Book Name:Mahboob e Attar ki 122 Hikayaat

کے لئے مختلف اسلامی بھائیوں نے فون کئے مگر سب سے زیادہ فون حاجی زم زم رضا عطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری نے کئے ۔

اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !     صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد   

(۷۲)فرض عُلُوم کورس کے طالبِ علم کی عِیادت

        عطّار نگر(ننکانہ پاکستان)کے اسلامی بھائی زاہِد عطّاری کا بیان کچھ یوں ہے کہ میں ۱۴۳۳ھ میں عالَمی مَدَنی مرکز فیضانِ مدینہ بابُ المدینہ کراچی میں ہونے والے ’’فرض عُلوم کورس‘‘ میں شریک تھا کہ میری طبیعت خراب ہوگئی اور مجھے فیضانِ مدینہ کے مُستَشْفٰی(اسپتال) میں داخل کر لیا گیا تو حاجی زم زم رضا عطاری علیہ رحمۃُ اللہ الباری میری عیادت کے لئے تشریف لے آئے  ۔ میں اپنی خوش نصیبی پر جھوم اٹھا، اگلے دن پھر تشریف لائے اور میری عیادت ودلجوئی کی  ۔ مجھے ان کا مریض کی عیادت والے مَدَنی انعام پر عمل کرنابہت اچھا لگا ۔اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   حاجی زم زم رضا عطاری کو جنت الفردوس عطا فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !         صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

(۷۳)پرانے رفیق کی عِیادت

        زَم زَم نگرحیدر آباد (باب الاسلام سندھ )کے اسلامی بھائی محمد انیس عطّاری کا بیان ہے کہ مجھے طویل عرصہ محبوبِ عطّارحاجی زم زم رضا عطاری علیہ رحمۃُ اللہ الباری کی صحبت میں رہنے کا شَرَف حاصل ہے ، بعض اوقات میں اپنے گھریلو مُعامَلات کی وجہ سے شدید پریشان ہوجاتا تو یہ میری ڈھارس بندھایا کرتے تھے ، میں نے ان کو بَہُت باعمل پایا ۔ پھر میں نے رِہائش کہیں اور منتقِل کرلی ، یوں تقریباً10سال ان کا قُرب نہ پاسکا ۔ اکتوبر 2011میں میرا حیدر آباد میں آپریشن ہوا تو حاجی زم زم رضا عطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری میری عیادت کے لئے اَسپتال پہنچے لیکن میں گھرمیں شفٹ ہوچکا تھا ، میں نے فون پر ان سے درخواست کی کہ آپ بَہُت مصروف ہوتے ہیں آنے کی زحْمت نہ فرمائیں ، آپ کا فون کردینا ہی کافی ہے لیکن یہ میری عیادت کے لئے کافی دُور گھر پر آگئے ، بعد میں بھی کئی مرتبہ تشریف لائے جس سے میرا دل بہت خوش ہوا ۔

اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !       صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

(۷۴)سَحَری پیش کی

        کویت میں مقیم ایک اسلامی بھائی ۱۴۳۳ ھ کے رَمَضانُ الْمبارَک میں ہونے والے اجتماعی اعتِکاف میں شریک ہونے کے لئے دعوتِ اسلامی کے عالَمی مَدَنی مرکز فیضانِ مدینہ باب المدینہ (کراچی) آئے ۔ بیماری کی وجہ سے انہیں مستشفیٰ میں داخل ہونا پڑا، جہاں محبوبِ عطار حاجی زم زم رضا عطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری بھی داخل تھے  ۔ اس اسلامی بھائی کا کچھ یوں بیان ہے کہ جب رات کو میری طبیعت ذرا سنبھلی اور میری آنکھ کھلی تو دیکھا سَحَری کا وَقْت بہت کم رہ گیا تھا  ۔ حاجی زم زم رضا عطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری بیدار ہوئے اور مجھے پریشان دیکھ کر قریب آئے ، میرا حال احوال دریافت کرنے پر جب انہیں پتا چلا کہ میں سحری کے حوالے سے تشویش میں ہوں تو اپنے پاس موجود بسکٹ ، جوس اور سلائس وغیرہ میرے پاس لے آئے اور سحری کے لئے پیش کردئیے، میں نے بُہتیرا منع کیا مگر ان کے مَحَبَّت بھرے اصرار پر مجھے وہ چیزیں لینی پڑیں ، یوں حاجی زم زم رضا رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے بیماری کی حالت میں بھی میری خیرخواہی فرمائی  ۔

اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !    صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

(۷۵)اپنا لِحاف مجھے پیش کردیا

        مجلسِ خُصوصی اسلامی بھائی کے ایک ذمّے دار اسلامی بھائی محمد یاسِر عطاری کے بیان کا لُبِّ لُباب ہے کہ ایک مرتبہ بابُ الاسلام (سندھ پاکستان)سے مرکز الاولیاء ملتان شریف(پنجاب پاکستان)میں مَدَنی مشورے میں حاضری ہوئی ، مَدَنی مشورے کے اختِتام پر محبوبِ عطّار رکن شوریٰ حاجی زم زم رضا عطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری نے مجھ سے دریافت فرمایا :  آپ اپنا بچھونا ساتھ لائے ہیں ؟ میں نے نَفی میں جواب دیا ۔اِصرار کر کے فرمانے لگے : آپ میرا لِحاف لے لیجئے۔اس کے علاوہ بھی ان کی دیگر شفقتوں نے مجھے بہت متأثر کیا ، وہ دن اور آج کا دن ہے میں خُصوصی اسلامی بھائیوں میں مَدَنی کاموں کی دُھومیں مچانے میں مصروف ہوں ۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !          صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد   

(۷۶)جامِعۃُ الْمدینہ کے طالبُ العلم کی خیرخواہی

         جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ آفندی ٹاؤن حیدرآبادکے ایک طالب العلم کا بیان کچھ یوں ہے کہ میں جامعۃ المدینہ کے امتحان دے رہا تھا کہ اچانک میرا بلڈ پریشر Low ہوگیاجس پر میں استاذ صاحب سے اجازت لے کر جوس وغیرہ لینے کے لئے فیضان مدینہ کی سیڑھیوں سے اُتر رہا تھا کہ محبوبِ عطّار حاجی زم زم رضا عطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری تشریف لاتے ہوئے نظر آئے ۔ انہوں نے میری خیریت دریافت کی تو میں نے انہیں بتایا کہ میرا بلڈ پریشرLowہورہا ہے ۔ انہوں نے فرمایا :  آپ باہَر نہ جائیں بلکہ جامِعہ میں جاکر آرام کر لیں میں کچھ کرتا ہوں ۔میں حسبِ ارشاد جامعہ میں آرام کرنے کے لئے چلا گیا۔تھوڑی ہی دیر بعد حاجی زم زم رضا عطاریعلیہ رحمۃُ اللہ الباری نے جوس اور گلوکوز منگوا کر مجھے بھیجا جو میں نے پی لیا ۔پھر آپ خود میری عیادت کے لئے تشریف



Total Pages: 51

Go To