Book Name:Bughz-o-Keena

کہ کچھ میرے ہی متعلق باتیں کر رہی ہوں گی کہ اس سے خواہ مخواہ دل میں ایک دوسرے کی طرف سے کینہ پیدا ہو جاتا ہے جو بہت بڑا گناہ ہونے کے ساتھ ساتھ بڑے بڑے فساد ہونے کا سبب بن جایا کرتا ہے۔ ‘‘   ([1])   (جنتی زیور ص ۵۹)

مجھے غیبت و چغلی و بدگمانی

کی آفات سے تُو بچا یاالٰہی

 (وسائل بخشش ص۸۰ )

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                   صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

 (تیسراسبب)             شراب نوشی اور جُوا

          شراب پینے اور جُوا کھیلنے جیسے حرام وجہنم میں لے جانے والے کام سےکوسوں دور رہئے کہ قرآن پاک میں ان دونوں چیزوں کو کینہ کا سبب قرار دیا گیا ہے چنانچہ پارہ7 سورۃُ المائدۃکی آیت نمبر 90تا91میںاللّٰہُ رَحمٰن عَزَّوَجَلَّ کا فرمانِ عبرت نشان ہے:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَیْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ وَ الْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ (۹۰) اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ فِی الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ وَ یَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ عَنِ الصَّلٰوةِۚ-فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ (۹۱)

ترجَمۂ کنزالایمان: اے ایمان والو! شراب اور جُوااور بُت اور پانسے ناپاک ہی ہیں شیطانی کام تو ان سے بچتے رہنا کہ تم فلاح پاؤ  شیطان یہی چاہتا ہے کہ تم میں بَیر اور دشمنی ڈلوادے شراب اور جوئے میں اور تمہیںاللّٰہ کی یاد اور نماز سے روکے تو کیا تم باز آئے؟

        حضرتِ صدر الْا فاضِل سیِّدُنا مولانا محمد نعیم الدین مُراد آبادی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ الہادیخَزائنُ العرفانمیں اس کے تحت لکھتے ہیں: اِس آیت میں شراب اور جوئے کے نتائج اور وَبال بیان فرمائے گئے کہ شراب خوری اور جوئے بازی کا ایک وبال تو یہ ہے کہ اس سے آپس میں بُغض اور عداوتیں پیدا ہوتی ہیں اور جواِن بدیوں (یعنی برائیوں)  میں مبتَلا ہو وہ ذِکرِ الٰہی اورنَماز کے اوقات کی پابندی سے محروم ہو جاتا ہے ۔ (کنزالایمان مع خزائن العرفان،  ص۲۳۶ مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)

تُو نشے سے باز آ مت پی شراب  ([2])  

دو جہاں ہوجائیں گے ورنہ خراب

  (وسائل بخشش ص ۶۶۹)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                   صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

  (چوتھاسبب)      نعمتوں کی کثرت

          نعمتوں کی فَراوانی بھی آپس میں بُغْض وکینہ کا ایک سبب ہے ، شکرِ نعمت اور سخاوت کی عادت اپنا کر اس سے بچنا ممکن ہے ۔امیر المؤمنین حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایاکہ میں نے سرکارِ مدینہ راحتِ قلب وسینہ صلَّی اللہُ تَعالٰی علیہ و اٰلہ وسلَّمکو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ  ’’ لَا تُفْتَحُ الدُّنْیَا عَلٰی اَحَدٍ اِلَّا اَلْقَی اللہُ عَزَّ وَجَلَّ بَیْنَہُمُ الْعَدَاوَۃَ وَالْبَغْضَاءَ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ ‘‘  یعنی دنیا کسی پر کشادہ نہیں کی جاتی مگر اللہ عَزَّوَجَلَّ ان کو تاقیامت بُغْض و عداوت میں مبتلا فرما دیتا ہے۔ (مسند احمد، مسند عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالٰی عنہ، ۱ / ۴۵، الحدیث: ۹۳)

بغض وعداوت میں پڑ جاؤ گے

          حضرت سیِّدُناحسن رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ اللہ کے مَحبوب،  دانائے غُیوب،  مُنَزَّہ ٌعَنِ الْعُیوب صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم اصحابِ



[1]     بدگمانی کے بارے میں مزید تفصیل جاننے کے لئے مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ رسالے  ’’بدگمانی‘‘کا ضرور مطالعہ کیجئے ۔

[2]     شراب نوشی کے نقصانات کے بارے میں مزید تفصیل جاننے کے لئے مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ رسالے   ’’برائیوں کی ماں‘‘ کا ضرور مطالعہ کیجئے ۔



Total Pages: 30

Go To