Book Name:Bughz-o-Keena

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! رضائے الٰہی پانے، دل میں خوفِ خدا عَزَّ وَجَلَّ جگانے،  ایمان کی حِفاظت کی کڑھن بڑھانے، موت کا تصوُّر جَمانے ،  خود کو عذابِ قبرو جہنَّم سے ڈرانے، ظاہری وباطِنی گناہوں کی عادت مِٹانے، اپنے آپ کو سنّتوں کا پابندبنانے، دل میں عشقِ رسول کی شَمع جَلانے اور جنّت الفردوس میں مکّی مَدَنی مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا پڑوس پانے کا شوق بڑھانے کیلئے تبلیغِ قراٰن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک ،  دعوتِ اسلامی  کے مَدَنی ماحول سے ہر دم وابَستہ رہئے، ہرماہ کم از کم تین دن کیلئے عاشِقانِ رسول کے ہمراہ مَدَنی قافِلے میں سنّتوں بھرا سفر کرتے رہئے اور فکرِ مدینہ کے ذَرِیعے روزانہ مَدَنی انعامات کا رِسالہ پُر کر کے ہر مَدَنی ماہ کی ابتِدائی دس تاریخ کے اندر اندر اپنے ذِمّے دار کو جَمع کرواتے رہئے۔آیئے آپ کی ترغیب وتَحریص کیلئے آپ کو ایک مَدَنی بہار سناؤں :

ماموں کی انفرادی کوشش

          چکوال  (پنجاب) کے ایک اسلامی بھائی (عمرتقریباً20سال)  کا بیان اپنے انداز والفاظ میں پیش کرتا ہوں : جب میں میٹرک میں تھا ، اس وَقْت دوستوں کے ساتھ سیروتفریح کرنا، اسنوکر کھیلنا، لڑنا جھگڑنا اور بدمعاشی ودادا گیری کرنا ، اَمردوں میں دلچسپی رکھنامیرے بدترین معمولات میں شامل تھے ۔ایک دوست کی دعوت پر اوّلاًسگریٹ نوشی شروع کی پھر شراب نوشی جیسے مُہلِک نشے میں مبتلا ہوگیا۔بُری صحبتوں کا ایسا چسکہ پڑا کہ میں تین تین دن اور بعض اوقات تو ساراہفتہ گھر نہیں جاتا تھا۔میری بگڑی ہوئی عادتوں کی وجہ سے گھر والے سخت پریشان تھے۔میرے والد صاحب مجھے سمجھا سمجھا کر تھک گئے مگر میرے کان پر جوں تک نہ رینگی ، بالآخر انہوں نے مجھ سے بات چیت بھی بندکر دی ۔میں سدھرنے کے بجائے بگڑتا چلا گیا۔کم وبیش چار سال اسی کیفیت میں گزر گئے ۔ایک دن میری ملاقات اپنے ماموں سے ہوئی جو دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ تھے ۔انہوں نے مجھے بڑی شفقت دی اور میرا ذہن بنایا کہ میں دعوتِ اسلامی میں ہونے والا مَدَنی تربیتی کورس کر لوں ۔ اَلْحَمْدُ اللہعَزَّوَجَلَّ! میں تیار ہوگیااور زندگی میں پہلی مرتبہ فیضانِ مدینہ باب المدینہ کراچی میں ہونے والے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شریک ہوا، مبلغِ دعوت اسلامی کا بیان سن کر میں پگھل سا گیا اور سوچنے پر مجبور ہوگیا کہ کاش ! میں بہت پہلے فیضانِ مدینہ میں آگیا ہوتا اور اپنے گناہوں سے توبہ کرلی ہوتی ! بہرحال یہاں پر مدنی تربیتی کورس میں شامل ہوکر مجھے نیک بننے کا جذبہ ملا، توبہ کی توفیق ملی، نہ صرف فرض نمازوں کی پابندی نصیب ہوئی بلکہ تہجد،  اشراق چاشت اور مغرب کے بعد اوّابین کے نوافل پڑھنے کی بھی سعادت ملی ۔علم دین سیکھنے کو ملا، والدین کے حقوق کا پتا چلا، رب عَزَّوَجَلَّ کو راضی کرنے کا ذہن ملا۔مَدَنی تربیتی کورس کے بعد مَدَنی قافلہ کورس کرنے اور عاشقانِ رسول کے ساتھ 12ماہ کے مَدَنی قافلے میں سفر کی بھی نیت ہے ۔ اللہعَزَّوَجَلَّ  ہمیں مرتے دم تک دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ رہنے کی توفیق عطا فرمائے ۔اٰمِین بِجاہِ النَّبِیِّ الْامین صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

تِرا شُکْر مولا دیا مَدَنی ماحول                           نہ چُھوٹے کبھی بھی خدا مَدَنی ماحول

سلامت رہے یاخدا مَدَنی ماحول                               بچے بد نظر سے سدا مَدَنی ماحول

 (وسائل بخشش ص۶۰۲)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                   صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

تمہارے دل میں کسی کے لئے کینہ وبُغْض نہ ہو

          حضرت سیِّدُنااَنَس رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں : تاجدارِمدینہ،  راحت ِقلب وسینہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے مجھ سے ارشاد فرمایا: یَا بُنَیَّ! اِنْ قَدِرْتَ اَنْ تُصْبِحَ وَ تُمْسِیَ  لَیْسَ فِیْ قَلْبِکَ غِشٌّ لِاَحَدٍ فَافْعَلْ اے میرے بیٹے ! اگرتم سے ہوسکے کہ تمہاری صبح وشام ایسی حالت میں ہوکہ تمہارے دل میں کسی کے لئے کینہ وبُغْض نہ ہوتوایسا ہی کیا کرو ۔ (ترمذی، کتاب العلم، ۴ / ۳۰۹، الحدیث: ۲۶۸۷)

          یعنی مسلمان بھائی کی طرف سے دُنیوی امور میں صاف دل ہو سینہ کینہ سے پاک ہو تب اس میں اَنوارِ مدینہ آئیں گے۔ دُھند لا آئینہ اور میلا دل قابلِ



Total Pages: 30

Go To