Book Name:Bughz-o-Keena

          اِس کے بعدآپ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اِسْتِفسا ر فرمایا : تُو نے کس وجہ سے مجھے زہر دیا ؟  عَرْض کی: مجھے آپ سے بُغْض تھا۔ یہ جواب سنتے ہی آپ رضی اللہ تعالٰی عنہنے فرمایا ،  تُو لِوَجْہِ اﷲ ( یعنی اللہعَزَّوَجَلَّ  کیلئے) آزاد ہے اور تُو نے میرے ساتھ جو کچھ کیا وہ بھی میں نے تجھے مُعاف کیا۔ (حَیاۃُ الحَیوان الکُبرٰی ، ۱ / ۳۹۱)

          سُبحٰنَ اﷲ !صَحابۂ کِرام عَلَیہُمُ الرِّضْوَان کی عظمتوں کے کیا کہنے ! یہ حضرات حُکمِ قراٰنی ،  اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ  (ترجَمۂ کنزُالایمان : بُرائی کو بھلائی سے ٹال ( پ ۲۴ حٰم السجدہ ۳۴)  کی صحیح تفسیر تھے ، بار بار زہر پلانے والی کنیز کو سزادِلوانے کے بجائے آزاد فرما دیا!

اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو اوراُن کے صَدَقے ہماری بے حساب مغفرت ہو

اٰمِین بِجاہِ النَّبِیِّ الْامین صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                   صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

کینہ رکھنے والے سے بھی فائدہ حاصل کیا جاسکتا ہے

          عقلمند انسان چشم پوشی کرنے والے دوست سے زیادہ کینہ پَرْوَر دشمن سے نفع حاصل کرسکتا ہے۔اس کا طریقہ بیان کرتے ہوئے امام غزالی علیہ رحمۃ اللّٰہِ الوالیلکھتے ہیں: اپنے دشمنوں سے اپنے عیوب سُنے کیونکہ دشمن کی آنکھ ہر عیب کو ظاہر کردیتی ہے،  عقلمند انسان کینہ پَرْوَر دشمن سے اپنے عیوب سن کر ایسے چشم پوشی کرنے والے دوست سے زیادہ نفع حاصل کرسکتا ہے جو اس کی تعریف و توصیف کرتا رہتا ہے اور اس کے عیب چھپاتا رہتا ہے مگر مصیبت یہ ہے کہ انسانی طبائع دشمن کی بات کو جھوٹ اور حَسَد پر مَبنی خیال کرتی ہیں لیکن عقلمند دشمنوں کی باتوں سے بھی سبق سیکھتے ہیں اور اپنے عیوب کی تلافی کرتے ہیں کہ آخر کوئی عیب تو ضرور ہے جو اس کے دشمنوں کی نگاہ میں ہے۔  (مکاشفۃ القلوب، الباب السادس والسبعون،  ص۲۵۳)  

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                   صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

دوسروں کو اپنے کینے سے بچانے کے طریقے

          کیا ہی اچھا ہو اگر ہم ایسی باتوں سے بچیں جن کی وجہ سے لوگ کینے میں مبتلا ہوجاتے ہیں ،  اس ضمن میں 10مدنی پھول ملاحظہ کیجئے:

 (1)   کسی کی بات کاٹنے سے بچئے

          کسی کی بات کاٹنا آدابِ گفتگو کے خلاف ہے اور جس کی بات کاٹی جائے وہ کینے میں بھی مبتلاہو سکتا ہے ۔حضرت عبد اﷲبن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما کاارشاد ہے: کسی بیوقوف کی بات نہ کاٹو کہ وہ تمہیں اذیت دے گا اور کسی عقل مند کی بات نہ کاٹو کہ وہ تم سے بُغْض رکھے گا۔ (احیاء العلوم ، ۲ / ۲۲۴)

 (2)   تعزیت کے دوران مسکرانے سے بچئے

        کسی غمزدہ کی تعزیت کرنا بڑی اچھی بات ہے لیکن ایسے موقع پر مسکرانے سے بچئے کیونکہ ایسے موقع پرمسکرانا دلوں میں بُغْض وکینہ پیدا کرتا ہے۔ (مجموعہ رسائل امام غزالی، رسالہ الادب فی الدین ص۴۰۹)  

 (3)   کسی کی غلطی نکالنے میں احتیاط کیجئے

          کسی کی گفتگو میں سے تلفظ یا گرائمر کی غلطی نکالنے میں بھی احتیاط کرنی چاہئے کیونکہ اس سے بھی سامنے والے کے دل میں کینہ پیدا ہوسکتا ہے ، غالباًاسی حکمت کے پیش نظر بہارشریعت میں یہ شرعی مسئلہ بیان کیا گیا ہے : جو شخص  (قرآن) غلط پڑھتا ہو تو سُننے والے پر واجب ہے کہ بتا دے،  بشرطیکہ بتانے کی وجہ سے کینہ و حَسَد پیدا نہ ہو۔ ( بہار شریعت ج۱،  حصہ ۳ص۵۵۳)

 (4)   موقع محل کے مطابق عمل کیجئے

          جس مقام پر جن موافقِ شرع آداب یا مُسْتَحَبَّات پر عمل کرنے کا رواج ہو وہاں اس سے ہٹ کر عمل کرنا بھی لوگوں کے دل میں بُغْض وکینہ پیدا کرسکتا ہے ۔ چنانچہ بہارِ شریعت میں ہے: جہاں یہ اندیشہ ہو کہ تعظیم کے لیے اگر کھڑا نہ ہوا تو اس کے دل میں بُغْض وعداوت پیدا ہوگا،  خصوصاً ایسی جگہ جہاں قیام کا رواج ہے تو قیام کرنا چاہیے تاکہ ایک مسلم کو بُغْض و عداوت سے بچایا جائے۔   (بہارشریعت ج ۳، حصہ ۱۶، ص۴۷۳)

 (5)   مشورہ بُغْض وکینے کو کافُور کرتا ہے

 



Total Pages: 30

Go To