Book Name:Mahboob e Attar ki 122 Hikayaat

         مجلسِ مکتوبات و تعویذاتِ عطاریہ باب الاسلام سندھ پاکستان کے رُکن مبلِغِ دعوتِ اسلامی محمد صداقت عطّاری کابیان کچھ یوں ہے کہ میں حیدر آباد میں فرنیچر کی دکان پر کام کرتا تھا اور دعوتِ اسلامی کا مَدَنی کا م بھی کیا کرتا تھا ۔اکثر حاجی زم زم رضا عطاری علیہ رحمۃُ اللہ الباریکی آتے جاتے زیارت ہوتی، یہ بائیک نہیں چلاتے تھے ، رِکشے میں جاتے چپل اتار کربیٹھتے ، کیوں کہ جب بھی کہیں بیٹھیں توجوتے اُتار لینے چاہئیں کہ  اِس سے قدم آرام پاتے ہیں ، نیز قفلِ مدینہ کا عینک بھی لگائے رہتے۔ایک بار اپنے گھر کا دروازہ بنوانے ہماری دکان پر آئے تو ان سے مختصر ملاقات کی سعادت ملی۔کچھ دنوں کے بعد حاجی زم زم رضا کی خواہش پر مدنی مرکزفیضانِ مدینہ (حیدرآباد)کے تعویذاتِ عطاریہ بَستہ ذِمّے دار نے میرا ذِہْن بنایا کہ میں فیضانِ مدینہ میں مریضوں کیلئے پلیٹیں لکھنے کی ذِمّے داری قبول کر لوں  ۔ اَلْحَمْدُللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ ! یوں مجھے فیضان مدینہ میں مکتوبات وتعویذاتِ عطاریہ کے مکتب میں خدمت کی سعادت حاصل ہوئی اورمحبوبِ عطار حاجی زم زم رضا عطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری کی بالواسطہ انفرادی کوشش کی برکت سے مکتوبات وتعویذات عطاریہ (حیدرآباد) کے مکتب میں رہتے ہوئے دُکھیاروں کی خیرخواہی کرنے لگا اور آج پاکستان سطح کی مجلسِ مکتوبات وتعویذات کا رُکْن ہوں ۔ اللہ تبارکَ وَ  تَعَالٰی دعوتِ اسلامی اورشیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی غلامی پر عافیت کے ساتھ استِقامت عطا فرمائے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !  صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

(۸۵)غریبوں کا دل خوش کیا

        رحیم یار خان (پنجاب ، پاکستان) کے اسلامی بھائی محمد اسلم عطّاری کا بیان ہے کہ رُکن شوریٰ حاجی زم زم رضا عطاری علیہ رحْمۃُ اللہ الباری ایک مرتبہ ہمارے عَلاقے میں مَدَنی مشورے کے لئے تشریف لائے تھے ۔ مشورے کے بعد روانگی میں کچھ وَقْت تھاتو انہوں نے ہم سے فرمایا : مجھے ایسے غریب اسلامی بھائیوں کے گھروں پر ملاقات کے لئے لے چلئے جن کے گھر وں پرعُمُوماً لوگ نہیں جایاکرتے ۔جب ہم ان اسلامی بھائیوں کے گھروں پر پہنچے تو وہ حیران رہ گئے کہ مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رُکن ، مَدَنی انعامات کے تاجدار محبوب عطّار حاجی زم زم رضا عطاری علیہ رحمۃُ اللہ الباری ہمارے گھر تشریف لائے ہیں اور بہت خوشی کا اظہار کیا  ۔ آ پ نے انہیں مختلف مَدَنی پھول ارشاد فرمائے اوران پر انفرادی کوشش کرکے اچھی اچھی نیتیں بھی کراوئیں ۔ جب ان اسلامی بھائیوں کو حاجی زم زم رضا عطاری علیہ رحمۃُ اللہ الباری کے انتقال کی خبر ملی تووہ بے اختیار رونے لگے کہ ایسے شفیق اور غریب پَرْوَر اسلامی بھائی دنیا سے رخصت ہوگئے ہیں ۔اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ    انکے مزار پر کروڑوں رحمتوں کا نزول فرمائے اور انکے درجات بلند فرمائے اور انکے نقش قدم پر چلتے ہوئے مرشد کریم کی اطاعت کرنے کی توفیق عطافرمائے ۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !  صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

