Book Name:Mahboob e Attar ki 122 Hikayaat

طرز میں پڑھو ، جب میں پڑھتا تو یہ آنسو بہایا کرتے تھے ، مَدَنی انعامات کے بارے میں ہمیں لگتا کہ ان پر عمل کرنا بہت دشوار ہے لیکن یہ مردِ قلندرمَدَنی انعامات پر عمل کرنے اور ان کی ترغیب دینے میں لگے رہتے۔باپا(یعنی امیراہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ) سے ان کی عقیدت گویا پتھر پر لکیر تھی ، ان کی کیفیت یہ ہوتی تھی کہ اگر میں باپا کے فرمان پر عمل نہ کرسکا تو مرجاؤں گا۔ بہت پہلے کی بات ہے کہ باپا کی جانب سے اسلامی بھائیوں کو غالباً اس طرح تاکید کی گئی کہ رات بارہ بجے سے پہلے گھر پہنچ جایا کریں تو میں نے کئی مرتبہ دیکھا کہ یہ کسی جگہ بھی موجود ہوتے لیکن وہاں سے گھڑی کا ٹائم دیکھ کر چل پڑتے اور ٹھیک بارہ بجے اپنے گھر میں ہوتے ۔ان کا جذبہ تھا کہ میں ہر اسلامی بھائی کو اپنے پیرومُرشِد شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطارؔ قادری دامت برکاتہم العالیہکا مُرید کروا دوں ،چنانچہ جس سے ایک دومِنَٹ کے لئے راستے میں بھی ملاقات ہوتی تو اسے مریدِ عطّار بننے کی ترغیب دے کر اس کا نام بیعت کروانے کے لئے لکھ لیا کرتے تھے ۔ ان سے تعلق رکھنے والوں ،رشتے داروں دوست احباب میں شاید ہی کوئی ایسا ہو جو امیرِ اہلسنّت  دامت برکاتہم العالیہکا مُرید نہ ہو ۔ میرا گمان ہے کہ انفرادی کوشش سے جنہوں نے سب سے زیادہ عطّاری بنائے ہوں گے اُن سب میں زم زم بھائی کا پہلا نمبر ہوگا۔

(۱۱) چھپ چھپ کر زیارت کیا کرتے

          اسی اسلامی بھائی کا مزید بیان ہے کہ برسوں پہلے کی بات ہے کہ محبوبِ عطّار

 



Total Pages: 208

Go To