Book Name:Mahboob e Attar ki 122 Hikayaat

(۶۸)مَرَضُ الْموت میں بھی دوسرے مریض کی دلجوئی

          امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کے عطا کردہ نیک بننے کے نُسخے  ’’مَدَنی اِنعامات‘‘ میں سے ایک مَدَنی اِنعام مریض کی عِیادت کابھی ہے اوربیمار کی عِیادت کرنا بھی بڑے اجروثواب کا کام ہے،حضرتِ سیِّدنا عبدُاللہ بن عمر اور حضرتِ سیِّدناابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مَروِی ہے : جس نے مریض کی عِیادت کی اللہ عَزَّوَجَلَّ اس پر پَچَھتَّرہزار ملائکہ کے ذَرِیعے سایہ فرمائے گا اور گھر واپَس آنے تک اسکے ہرقدم اٹھانے پر اس کے لئے ایک نیکی لکھی جائے گی اور اس کے ہر قدم رکھنے پر اس کا ایک گناہ مٹادیا جائے گا اورایک دَرَجہ بلند کیا جائے گا، جب وہ مریض کے ساتھ بیٹھے گا تورحمت اسے ڈھانپ لے گی اور اپنے گھر واپس آنے تک رحمت اسے ڈھانپے رہے گی ۔(التر غیب والتر ھیب حدیث۱۳، ج۴ ، ص۱۶۵) مَدَنی انعامات کے تاجدار ،محبوبِ عطّارحاجی زم زم رضاعطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الباریثواب کے حریص تھے ، جب بھی کسی مریض کی عیادت کا موقع ملتا ضرور کرتے،چنانچِہ جامِعۃ المدینہ (فیضانِ مدینہ باب المدینہ کراچی ) کے دَرَجۂ ثالِثہ کے طالِبِ علم محمد شان عطاری کا بیان اپنے انداز والفاظ میں پیشِ خدمت ہے : رَمَضان 1433ھ میں حاجی زم زم رضا عطاری  عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الباری سخت بیماری کی وجہ سے فیضان ِمدینہ کیمُسْتَشْفٰی (اَسپتال) میں داخل تھے ۔ اسی دوران میں بھی شدید علالت کی بِنا پرمستشفٰیمیں داخل ہوا ۔میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ جُونہی ان کی طبیعت ذرا سنبھلی یہ میرے پاس میری عِیادت کے لئے پَہُنچ گئے اور میری غم خواری کی ،


 

 



Total Pages: 208

Go To