Book Name:Mahboob e Attar ki 122 Hikayaat

خِدمتِ دین کے لئے وقف ہونے والے کی عظمت

           مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان  مزیدفرماتے ہیں :’’اگر زمین مسجد کے لئے وَقْف ہو جائے تو اُس کی شان و عظمت بڑھ جاتی ہے،اَصحابِ کہف کے کُتّے نے اپنی زندگی اللہ تعالیٰ کے پیاروں کے لئے وَقْف کر دی تو اُسے حیاتِ جاودانی مل گئی،زمین اور کُتّا زندگی وقفکرنے کی وجہ سے شان والے ہو گئے تو اگر انسان اپنی زندگی اللہ تعالیٰ کی رِضا و خوشنودی کے حُصُو ل کی خاطِر دِین کے لئے وقف کر دے تو اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  فِرِشتوں سے بھی افضل ہو جائے گا۔‘‘

(تفسیرِ نعیمی ۳/۱۳۴ملخصًا)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                                                                      صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(۱تربیتِ اولاد

          حاجی زم زم رضاعطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الباری کے بچّوں کی امّی کا بیان کچھ یوں ہے کہ مرحوم اپنی اولاد سے بَہُت پیار کرتے تھے ، بیٹیاں گھر آتیں توگُوناگُوں مصروفیات کے باوُجُود ان سے ملنے گھر آتے تھے ۔ گھر میں جب کسی کی غَلَطی کی اِصلاح کرتے ہوئے لہجہ تھوڑا سخت کرتے تو ساتھ میں وضاحت بھی کردیتے کہ ’’میں آخِرت میں نَجات اور آپ لوگوں کے فائدے کے لئے سمجھا رہا ہوں۔‘‘کھانا کھاتے وَقْت بچوں کے ذریعے دعائیں پڑھواتے اور سنّت کے مطابق کھانا کھانے کی ترکیب کیا کرتے ۔حتَّی الامکان بیٹوں کو نماز کے لئے ساتھ لے جایا کرتے ، مَدَنی

 



Total Pages: 208

Go To