Book Name:Bughz-o-Keena

اللہعَزَّوَجَلَّ نے اہل جنت کی تعریف اس طرح فرمائی ہے :

وَ نَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ اِخْوَانًا عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیْنَ (۴۷)   (پ ۱۴، الحجر ۴۷)

ترجمہ کنزالایمان : اور ہم نے ان کے سینوں میں جو کچھ کینے تھے سب کھینچ لئے آپس میں بھائی ہیں تختوں پر روبرو بیٹھے ۔

           رسولِ بے مثال،  بی بی آمِنہ کے لال صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا :   لَا اِخْتِلَافَ بَیْنَہُمْ وَلَا تَبَاغُضَ قُلُوبُہُمْ قَلْبٌ وَاحِدٌ یُسَبِّحُوْنَ اللّٰہَ بُکْرَۃً وَّعَشِیًّا یعنی اہل جنت میں آپس میں اختلاف ہوگا نہ بغض و کدورت! سب کے دل ایک ہوں گے صبح و شام اللّٰہ کی پاکی بیان کریں گے۔   (صحیح البخاری، کتاب بدء الخلق باب ماجاء فی صفۃ الجنۃوانہا مخلوقۃ،  ۲ / ۳۹۱، الحدیث۳۲۴۵)

کینہ وحسد کیونکر باقی رہ سکتا ہے!

          حضرت سیدنا ابو حفص رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ   فرماتے ہیں کہ جو قلوب اللّٰہ تعالیٰ کی محبت سے مالُوف اور اس کی محبت پر مُتَّفِق اور اس کی مُوَدَّت پر مجتمع اور اس کے ذکر سے مانوس ہوگئے ہیں ان میں کینہ اور حسد کس طرح باقی رہ سکتا ہے،  بیشک یہ دل نفسانی وسوسوں اور طبعی کدورتوں سے پاک وصاف ہیں بلکہ توفیق کے نو ر سے روشن ہیں تو پھر وہ سب آپس میں بھائی بھائی بن گئے ۔ (عوارف المعارف ص ۳۴ )

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                                                   صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

کینے کی مزید صورتیں

             اگر اللہعَزَّوَجَلَّ  کی رضا کے لئے کسی سے کینہ رکھا مثلاًکوئی شخص کمزوروں پر ظُلْم ڈھاتا ہے ، قتل وغارت کرتا ہے،  لوگوں کو گناہوں کی راہ پر چلاتا ہے یا وہ غیر مسلم یابدمذہب ہے تو ایسے سے کینہ رکھنا جائز ومحمود ہے ۔اس بات کو درجِ ذیل روایات وحکایات سے سمجھنے کی کوشش کیجئے ، چنانچہ

افضل عمل

          حضرتِ سیِّدُنا ابوذر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ حضورِ پاک،  صاحبِ لَولاک،  سیّاحِ افلاکصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ارشاد فرماتے ہیں : اَفْضَلُ الْاَعْمَالِ الْحُبُّ فِی اللہِ وَالْـبُغْضُ فِی اللہِ یعنی سب سے بہترعمل اللہعَزَّوَجَلَّ کے لیے محبت کرنا اوراللہعَزَّوَجَلََّّ کے لیے دُشمنی کرنا ہے۔ (سنن أبی داوٗد، کتاب السنۃ، باب مجانبۃ اھل الأھواء وبغضھم، ۴ / ۲۶۴، الحدیث: ۴۵۹۹)

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اللہعَزَّوَجَلَّ کے لئے محبت کا مطلب یہ ہے کہ کسی سے اس لئے محبت کی جائے کہ وہ دیندار ہے اور اللہعَزَّوَجَلَّکیلئے عداوت کا مطلب یہ ہے کہ کسی سے عداوت ہو تو اس بنا پر ہو کہ وہ دین کا دشمن ہے یا دیندار نہیں ۔ (نزھۃ القاری، ۱ / ۲۹۵)

کہیں ہم غلط فہمی میں نہ ہوں

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!کسی سے بغض وکینہ رکھنے سے پہلے خوب اچھی طرح غور کرلینا چاہیے کہ کیا ہم واقعی جوازی صورت پر ہی عمل کررہے ہیں ؟  کہیں ہم غلط فہمی میں تو مبتلاء نہیں ! اس بات کو درج ذیل روایت سے سمجھنے کی کوشش کیجئے:

           حضرتِ سیِّدُنا عامر بن وَاثِلَہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مَروی ہے کہ ( محبوبِ ربِّ کائنات،  شَہَنْشاہ موجودات صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکی حیاتِ ظاہری میں )  ایک صاحِب کسی قوم کے پاس سے گزرے تو انہوں نے انہیں سلام کیا، ان لوگوں نے سلام کا جواب دیا۔ جب وہ صاحِب وہاں سے تشریف لے گئے تو ان میں سے ایک شخص نے ان صاحِب کے بارے میں کہا : ’’ میں اللہ تعالیٰ کے لئے اس شخص سے بُغضرکھتا ہوں ۔ ‘‘  اہلِ مجلس نے اس سے کہا کہ تم نے بہت بری بات کی ہے بخدا!ہم اسے یہ بات ضروربتائیں گے ،  پھر ایک آدمی سے کہا کہ اے فلاں !کھڑا ہو اور جا کر اسے یہ بات بتا دے،  چنانچہ قاصد نے اسے پالیا اور یہ بات بتا دی ۔وہ صاحب وہاں سے پلٹ کر رسولِ ثَقَلَین ،  سلطانِ کونَین صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمت میں حاضر ہو کرعرض گزارہوئے : یا رسولَ اللہ  صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم!مسلمانوں کی ایک مجلس پر میرا گزر ہوا میں نے انہیں سلام کیا ان میں فلاں آدمی بھی تھا ان سب نے میرے سلام کا



Total Pages: 30

Go To