Book Name:Mahboob e Attar ki 122 Hikayaat

صـلّوا عـلَی الـحبیب !       صلی اللہ تعالٰی علٰی محمد

         اَلْحَمْدُلِلّٰہِ   عَزَّ وَجَلَّ ! دعوتِ اسلامی کی طرف سے غیبت کے خلاف اعلانِ جنگ ہے اور دعوتِ اسلامی کا بچّہ بچّہ نعرہ لگاتا ہے کہ غیبت کریں گے نہ سنیں گے۔دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اداریمکتبۃُ المدینہ سے آپ بھی ’’غیبت کُش کارڈ‘‘حاصِل کیجئے اور اپنے سینے پر سجائیے۔غیبت کرنے سننے سے خود بھی بچئے اور دوسروں کو بھی بچائیے۔غیبت کی دُنیوی اور اُخروی خوفناک ہلاکت خیزیوں سے آگاہی حاصِل کرنے کیلئے فیضانِ سنّت جلد 2کا باب ’’غیبت کی تباہ کاریاں ‘‘(صفحات 505)کتابی صورت میں مکتبۃ المدینہ سے حاصِل کرکے پڑھئے اور خوفِ خدا وندی

عَزَّ وَجَلَّ  میں اشک بہنے دیجئے۔

ہمیں غیبتوں سے بچایا الٰہی

بچا چُغلیوں سے سدا یا الٰہی

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !             صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

تحائف سے نوازتے

        گھر پر جب کوئی ملنے آتا تواُس کی دل جوئی کی بہت کوشش فرماتے ، لنگرِرسائل اور تحائف کے بِغیر کسی کو نہ جانے دیتے ۔گھر میں اکثر بکرے کی کھال پر بیٹھنے کا معمول تھا۔اَلْحَمْدُلِلّٰہِ   عَزَّ وَجَلَّ ! بکرے کی کھال پر بیٹھنے سے عاجِزی پیدا ہوتی ہے اورمحبوبِ عطّار عاجِزی کے پیکر تھے۔اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !            صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد   

(۳۲) چٹائی پر سوتے تھے

        محبوبِ عطّار رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِچٹائی پر سونے والے مَدَنی انعام پر عمل کرتے ہوئے سفر اور گھر میں حتَّی المقدورچٹائی پر سویا کرتے تھے ، وصال سے کچھ عرصہ قبل یہ اتنے کمزور ہوگئے تھے کہ ہڈّیاں نُمایاں ہوگئیں تھیں ، ان کی ریڑھ کی ہڈی میں بھی تکلیف رہنے لگی تھی ، ان کے بچّوں کی امّی ان سے اصرار کرتیں کہ گدیلے پر آرام کیجئے لیکن ان کی کوشش ہوتی تھی کہ زمین پر چٹائی بچھا کر آرام کریں ۔’’مَدَنی چینل‘‘ کے ذمّے دارمحمد اسد عطاری مدنی سے گفتگو کرتے ہوئے خود حاجی زم زم رضا عطاری  عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری نے کچھ یوں فرمایا تھا : اَلْحَمْدُلِلّٰہِ   عَزَّ وَجَلَّ ! میری شادی کو تقریبا 17سال ہوگئے ہیں اور ہمارے گھر میں پلنگ شُروع میں تھا، پتا چلا کہ امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ اِسے اپنے لئے پسند نہیں فرماتے(چنانچہ انہوں نے بھی نکال دیا ) ، مَدَنی انعام ہے کہ بستر تہہ کرکے رکھیں مگرپلنگ کا مَوٹا گدا تہہ کر کے رکھنادشوار ہوتاہے  ۔  [1]؎

        میرا چونکہ آپریشن ہواتھا اس لئے مجبوری میں فی الحال بیڈ کی ترکیب بنانی پڑی ہے، یہ تھوڑے ہی دنوں کے لئے ہے ، اِنْ شَآءَاللہ  عَزَّ وَجَلَّ  اسے بھی نکال دیں گے ۔اس کے باوُجُود میری سونے کی جگہ نیچے ہے ، میں یہیں سوتا ہوں قبلہ سمت کروٹ لے کر ، یہ سنّت بکس بھی ہوتاہے ، ساتھ سرہانے رکھتا ہوں ۔

اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !             صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

سوتے وقت چہرہ قبلے کی طرف رکھنا سنّت ہے

        اعلیٰ حضرت امامِ اہلِسنّت مجدِّدِ دین وملّت مولانا شاہ امام احمد رضاخان علیہ رحمۃُ الرَّحمٰنفرماتے ہیں : سنت یوں ہے کہ قُطب کی طرف سر کرے اور سیدھی کروٹ پر سوئے کہ سونے میں بھی منہ کعبہ کو ہی رہے۔(فتاوی رضویہ مخرجہ ج۲۳ص۳۸۵)

(۳۳) قبلہ سَمت بیٹھنے کی کوشش فرماتے

       سرکارِ مدینہ ، سُلطانِ باقرینہ ، قرارِ قلب وسینہ ، فیض گنجینہ، صاحِبِ مُعطَّر پسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ عُمُوماً قِبلہ رُو بیٹھتے تھے ۔(اِحیاء العلوم ج۲ ص۴۴۹ )

         شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کااپنے میٹھے میٹھے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی پیروی میں قبلہ رُو بیٹھنے کامعمول ہے اور ان کی صحبت کی برکت سے محبوبِ عطّارحاجی زم زم رضاعطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباریبھی اکثر قبلہ رُو بیٹھا کرتے تھے چنانچِہ مبلغِ دعوتِ اسلامی ابورجب محمد آصف عطاری مدنی کا بیان ہے کہ   

 حاجی زم زم رضا عطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری تحریری کام کے سلسلے میں المدینۃ العلمیۃ تشریف لاتے تو قبلہ رُخ بیٹھنے کی کوشش فرماتے، جب کبھی ان کے ساتھ کھانا کھانے کا موقع ملا تب بھی اکثر قبلہ رُخ بیٹھا کرتے تھے ۔اسی طرح دعوتِ اسلامی کی مجلس لنگررسائل کے ذمہ داراسلامی بھائی محمد عرفان عطاری کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ حاجی زم زم رضا عطاری علیہ رحمۃُ اللہ الباری کایہ انداز دیکھا کہ کھا نے کے لئے دسترخوان قبلہ رُو نہیں تھا آپ نے ترغیباً فرمایا کہ اس کو گھما کر قبلے کی سَمت کرلیجئے اور ہمیں یہ ذہن دیا کہ قبلہ رُو بیٹھناچاہئے اور مَدَنی انعامات پر عمل کے حوالے سے ترغیب دلائی  ۔  اللہ

 



 1     حضرت سیدناصفوان بن سلیم علیہ رَحمَۃُ اللّٰہ الاکرم فرماتے ہیں ، ’’ انسان کے سازو سامان اورملبوسات کو جنات استعمال کرتے ہیں۔لہٰذا تم میں سے جب کوئی شخص کپڑا ( پہننے  کے لئے ) اٹھائے یا ( اتار کر) رکھے تو’’ بِسْمِ اللّٰہ ‘‘ پڑھ لیا کرے۔ اس کے لئے  اللّٰہ تعالیٰ کا نام مُہر ہے۔‘‘(یعنی بِسْمِ اللّٰہ  پڑھنے سے جنات ان کپڑوں کو استعمال نہیں کریں گے۔ ( لقط المرجان فی احکام الجان للسیوطی ص ۱۶۱)

 



Total Pages: 51

Go To