Book Name:Bughz-o-Keena

باطِنی گناہوں کا علاج بے حد ضروری ہے

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!کچھ گناہوں کا تعلُّق ظاہر سے ہوتا ہے جیسے قتل،  چوری،  غیبت،  رشوت، شراب نوشی اور کچھ کا باطن سے مثلاً حَسَد،  تکبر، ریاکاری،  بدگمانی ۔ بہرحال گناہ ظاہری ہوں یا باطِنی ! ان کا ارتکاب کرنے والا جہنم کے دردناک عذاب کا حقدار ہے، اس لئے دونوں قسم کے گناہوں سے بچنا ضروری ہے لیکن باطِنی گناہوں سے بچنا ظاہِری گناہوں کی نسبت زیادہ مشکل ہے کیونکہ ظاہری گناہ کو پہچاننا آسان جبکہ باطِنی گناہ کی شناخت اس وجہ سے دُشوار ہے کہ یہ سر کی آنکھوں سے دکھائی نہیں دیتے انہیں صرف محسوس کیا جاسکتاہے ۔تقویٰ وپرہیز گاری پانے اور اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کو راضی کرنے کے لئے ہمیں ظاہر کے ساتھ ساتھ اپنا باطن بھی سُتھرا رکھنے کی ضرور کوشش کرنی چاہئے ۔بہت سارے باطِنی گناہوں میں سے ایک  ’’  بُغْضوکینہ ‘‘  بھی ہے۔ اس کی تباہ کاریوں سے بچنے کے لئے ہمیں معلوم ہونا چاہئے کہ کینہ کسے کہتے ہیں ؟  اس کے کیا نقصانات ہیں ؟  کونسا کینہ زیادہ بُرا ہے؟ اس کا علاج کیونکر ہوسکتا ہے؟  کس سے کینہ رکھنا واجِب ہے؟ ہمیں ایسا کیا کرنا چاہئے کہ کسی کے دل میں ہمارے لئے کینہ پیدا نہ ہو ؟  زیرِ نظر رسالہ جس کا نام شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطارؔ قادری دامت برکاتہم العالیہ نے  ’’ بُغْض وکینہ  ‘‘  رکھا ہے، اس رسالے میں کینے کے بارے میں اسی نوعیت کی معلومات فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے ، ضمناً بہت سے مدنی پھول بھی اپنی خوشبوئیں لُٹا رہے ہیں ۔اس رسالے کو خوب سمجھ کر کم از کم تین مرتبہ پڑھئے اور اپنی اصلاح کی کوشش میں مصروف ہوجائیے۔ (شعبہ اصلاحی کتب مجلس المدینۃ العلمیۃ )

گناہوں نے کہیں کا بھی نہ چھوڑا           کرم مجھ پر حبیبِ کِبرِیا ہو

گناہوں کی چُھٹے ہر ایک عادت                     سُدھر جاؤں کرم یامصطَفٰے ہو

  (وسائل بخشش، ص۱۶۵)

مجھے اپنی اور ساری دُنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے ۔  اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                   صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

کینہ کسے کہتے ہیں ؟  

          دل میں دشمنی کو روکے رکھنا اور موقع پاتے ہی اس کااِظہار کرنا کینہ کہلاتاہے  (لسان العرب، ۱ / ۸۸۸) ، حُجَّۃُ الْاِسلامحضرتِ سیِّدُنا امام محمدبن محمد غزالی علیہ رحمۃ اللہِ الوالینے  ’’ اِحیاء العلوم ‘‘ میں کینے کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے : اَلْحِقْدُ: اَنْ یُّلْزِمَ قَلْبَہُ اِسْتِثْقَالَہُ وَالْبُغْضَۃَ لَہُ وَالنِّفَارَ عَنْہُ وَاَنْ یَّدُوْمَ ذٰلِکَ وَیَبْقٰییعنی: کینہ یہ ہے کہ انسان اپنے دل میں کسی کو بوجھ جانے،  اُس سے دشمنی وبُغْض رکھے،  نفرت کرے اور یہ کیفیت ہمیشہ ہمیشہ باقی رہے ۔ (احیاء العلوم،  کتاب ذم الغضب والحقد والحسد،  ۳ / ۲۲۳)

           مثلاً کوئی شخص ایسا ہے جس کا خیال آتے ہی آپ کو اپنے دل میں بوجھ سا محسوس ہوتا ہے،  نفرت کی ایک لہر دل ودماغ میں دوڑ جاتی ہے ، وہ نظر آجائے تو ملنے سے کتراتے ہیں اورزُبان ، ہاتھ یاکسی بھی طرح سے اُسے نقصان پہنچانے کا موقع ملے تو پیچھے نہیں رہتے تو سمجھ لیجئے کہ آپ اس شخص سے کِینہ  رکھتے ہیں اور اگر ان میں سے کوئی بات بھی نہیں بلکہ ویسے ہی کسی سے ملنے کو جی نہیں چاہتاتو یہ کینہ نہیں کہلائے گا۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                   صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

مسلمان سے کینہ رکھنے کا شرعی حکم

           مسلمان سے بلاوجہ شرعی کینہ وبُغْض رکھنا حرام ہے۔ (فتاویٰ رضویہ ۶ / ۵۲۶)  یعنی کسی نے ہم پر نہ تو ظُلْم کیا اور نہ ہی ہماری جان ومال وغیرہ میں کوئی حق تلفی کی پھر بھی ہم اس کے لئے دل میں کینہ رکھیں تو یہ ناجائز وحرام اور جہنم میں لے جانے والا کام  ہے ٭اور اگر کسی نے ہم پر کوئی ظُلْم کیا ہو یا ہمارا کوئی حق تلف کیا ہوجس کی وجہ سے ہم اس سے دل میں کینہ رکھیں تو یہ حرام نہیں ہے ٭ پھر اگر ہم اس سے بدلہ لینے پر قادِرنہ ہوں تو اس سے اپنا بدلہ لینے کے لئے روزِ محشر کا اِنتظار کرسکتے ہیں لیکن دُنیا ہی میں معاف کردینا افضل ہے ٭اور اگر بدلہ لینے پر قادِر ہوں تو اس سے اسی قدر بدلہ لے سکتے ہیں جتنا اس نے ہم پر ظُلْم کیا یا مال وغیرہ میں ہماری حق تلفی کی ہے ٭لیکن ایسی صورت میں بھی اگر ہم اسے معاف کردیں گے تو زیادہ ثواب کے حقدار ہوں گی٭ اور اگر معاف کرنے



Total Pages: 30

Go To