مسلمان کے دل میں خوشی داخل کرنے کا انعام

        کسی کے دل میں خوشی داخل کرنا بہت آسان مگر اس کا اِنعام کتنا شاندار ہے ، اس کا اَندازہ درجِ ذیل روایت سے لگائیے :  چنانچہ نبیٔ رحمت، شفیعِ اُمت، قاسم نعمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے اِرشاد فرمایا : ’’ جو شخص کسی مؤمن کے دل میں خوشی داخل کرتاہے اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ    اس خوشی سے ایک فرشتہ پیدا فرماتاہے جو  اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ    کی عبادت اورذِکْر میں مصروف رہتاہے ۔ جب وہ بند ہ اپنی قَبْر میں چلا جاتاہے تو وہ فرشتہ اس کے پاس آکر پوچھتاہے : ’’کیا تو مجھے نہیں پہچانتا؟ ‘‘وہ کہتا ہے :  ’’ تُو کون ہے ؟‘‘ تو وہ فرشتہ جواب دیتاہے :  ’’میں وہ خوشی ہوں جسے تونے فُلاں کے دل میں داخِل کیا تھا ، آج میں تیری وحشت میں تجھے اُنس پہنچاؤں گا اور سوالات کے جوابات میں ثابت قدم رکھوں گا اور تجھے روزِ قیامت کے مناظر دکھاؤں گا اور تیرے لئے تیرے رب  عَزَّ وَجَلَّ   کی بارگاہ میں سفارش کروں گا اور تجھے جنّت میں تیرا ٹھکانادکھاؤں گا۔‘‘

(التر غیب والترھیب ، کتاب البر والصلۃ ، باب الترغیب فی قضاء حوائج المسلین ، ۳ /  ۲۶۶، الحدیث۲۳)

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یہ فضیلت اُسی وَقْت حاصل ہوسکے گی جب وہ خوشی عین شریعت کے مطابِق ہو چُنانچِہ اگر عورت نے شوہرکو خوش کرنے کے لئے بے پردَگی کی یا بیٹے نے باپ کو خوش کرنے کے لئے داڑھی منڈا دی یا ایک مٹھّی سے گھٹا دی تو وہ اس فضیلت کا ہرگز حقدار نہیں ہوگا بلکہ عذابِ نارکاحقدار ہوگا۔ہم اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   کے غضب سے پناہ مانگتے ہیں اور اس سے رحمت کا سُوال کرتے ہیں ۔

کسی کے دل میں خوشی داخِل کرنے والے 9 کام

        ٭ کسی پیاسے کو پانی پلا دینا٭ کسی بھوکے کو کھانا کھلادینا٭ کوئی دُعا کے لئے کہے تو ہاتھوں ہاتھ اُس کے لئے دُعا کر دینا٭ ضرورت مند کی مدد کرنا ٭ حاجت مند کوقَرْض دے دینا٭ پسندیدہ چیز کھلانا ٭ اہم مواقِع پر تحفہ دینابلکہ مطلقاًتحفہ دینا٭ مظلوم کی مدد کرنا ٭ دورانِ سفر بیٹھنے کے لئے دوسروں کو جگہ دے دینا۔

رہیں بھلائی کی راہوں میں گامزن ہر دم

                کریں نہ رُخ مِرے پاؤں گناہ کا یارب  (وسائل بخشش، ص۹۷)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !    صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

(۸۶)دعوتِ اسلامی کے ذِمّے داران کے لئے لائقِ تقلید

        بدین (باب الاسلام سندھ پاکستان)کے اسلامی بھائی بلال رضا کا بیان ہے کہ حاجی زمزم علیہ رَحمَۃُ اللہ الاکرمکی ایک خاص بات یہ تھی کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِوَقْت پر مَدَنی مشورہ شروع کرتے اور وَقْت پر خَتْم کردیتے  ۔ جب ہم انہیں ایس ایم ایس یا کال کرتے تو فوراً جواب دیتے ، اگر کبھی ہاتھوں ہاتھ جواب نہ دے پاتے تو بعد میں ان کا  S.M.S آتا کہ میں اجتماع یا مشورے میں تھا معذِرت !یہ عادت ہم نے دیگر اسلامی بھائیوں میں بَہُت کم دیکھی ۔اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔

 



Total Pages: 51

Go To