Book Name:Mahboob e Attar ki 122 Hikayaat

ان سے عقیدت رکھتا تھا ۔ اکثر فرماتے کہ میرا بس چلے تو آپ کو اپنے تحریری کام کے لئے ایک کمرے میں بند کردوں۔ میرے مَدَنی مُنّے اور مُنّیوں سے بڑی محبت فرماتے ، اکثر فون پر ان کے بارے میں دریافْتْ کرتے رہتے تھے ۔ حالانکہ خود بیمار تھے مگر میری طبیعت کے حوالے سے بَہُت فکر مند رہتے کہ آپ کو کچھ نہیں ہونا چاہئے ۔کبھی میرا گلا خراب ہوتا تو تعویذ پیش کردیتے ۔

(۹۷)ربڑی کا تحفہ

          (پاکستان کے صوبۂ)پنجاب جاتے وَقْت ان کے شہر حید ر آباد اسٹیشن سے گزرتا تو مجھے ربڑی کا تحفہ بھجوایا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ مجھے فون کیا تو ٹرین حیدرآباد میں داخِل ہوچکی تھی ، میرے منع کرنے کے باوُجُود یہ ایک اسلامی بھائی کے ساتھ موٹرسائیکل پر نکل پڑے، میں باربار ان سے درخواست کرتا کہ حضور ، آپ رہنے دیجئے مگر نہیں مانے، جب یہ اسٹیشن کے باہَر پہنچے تو ٹرین چل دی ، یہ کافی دور تک پیچھے آئے مگر ٹرین نے رفتار پکڑ لی ، ان کی اس محبت بھری دیوانگی کا جب میں نے پنجاب میں اپنے بھائیوں کو بتایا تو انہوں نے برجستہ کہا کہ اتنی محبت اور خلوص سے وہ دینے آئے مگر نہیں دے سکے تو سمجھ لو کہ انہوں نے بھیجی اور ہم نے کھالی ۔

(۹۸)زم زم کا مطلب ہے ’’رُک رُک ‘‘

          جب کبھی عشقِ مُرشد میں بَہُت بڑھ چڑھ کر کلام فرماتے کہ ہم یہ بات بھی تحریر میں ڈال دیتے ہیں وہ بات بھی ڈال دیتے ہیں تو میں ان سے مِزاحاً عرض کرتا


 

 



Total Pages: 208

Go To