Book Name:Mahboob e Attar ki 122 Hikayaat

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !  صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

(۸۷)کبھی کبھار خوش طَبْعی بھی فرماتے

        مرکزالاولیاء(لاہور)کے اسلامی بھائی محمد اجمل عطّاری کا بیان ہے کہ محبوبِ عطّارحاجی زم زم رضاعطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری اگرچِہ سنجیدہ اور زَبان وآنکھ کے قفلِ مدینہ کے زبردست عامِل تھے مگر حسبِ ضَرورت وحسبِ موقع خوش طبعی بھی فرماتے تھے ، یِہی وجہ ہے کہ ان کی صحبت میں رہنے والا بور نہ ہوتا تھا ۔ بعض اوقات میں ان کو فون کرتا تو ان کے تینوں بچّوں کے نام لے کر یوں مخاطب کرتا :  یَا اَبَاالْجُنَیْدِ وَالْجِیْلَانِ وَ الْاُسَیْدِ کَیْفَ الْحَال ، (یعنی ا ے جُنید،  جِیلان اور اُسید کے ابُّو! کیا حال ہے؟) تو بہت خوش ہوتے۔ایک بارمیں نے جب صرف یہ کہا :  یَا اَبَاالْجُنَیْدِ وَالْجِیْلَانِ! تو جواباً فرمایا :  کیوں بھائی !آپ نے ہمارے تیسرے مُنّے کا نام کیوں نہیں لیا ؟ ہمارے اُسَید رضا کو کیوں چھوڑ دیا۔میں ان کی بات پر مسکرا دیا۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !        صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

(۸۸)بات نہ ماننے پر ناراض نہیں ہوئے

        زم زم نگرحیدرآباد (باب الاسلام سندھ) کے اسلامی بھائی ارسلان احمد عطّاری کا بیان ہے کہ جب میں مَدَنی مرکز فیضانِ مدینہ حیدرآباد کے ایک مکتب میں کمپیوٹر آپریٹر مقرَّر ہوا ۔ میرا پہلا دن تھاجب میں ظہر کی نماز پڑھ کر مکتب میں پہنچا تو محبوبِ عطّار رکنِ شوریٰ حاجی زم زم رضا عطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری کسی کام سے کمپیوٹر کے پاس ایک کرسی پر بیٹھے تھے ۔مجھ سے ارشاد فرمایا :  مجھے کمپیوٹر کا پاس ورڈ (password) بتادیجئے ۔ اس وَقْت میں انہیں پہچانتا نہیں تھا چنانچِہ میں نے عرض کی : چونکہ میں آپ سے ناواقِف ہوں ، آپ کی ذمّے داری بھی نہیں جانتا اِس لئے پاس ورڈ دینے سے معذِرت خواہ ہوں ، ہاں ! اگر کسی ذمّے دار اسلامی بھائی سے کہلوا دیں تو میں آپ کوپاس ورڈ پیش کردوں گا۔وہ اس پر ذرا بھی ناراض نہ ہوئے اور خود اپنا تعارُف کروانے کے بجائے فرمایا :  مجھے کِن سے اجازت دلوانی ہے؟ میں نے اُس اسلامی بھائی کا نام اور ان کا مکتب بتا دیا  ۔ محبوبِ عطّارحاجی زم زم رضا عطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری اُسی وَقْت اٹھے اور ذمّے دار اسلامی بھائی کے ہمراہ چند ہی لمحوں میں واپَس تشریف لے آئے تو مجھے ذمّے دار اسلامی بھائی نے محبوبِ عطّار رکن شوریٰ حاجی زم زم رضا عطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری کا تعارُف کروایا اور میں نے انہیں ’’ پاس وَرڈ‘‘ بتادیا ۔ میں نے بعد میں ان سے معذِرت کی : میں آپ سے نا واقفِیَّت کی وجہ سے شاید بد تمیزی کر بیٹھا ہوں ، تو محبوبِ عطّار رکن شوریٰ حاجی زم زم رضا عطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری نے ارشاد فرمایا :  آپ کو معذِرت کی ضَرورت نہیں ، یہ آپ کی ذمّے داری ہے کہ آپ کسی بھی انجان اسلامی بھائی کو اپنا کمپیوٹر استِعمال نہ کرنے دیں ۔پھر مجھے کافی عرصہ ان کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا ، وہ جب بھی ملتے مسکراکر ملتے  ۔ انہوں نے مجھے بَہُت شفقت دی  ۔  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی محبوبِ عطار رکن شوریٰ حاجی زم زم رضا عطاری پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو ۔

  اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !      صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

ان کی صحبت میں تاثیر تھی

        حیدر آباد (باب الاسلام سندھ ) کے اسلامی بھائی محمد انیس عطّاری کا بیان ہے کہ ان کی صحبت میں بڑی تاثیر تھی ، ان کی صحبت میں رہنے والا بھی عاشِقِ عطّار بن جایا کرتا تھا ۔ مجھے طویل عرصہ ان کی صحبتِ بابرکت میں رہنے کا موقع ملا ، پھر میں نے باب المدینہ کراچی میں رِہائش اختیار کرلی، تادمِ تحریر تقریباً12سال ہوگئے لیکن میری ذات پر ان کی نیک صحبت کے اثرات آج بھی باقی ہیں ۔

اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !   صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

(۸۹)رِکشا ڈرائیور پرانفرادی کوشش

        اَ لْحَمْدُ للّٰہ عَزَّ وَجَلَّ ! حاجی زم زم رضا عطاری علیہ رحمۃُ اللہ الباریسفر وحضر میں انفرادی کوشش کیا کرتے تھے چنانچہ مجلس مکتوبات وتعویذاتِ عطاریہ کے ایک ذمّے دار اسلامی بھائی محمد صداقت عطّاری کا بیان کچھ اس طرح سے ہے کہ حیدر آباد میں ایک مرتبہ حاجی زَم زَم رضا عطاری علیہ رحمۃُ اللہ الباریکے ہمراہ کہیں جانے کی سعادت حاصل ہوئی ، دورانِ سفر رِکشا ڈرائیور پر انفِرادی کوشش فرمائی اور اس کانام شیخِ طریقت امیراہلسنّت  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ سے مُرید کروانے کے لئے لے لیا ، پھر ڈرائیور نے کچھ مسائل بیان کئے، اس پر حاجی زم زم رضا عطاری علیہ رحمۃُ اللہ البارینے انہیں مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ رسالے، ’’ 40روحانی علاج‘‘ میں سے کچھ وظائف پڑھنے کے لئے دیئے اور ان کا فون نمبر بھی لے لیا ۔ کچھ دنوں کے بعد جب حاجی زم زم رضا عطاری علیہ رحمۃُ اللہ الباری نے ڈرائیور کو غم خواری کے لئے فون کیا تو ڈرائیور ان کے اس انداز سے بڑا متأثِّر ہوا اور اس نے کئی اچّھی اچّھی نیَّتیں بھی کیں ۔

اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !    صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

(۹۰) بروَقْت حوصلہ افزائی

         مَدَنی چینل کے شعبے میں خدمات انجام دینے والے اسلامی بھائی غلام شبیر عطّاری کا بیان ہے کہ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ   عَزَّ وَجَلَّ ! مجھے طویل عرصہ خُصُوصی یعنی گونگے بہر ے اسلامی بھائیوں کے شعبے میں مَدَنی کام کرنے کی سعادت حاصل رہی ہے ، یہ اُن دنوں کی بات ہے جب میں پاکستان انتظامی کابینہ میں شُعبۂ خصوصی اسلامی بھائی کا خادِم(نگران) تھا ، خصوصی اسلامی بھائیوں کے مَدَنی کام



Total Pages: 51

Go To