Book Name:Mahboob e Attar ki 122 Hikayaat

عطاری علیہ رحمۃُ اللہ الباری کی ملاقات ہوئی توآپ کی نظر ان کے چہرے پر پڑی ، فرمایا :  ’’ آپ کے چہرے سے ایسا لگتا ہے کہ رات آپ کو بہت اچّھی زیارت ہوئی ہے ۔‘‘ وہ اسلامی بھائی حیران ہوگئے اور جواب دیا :  اَلْحَمْدُللّٰہ  عَزَّ وَجَلَّ ! مجھے رات حُضور غوث پاک  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکی زیارت ہوئی ہے ۔

اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔  اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !         صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد   

(۶۸)مَرَضُ الْموت میں بھی دوسرے مریض کی دلجوئی

        امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے عطا کردہ نیک بننے کے نُسخے  ’’مَدَنی اِنعامات‘‘ میں سے ایک مَدَنی اِنعام مریض کی عِیادت کابھی ہے اوربیمار کی عِیادت کرنا بھی بڑے اجروثواب کا کام ہے، حضرتِ سیِّدنا عبدُاللہ بن عمر اور حضرتِ سیِّدناابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مَروِی ہے :  جس نے مریض کی عِیادت کی اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   اس پر پَچَھتَّرہزار ملائکہ کے ذَرِیعے سایہ فرمائے گا اور گھر واپَس آنے تک اسکے ہرقدم اٹھانے پر اس کے لئے ایک نیکی لکھی جائے گی اور اس کے ہر قدم رکھنے پر اس کا ایک گناہ مٹادیا جائے گا اورایک دَرَجہ بلند کیا جائے گا، جب وہ مریض کے ساتھ بیٹھے گا تورحمت اسے ڈھانپ لے گی اور اپنے گھر واپس آنے تک رحمت اسے ڈھانپے رہے گی ۔(التر غیب والتر ھیب حدیث۱۳، ج۴ ، ص۱۶۵)

 مَدَنی انعامات کے تاجدار ، محبوبِ عطّارحاجی زم زم رضاعطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباریثواب کے حریص تھے ، جب بھی کسی مریض کی عیادت کا موقع ملتا ضرور کرتے، چنانچِہ جامِعۃ المدینہ (فیضانِ مدینہ باب المدینہ کراچی ) کے دَرَجۂ ثالِثہ کے طالِبِ علم محمد شان عطاری کا بیان اپنے انداز والفاظ میں پیشِ خدمت ہے :  رَمَضان 1433ھ میں حاجی زم زم رضا عطاری  عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری سخت بیماری کی وجہ سے فیضان ِمدینہ کیمُسْتَشْفٰی (اَسپتال) میں داخل تھے  ۔ اسی دوران میں بھی شدید علالت کی بِنا پرمستشفٰیمیں داخل ہوا ۔میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ جُونہی ان کی طبیعت ذرا سنبھلی یہ میرے پاس میری عِیادت کے لئے پَہُنچ گئے اور میری غم خواری کی ، مجھے اَورادووظائف بتائے  ۔ جب المدینۃ العلمیۃ کے ایک مَدَنی اسلامی بھائی مرحوم رکنِ شوریٰ حاجی زم زم رضا کی عیادت ودیکھ بھال کے لئے مُستشفیٰ میں تشریف لائے تو ان کو میرے بارے میں بتایا کہ یہ جامعہ کے طالبِ علم بے چارے بیمار پڑے ہیں برائے کرم! کسی کی ترکیب فرمائیں جو اِن کوکھانا وغیرہ تو کِھلا سکے ۔ بہرحال ان مَدَنی اسلامی بھائی نے حاجی زم زم رضا عطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری کے فرمانے پر ہاتھوں ہاتھ ایک طالبِ علم کی ترکیب بنائی ۔ مریض طالبِ علم کا بیان ہے کہ خود بیمار ہونے کے باجود محبوبِ عطار کی غم خواری اور خیرخواہی کے معاملات دیکھ کر میں بہت ہی متأثر ہوا اور دعوتِ اسلامی کیمَحبَّتمیرے دل میں پہلے سے کہیں زیادہ ہوگئی ۔

اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔  اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !         صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

(۶۹)فون کر کے خیریَّت دریافت کرتے

        مبلغ دعوت اسلامی ورکن شوریٰ حاجی ابو میلاد برکت علی عطاری مدظلہ العالی کا بیان ہے کہ حاجی زم زم رضا عطاری علیہ رحمۃُ اللہ الباری کے وصال سے تقریباً 6ماہ پہلے میری مَدَنی مُنّی بیمار ہوئی توانہوں نے بارہا فون کرکے اس کی خیریت دریافت کی اور میری دل جوئی فرمائی ۔اسی طرح جب میرے پاس غمزدہ اسلامی بھائیوں کے فون آتے تو میں ان کی غم خواری کرنے کے بعد انہیں ’’رُوحانی علاج‘‘ کے لئے ضَرورتاًحاجی زَم زَم رضا عطاری علیہ رحمۃُ اللہ الباری کی طرف بھیج دیا کرتا تھا ۔یہ نہ صرف ان کی پریشانی سنتے بلکہ اس کے حل کے لئے تعویذاتِ عطاریہ کی ترکیب بھی بناتے  ۔ بعد میں اس اسلامی بھائی سے میری بات ہوتی تو وہ حاجی زم زم رضا عطاری علیہ رحمۃُ اللہ الباری کے لئے بڑے اچّھے جذبات کا اظہار کرتے کہما شاء اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ    انہوں نے ہمارے ساتھ بہت تعاون کیا ہے ۔اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !        صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

(۷۰)کینسر کے مریض کی عِیادت

        رکن شوریٰ حاجی ابو رضا محمد علی عطاری مدظلہ العالی کا بیان ہے کہ سردار آباد (فیصل آبادپاکستان )کے ایک اسلامی بھائی آصف عطاری کے دس سالہ بیٹے کو کینسر کا مَرَض تھا ۔حاجی زم زم رضا عطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری کے وصال کے بعد وہ اسلامی بھائی نہایت افسُردہ اور غمگین تھے اُن کے یہ تَأَثّرات تھے کہ حاجی زم زم رضا عطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری میری بہت ڈَھارس بندھاتے تھے، جب کبھی سردار آباد میں مَدَنی مشورے کے لئے تشریف لاتے تو مصروفیات کے باوُجُود میرے بیٹے کی عِیادت کے لئے تشریف لاتے ، اُسے دَم فرماتے ، اس کی صحت یابی کی دعا کرتے اور میری ہمّت بڑھاتے تھے  ۔ اس کا ٹیسٹ ہونے سے پہلے اور بعد میں مجھ سے معلومات کیا کرتے ۔باپا سے دعا کی درخواست کرتے ، شہزادۂ عطّار حضرت مولانا الحاج ابو اُسید عُبیدرضا مَدَنی مدظلہ العالی سے دعا کرواتے، ان سے فون پر میری بات کروادیتے ۔ آخِری مرتبہ میرے بیٹے کی عیادت کے لئے تشریف لائے تو میرے بیٹے کو پنسل تحفے میں پیش کی تھی  ۔ الغرض حاجی زم زم رضا عطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری سگے بھائیوں کی طرح میری دلجوئی کیا کرتے تھے ۔ان کے جانے کے بعد میں گویا تنہارہ گیا ہوں ۔ اللہ  تَعَالٰی ان پر اپنی رحمت ورضوان کی بارشیں برسائے  ۔

 اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !       صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

(۷۱)میری عِیادت کے لئے سب سے زیادہ فون انہوں نے کئے

        مبلغِ دعوتِ اسلامی ورکن شوریٰ، ابوبلال محمد رفیع عطاری مدظلہ العالی  کا بیان ہے کہ میں کم وبیش ایک سال پہلے (1432ھ) میں ہیپاٹائٹس cکے مَرَض میں مبتَلاء ہوا تو میری عِیادت ودلجوئی



Total Pages: 51

Go To