Book Name:Bughz-o-Keena

            مدینے کے سلطان، رحمتِ عالمیان ،  سَرْوَرِذیشانصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے فرمایا: لَاتُحَاسِدوْا وَلَا تُبَاغِضُوْا وَلَا تُدَابِرُوْا وَکُوْنُوْا عِبَادَ اللہِ اِخْوَانًا یعنی آپس میں حَسَد نہ کرو،  آپس میں بُغض وعَداوَت نہ رکھو،  پیٹھ پیچھے ایک دوسرے کی برائی بیان نہ کرو اوراے اللہعَزَّوَجَلَّکے بندو! بھائی بھائی ہو جاؤ۔ (صحیح البخاری، کتاب الادب، ۴ / ۱۱۷، الحدیث: ۶۰۶۶)

           مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان  علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں : یعنی بدگمانی ،  حَسَد،  بُغْض وغیرہ وہ چیزیں ہیں جن سے محبت ٹوٹتی ہے اور اسلامی بھائی چارہ محبت چاہتا ہے،  لہٰذا یہ عُیُوب چھوڑو تاکہ بھائی بھائی بن جاؤ ۔ (مراٰۃ المناجیح ،  ۶ / ۶۰۸)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                   صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

مسلمان توایک دوسرے کے محافِظ ہوتے ہیں

          نبی پاک ، صاحبِ لولاک   صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: اِنَّ الْمُؤْمِنَ لِلْمُؤْمِنِ کَالْبُنْیَانِ یَشُدُّ بَعْضُہُ بَعْضًا  یعنی: بیشک مؤمن کیلئے مؤمن مثل عمارت کے ہے جس کاایک حصہ دوسرے حصے کو مضبوط کرتا ہے۔   (صحیح البخاری، کتاب الصلوۃ، باب تشبیک الاصابع فی المسجد وغیرہ ، ۱ / ۱۸۱ ، الحدیث ۴۸۱)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                   صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

گوشہ نشینی کی وجہ

        جب حضرتِ  سیِّدُناامام جعفر صادِق علیہ رَحمَۃُ اللہِ الْخالِق تارِکُ الدُّنیا  (یعنی گوشہ نشین) ہو گئے تو حضرت سیِّدُنا سُفیان ثَوری علیہ رَحمَۃُ اللہِ القوی نے حاضرِ خدمت ہو کرکہا: تارِکُ الدُّنیا ہونے سے مخلوق آپ رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ کے فُیُوض و بَرَکات سے محروم ہو گئی ہے! آپ رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہنے اس کے جواب میں مُندَرَجَۂ ذَیل دو شعر پڑھے

ذَھَبَ الْوَفَا ءُ ذِھَابَ اَمْسِ الذَّاھِبِ                                     وَالنَّاسُ بَیْنَ مُخَایِلٍ وَّ مَآرِبٖ

یُفْـشُـوْنَ بَیْنَھُمُ الْمَـوَدَّۃَ وَالْـوَفَا                                                                         قُلُوبُـہُـمْ مَحْـشُـوَّۃٌ بِعَـقَـا رِ بٖ

وَ یعنی وفاکسی جانے والے کل کی طرح چلی گئی اورلوگ اپنے خیالات وحاجات میں غَرَق ہو کر رہ گئے۔لوگ یوں تو ایک دوسرے کے ساتھ اظہارِمَحَبَّت و وفا کرتے ہیں لیکن ان کے دل ایک دوسرے کے بُغْض وکینے کے بچھوؤں سے لبریز ہیں !       (تذکرۃُ الاولیاء  ص۲۲)

        شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ اس حکایت کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں :

 میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے!   سیِّدُناامام جعفر صادِق علیہ رَحمَۃُ اللہِ الخالق لوگوں کی مُنافَقَت والی رَوِش سے تنگ آکرخَلْوَت (تنہائی)  میں تشریف فرما ہوگئے۔اس پاکیزہ دور میں بھی یہ صورتِ حال ہونے لگی تھی تو اب تو جو حال بے حال ہے اُس کا کس سے شکوہ کیجئے۔ آہ!آج کل تو اکثر لوگوں کاحال ہی عجیب ہو گیا ہےجب باہم ملتے ہیں تو ایک دوسرے کے ساتھ نہایت تعظیم کے ساتھ پیش آتے اورخوب حال اَحوال پوچھتے ہیں ،  ہر طرح کی خاطر داری اور خوب مہمان داری کرتے ہیں کبھی ٹھنڈی بوتل پلا کرنِہال کرتے ہیں توکبھی چائے پلا کر ، پان گٹکے سے منہ لال کرتے ہیں ۔بظاہِر ہنس ہنس کرخوش کلامی و قیل و قال کرتے ہیں مگر اپنے دل میں اُس کے بارے میں بُغض و ملال رکھتے ہیں ۔ (غیبت کی تباہ کاریاں ، ص۱۲۸)

ظاہر و باطن ہمارا ایک ہو    یہ کرم یامصطَفٰے فرمایئے

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                   صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بُغْض وکینے اور طرح طرح کے ظاہری وباطِنی گناہوں سے بچنے کا جذبہ پانے کے لئے تبلیغِ قراٰن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک ،  دعوتِ اسلامی  کا مَدَنی ماحول کسی نعمتِ عُظمٰی سے کم نہیں ،  اِس سے ہر دَم وابَستہ رہئے ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  عَزَّ  وَجَلَّ  اِس سے مُنسلک (مُنْ۔سَ۔لک)  ہونے والوں کی زندَگیوں میں حیرت انگیز تبدیلیاں بلکہ مَدَنی اِنقلاب برپا ہو جاتاہے ۔اِس ضِمن میں ایک مَدَنی بہار مُلاحَظہ ہو ،  چُنانچِہ

زندگی کا رُخ بدل گیا

 



Total Pages: 30

Go To