Book Name:Mahboob e Attar ki 122 Hikayaat

شہزادۂ عطّار کے تأَثُّرات

شہزادۂ عطّار حضرت مولانا حاجی ابواُسَیدعُبیدرضاعطّاری مَدَنیمدّظلہ العالی سے محبوبِ عطار رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ کو بڑی محبَّت تھی ،بَقَولِ امیرِ اہلسنّت  دامت برکاتہم العالیہ :حاجی زم زم رضا عطاری علیہ رحمۃُ اللہِ الباری کی وفات کا خاندان کے افرادکے بعدجس کو سب سے زیادہ صدمہ پہنچا ہوگا وہ شایدغلامزادہ حاجی عُبیدرضا ہوں گے۔حاجی زم زم رضا عطاری علیہ رحمۃُ اللہِ الباری کے وِصال کے بعد مَدَنی چینل پر ہونے والے خُصُوصی مَدَنی مکالَمے میں بذریعۂ فون شہزادۂ عطّار نے جو کچھ فرمایا وہ بِالتَّصرف عرض ہے:

* اَلْحَمْدُللّٰہعَزَّوَجَلَّ! دعوتِ اسلامی اب محتاجِ تعارُف نہیں رہی، امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ نے دعوتِ اسلامی کے باغ کی خوب خوب آبیاری کی ، اس کی دیکھ بھال کے لیے مرکزی مجلسِ شوریٰ کی ترکیب کی اَلْحَمْدُللّٰہعَزَّوَجَلَّ! اس کے لئے چُن چُن کر باغبان رکھے، مرکزی مجلس شوریٰ کا ہرہر رکن اپنی جگہ ایک اَنمول ہیرا ہے، انہیں میں حاجی زم زم رضا عطاری علیہ رحمۃُ اللہِ الباریبھی تھے ،ان کی تو بات ہی کچھ اورتھی۔

*محبوبِ عطاررحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ امیراہلسنّت  دامت برکاتہم العالیہ کے پیش کردہ   مَدَنی انعامات پرعامل تھے ، زَبان وآنکھ کے قفلِ مدینہ والے تھے ۔

*امیرِ اہلسنّت  دامت برکاتہم العالیہ کی خواہِش تھی کہ میرے اسلامی بھائی مَدَنی


 

 



Total Pages: 208

Go To