Book Name:Mahboob e Attar ki 122 Hikayaat

عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہ الغفّار حیدر آباد سے قافلے کی صورت میں شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ سے ملاقات کے لئے آیا کرتے تھے لیکن امیرِ اہلسنّت  دامت برکاتہم العالیہ کے سامنے بیٹھنے والے اسلامی بھائیوں میں تشریف فرما نہیں ہوتے تھے بلکہ ہم ان کو ڈھونڈتے تو یہ کسی ستون کے پیچھے بڑے باادب انداز میں کھڑے ہوتے اور چھپ چھپ کر شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہکی زیارت کیاکرتے ۔ان کے ساتھ رہنے والا بھی باپا کا عاشق بن جاتا تھا ، یہ گویا اس کو عشقِ مُرشِد گھول کر پلا دیا کرتے تھے ۔ میراحسنِ ظن ہے کہ ان کو یہ بلند مقام مُرشِد سے محبت کے صدقے میں ملا ہے ۔

اللہ     عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔  امین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                                                                      صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(۱۲) عیدیں اور بڑی راتیں باپا کی صُحبت میں گزارتے

           حاجی زم زم رضا عطاری علیہ رحمۃُ اللہِ الباری کو شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت  دامت برکاتہم العالیہ کی صحبت میں رہنے کی بڑی تمنا ہوتی تھی چنانچِہ یہ عید الفطر، عیدالاضحی باپا کے ساتھ گزارتے ، ربیع الاول شریف میں باپا کے ساتھ جشنِ ولادت مناتے اور جلوسِ میلاد میں شریک ہوتے ،شبِ براء ت، شبِ معراج اور 26رَمَضان کوباپا کے یومِ ولادت پر یہ عُمُوماًامیرِ اہلسنّت  دامت برکاتہم العالیہ کے قُرب کی برکتیں لُوٹتے تھے ۔چنانچہ مبلغِ دعوتِ اسلامی ورکن شوریٰ،حاجی ابو رضا، محمد علی عطاری مدظلہ العالی کا

 

 



Total Pages: 208

Go To