Book Name:Mahboob e Attar ki 122 Hikayaat

بات چیت کس طرح کی جائے ، ان پر انفرادی کوشش کیسے کی جائے؟ یہ ساری باتیں سکھائی جاتی تھیں ۔ حاجی زم زم رضاعطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباریایک مرتبہ ہمارے درجے کے قریب سے گزرے تو دیکھا کہ بینا(یعنی دیکھنے کی صلاحیت رکھنے والے)اسلامی بھائیوں کی آنکھوں پر بھی پٹیاں بندھی ہوئی ہیں  ۔ میں ان کو دیکھ کر قریب آیا تو دریافت فرمایا کہ آنکھوں پر پٹّی باندھنے کی کیا حکمت ہے؟ میں نے عرض کی : تاکہ ان اسلامی بھائیوں کو نابینا اسلامی بھائیوں کی مشکلات کا اِدراک ہوسکے ۔فرمایا :  یہ پٹّی تو آنکھوں کے قفل مدینہ کے لئے بھی نہایت کار آمد ہے ، مجھے ایسی پٹی چاہئے ۔ میں نے اپنی ذاتی پٹّی پیش کردی ۔ فرمانے لگے :  اس کی قیمت آپ کو لینی پڑے گی  ۔ میں نے بہتیرا انکار کیا مگر انہوں نے فرمایا کہ آپ پیسے لیں گے تو ہی میں یہ پٹّی لوں گا۔میں نے مجبوراً رقم قَبول کرلی ۔پھر حاجی زم زم نے ہمارے درجے میں اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ کر بیان کیا اور نابینا اسلامی بھائیوں کی دلجوئی کرتے ہوئے فرمایا : میں نے بھی آنکھوں پر پٹی باندھ لی تاکہ مجھے بھی آپ کی مشکلات کا احساس ہوسکے ۔

اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔  اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !      صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

(۲۹) آنکھوں کے قفلِ مدینہ کی مَشْق کروایا کرتے

        زم زم نگر حیدر آباد(باب الاسلام سندھ) سے تعلق رکھنے والے مبلغِ دعوتِ اسلامی محمد نعیم عطاری کا بیان کچھ یوں ہے کہ تقریباً18سال پہلے (غالباً1996 میں )میں نے ان کے ساتھ30دن کے مَدَنی قافلے میں سفر کیا  ۔ پہلے مرکزُ الاولیاء لاہور ، پھراسلام آباد اور پھر گِلگِت کا سفر ہوا  ۔ دورانِ سفر مَدَنی اِنْعامات کا ان میں بڑا جذبہ دیکھا ، آنکھوں کے قفلِ مدینہ کی ہمیں کافی ترغیب دیتے تھے اور باقاعِدہ اس کے لئے ہمیں مَشْق کرواتے تھے ۔ بازارجانے سے پہلے فرماتے :  ’’دیکھئے! بازار میں عُمُوماً بدنگاہی کا سامان ہوتاہے ، اس لئے پورے راستے اس طرح چلنا ہے کہ ہماری نگاہیں صِرْف ایک گز کے فاصلے پر ہوں ۔‘‘  یقین مانئے! جب ہم بازار کا چکّر لگا کر آتے تھے تو نگاہیں جھکانے کی وجہ سے ہماری گردنوں میں درد ہو جاتا تھا ۔ حاجی زم زم رضا عطاری علیہ رحمۃُ اللہ الباری تسلّی دیتے کہ اس طرح مشق کرنے سے جب عادت پڑ جائے گی تو  اِنْ شَآءَاللہ  عَزَّ وَجَلَّ  دردنہیں ہوگااور بدنگاہی سے بچنے میں مدد ملے گی۔

اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔  اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !        صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

(۳۰) جامعۃ المدینہ کے طالب العلم کے تاثرات

        جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ زم زم نگر حیدر آباد کے طالب العلم محمد اختیار عطاری کا بیان کچھ یوں ہے کہ میری جب بھی مَدَنی انعامات کے تاجدار ، محبوبِ عطّارحاجی زم زم رضاعطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری  سے ملاقات ہوئی تو ان کی نگاہیں نیچی ہی دیکھیں ، گفتگو کرتے وقت بھی ان کی نگاہیں نیچی ہوا کرتی تھیں ، ان کا یہ انداز دیکھ کر میں نے بھی نیت کی کہ میں بھی نگاہیں نیچی رکھنے کی کوشش کروں گااور قفلِ مدینہ کا عینک لگایا کروں گا ۔پھر ایک دن آیا کہ میں نے اپنی نیت پر عمل کرتے ہوئے قفلِ مدینہ عینک خریدا اور استعمال کرنا شروع کردیا  ۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ    عَزَّ وَجَلَّ ! حاجی زم زم رضاعطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباریکے وصال کے بعد مجھے خواب میں دو مرتبہ ان کی زیارت ہوئی ہے اور وہ بہت خوش دکھائی دئیے۔

اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔  اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !              صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

(۳۱) نیکی کی دعوت کے کارڈ سینے پر سجایا کرتے تھے

        شیخِ طریقت امیراہلسنّت  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا مسلمانوں کو نیکی کی دعوت پیش کرنے کا جذبہ مرحبا!کہ آپ نہ صرف اپنے بیانات، مَدَنی مذاکروں ، اِنفرادی کوششوں اور تحریروں کے ذریعے نیکی کی دعوت عام کرتے ہیں بلکہ وَقْتاً فوَقْتاً نیکی کی مختصردعوت پر مشتمل سینے پر لگانے والے مَدَنی کارڈ بھی مُرتَّب فرماتے رہتے ہیں ، یہ کارڈ مکتبۃ المدینہ سے ھدِیَّۃً حاصل کئے جاسکتے ہیں ، حاجی زم زم رضا عطّاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری کا معمول تھا کہ وہ نیکی کی دعوت کے یہ کارڈ (بدل بدل کر) اپنے سینے پر سجایا کرتے تھے ، بلکہ المدینۃ العلمیۃ کے اسلامی بھائی کا بیان ہے کہ جب بھی کوئی نیا   

کارڈ منظرِ عام پر آتا تو ہمیں محبوبِ عطّار کے سینے پر ضَرور دکھائی دیتا ۔یوں یہ چلتے پھرتے خاموش رہ کر بھی کارڈکے ذریعے نیکی کی دعوت دیا کرتے تھے ۔

اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !        صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

بارگاہِ رسالت میں غیبت کُش کارڈ کی مقبولیَّت

          بابُ المدینہ کراچی کے ایک اسلامی بھائی کی تحرِیر کا اِقتِباس ہے : ۱۸ شوال المکرم ۱۴۳۰ھ بمطابق8اکتوبر2009ء شبِ جمعرات( یعنی بدھ اور جمعرات کی درمیانی رات )میں نے خواب میں سرکار مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ، کئی صَحابۂ کرام علیہم الرضوان اورسرکارِ غوثِ پاک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکی زیارت کی، ایک مبلغِ دعوتِ اسلامی بھی حاضِرِ خدمت تھے، تاجدارِ رسالت  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی اجازت سے اُس مبلغ  نے غیبت کُش کارڈحاضِرین کو پیش کرنا شروع کئے، اپنے کرمِ خاص سے گدایانِ در کی دلجوئی کی خاطِر ایک کارڈ سرکارِ نامدارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے بھی قَبول فرمایا اوراپنے غلاموں کی حوصلہ افزائی کیلئے اپنے مبارَک سینے پر سجالیا۔

 



Total Pages: 51

Go To