں ! کسی جگہ دین کا نقصان ہوتا دیکھیں تو تنظیمی ترکیب کے مطابق مسئلہ حل کریں مگر ہر گز ایک دوسرے پر اظہار نہ کریں کہ نگران صاحب تو سنتے ہی نہیں یہ تو کسی کی مانتے ہی نہیں ! وغیرہ کہ اِس طرح غیبتوں ، تہمتوں اور بدگمانیوں کا دروازہ کُھل سکتا ہے ۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !       صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

(۹۲)جب محبوب عطار کو علاقائی نگران سے ذیلی نگران بنایا گیا

        حیدر آباد (باب الاسلام سندھ )کے اسلامی بھائی کا بیان ہے کہ بہت عرصہ پہلے کی بات ہے کہ حاجی زم زم رضا عطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری  ہمارے علاقائی نگران ہوا کرتے تھے  ۔ اس وَقْت ہمارا علاقہ 125سے زائد مساجد پر مشتمل تھا ۔ ایک مَدَنی مشورے میں تنظیمی ترکیب تبدیل ہوئی تو حاجی زم زم رضا عطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری کو صرف ایک مسجد کا ذیلی نگران بنادیا گیا ۔جب ہم مَدَنی مشورے سے واپس  آرہے تھے ، حاجی زم زم رضا عطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری نے اپنے مُثْبَت جذبات کا اظہار ان الفاظ میں کیا کہ اگر میرا مَدَنی مرکز مجھے ایک مسجد تو کیا صرف ایک گھرمیں مَدَنی کام کرنے کی بھی ذمّے داری دے تو میں اس گھرمیں مَدَنی کام کرتا رہوں گا  ۔ حیدر آباد کے ہی ایک اور اسلامی بھائی کا بیان ہے کہ حاجی زم زم رضا عطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری فرمایا کرتے تھے کہ بِالفرض میرا ذمّے دار مجھے لات بھی مارے تو میں جہاں جا کر گروں گا وہیں پر مَدَنی کام شُروع کردوں گا۔الغرض محبوبِ عطار رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ مَدَنی مرکز کی اطاعت کے حوالے سے بڑا مضبوط ذِہْن رکھتے تھے ۔

اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !     صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

(۹۳)انوکھی آرزو

        مجلس مکتوبات وتعویذات عطاریہ (دعوتِ اسلامی)کے ایک ذمّے دار اسلامی بھائی کا بیان ہے کہ مَدَنی انعامات کے تاجدار ، محبوبِ عطّارحاجی زم زم رضاعطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری مجھ سے فرماتے تھے کہ ’’میری خواہش یہ ہے کہ مجھے دنیا میں کوئی نہ جانتا ہو، بس میں ہوں اور میرا پیر، بس مرشد مجھ سے راضی رہیں ۔ میں ان کو چھپ چھپ کر دیکھتا رہوں ۔‘‘اس اسلامی بھائی کا مزید بیان ہے کہ 1998ء میں سفرِ ہند میں محبوبِ عطّار کی رفاقت ملنے سے قبل میری آرزو یہ تھی کہ بڑے بڑے تمام نگرانوں سے میرے رابطے ہوں ، سب مجھے جانتے ہوں ، میری تعریف کریں ، میرا خوب چرچا ہو، شہرت ملے! الغرض حُبِّ جاہ کا مرض عروج پر تھا ۔ ان کی صحبت نے میری یہ سوچ یکسر بدل دی ، انہوں نے مجھے حُبِّ جاہ کی آفات بتائیں جس سے میرا یہ ذِہْن بنا کہ مَدَنی کاموں کی



Total Pages: 51

Go To