Book Name:Bughz-o-Keena

 

یہودی معالِج کا امام مازری کے ساتھ کینہ وحسد

          امام مازری  رَحِمَہُ اللہُ تَعَالٰی علیل (یعنی بیمار)  ہوئے  (تو)  ایک یہودی مُعالِج (یعنی طبیب ، آپ کا عِلاج کررہا )  تھا،  اچھے ہوجاتے پھر مَرَض عَود کرتا (یعنی دوبارہ ہوجاتا)  ، کئی بار یوہیں ہوا،  آخِر اُسے تنہائی میں بُلاکر دریافت فرمایا ، اُس نے کہا : اگر آپ سچ پوچھتے ہیں تو ہمارے نزدیک اِس سے زیادہ کوئی کارِ ثواب نہیں کہ آپ جیسے امام کو مسلمانوں کے ہاتھ سے کَھودُوں ۔ امام رَحِمَہُ اللہُ تَعَالٰینے اسے دَفع  (یعنی دُور) فرمایا،  مولیٰ تعالیٰ نے شِفا بخشی،  پھر امام رَحِمَہُ اللہُ تَعَالٰی نے طِب کی طرف توجُّہ فرمائی اور اس میں تصانیف کیں اور طَلَبہ کو حاذِق اَطِبّا  (یعنی ماہِر طبیب) کردیا اور مسلمانوں کو مُمَانَعَت فرمادی کہ کافِر طبیب سے کبھی عِلاج نہ کرائیں۔ ([1])  (فتاویٰ رضویہ، ۲۱ / ۲۴۳)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                   صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

اولیائے کرام سے بُغْض رکھنے والے کی توبہ

          بغدادشریف کا ایک تاجِر اولیائے کرام  رَحِمَہُمُ اللہُ السّلام سے بَہُت بُغْض رکھتا تھا۔ ایک روز حضرتِ سیِّدُنا بِشرِ حافی علیہ رحمۃُ اللہِ الکافی کونَمازِ جُمُعہ پڑھ کر فوراً مسجِد سے باہَر نکلتے دیکھ کر دل میں کہنے لگا کہ دیکھو توسہی! یہ ولی بنا پھرتا ہے! حالانکہ مسجِد میں اس کا دل نہیں لگتا جبھی تو نَماز پڑھتے ہی فوراً باہَر نکل گیا ہے۔وہ تاجِریہی کچھ سوچتا اور کہتا ہوا ان کے پیچھے پیچھے چلنے لگا ۔حضرتِ سیِّدُنا بِشرِ حافی علیہ رحمۃُ اللہِ الکافی نے ایک نانبائی کی دکان سے روٹی خریدی اور شہر سے باہَر کی جانِب چل پڑے۔ تاجِر کو یہ دیکھ کر اور بھی غصّہ آیا اور بولا،  یہ شخص محض روٹی کے لئے مسجِد سے جلدی نکل آیا ہے اور اب شہر کے باہَر کسی سبزہ زار میں بیٹھ کر کھائے گا۔ تاجِر نے تعاقُب جاری رکھتے ہوئے یہ ذِہن بنایا کہ جوں ہی بیٹھ کر یہ روٹی کھانے لگے گا،  میں پوچھوں گا کہ کیا ولی ایسے ہی ہوتے ہیں جو روٹی کی خاطر مسجِد سے فوراً نکل آئیں ! چُنانچِہ تاجِر پیچھے پیچھے ہو لیا حتّٰی کہ حضرتِ سیِّدُنا بِشرِ حافی علیہ رحمۃُ اللہِ الکافی کسی گاؤں میں داخِل ہوکر ایک مسجِد میں تشریف لے گئے ۔ وہاں ایک بیمار آدمی لیٹا ہوا تھا،  حضرتِ سیِّدُنا بِشر حافی علیہ رحمۃُ اللہِ الکافی نے اُس بیمار کے سِرہانے بیٹھ کر اُسے اپنے مبارَک ہاتھ سے روٹی کھلائی ۔ تاجِر یہ مُعامَلہ دیکھ کر حیران ہوا۔ پھر گاؤں دیکھنے کے لئے باہَر نکلا۔ تھوڑی دیر کے بعد جب دوبارہ مسجِد میں آیا تو دیکھا کہ مریض وَہیں لیٹا ہے مگر حضرتِ سیِّدُنا بِشرِ حافی علیہ رحمۃُ اللہِ الکافی وہاں موجود نہیں ۔ اس نے مریض سے پوچھا کہ کہاں گئے؟  اُس نے بتایا کہ وہ تو بغداد شریف تشریف لے گئے۔ تاجِر نے پوچھا: بغداد یہاں سے کتنی دُور ہے؟  وہ بولا،  چالیس میل۔ تاجِر سوچنے لگا کہ میں تو بڑی مشکِل میں پھنس گیا کہ ان کے پیچھے اتنی دور نکل آیا اور تَعَجُّب ہے کہ آتے ہوئے کچھ پتا ہی نہیں چلا مگر اب کس طرح واپَسی ہو گی؟  پھر اس نے پوچھا کہ اب دوبارہ وہ یہاں کب آئیں گے؟ بولا،  اگلے جُمُعہ کو۔ ناچار تاجِر وَہیں رُکا رہا جب جُمُعہ آیا تو حضرتِ سیِّدُنا بِشر حافی علیہ رحمۃُ اللہِ الکافی اپنے وَقْت پر تشریف لائے اور مریض کو روٹی کھلائی۔آپ رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ نے اُس تاجِر سے فرمایا: آپ کیوں میرے پیچھے آئے تھے ؟  تاجِر نے عاجِزی کے ساتھ عَرْض کی: حُضُور میری غَلَطی تھی! فرمایا: اُٹھئے اور میرے پیچھے پیچھے چلے آیئے۔ چُنانچِہ وہ حضرت کے پیچھے پیچھے چلنے لگا اور تھوڑی ہی دیر میں دونوں بغداد شریف پہنچ گئے۔ حضرتِ سیِّدُنا بِشر حافی علیہ رحمۃُ اللہِ الکافی کی زندہ کرامت دیکھ کر بغداد کے تاجِر نے اولیاء کرام کے بُغض سے توبہ کی اور آئندہ ان پاک لوگوں کا دل سے مُعتَقِد ہو گیا۔ ( روض الریاحین ص ۲۱۸)

اللہعَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو اور اُن کے صَدَقے ہماری بے حساب مغفرت ہو

اٰمِین بِجاہِ النَّبِیِّ الْامین صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

مجھے اولیا  کی مَحبَّت عطا کر

تُو دیوانہ کر غوث کا یاالٰہی

 (وسائل بخشش ص۷۷ )

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                   صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

 



[1]     کفار سے عِلاج کروانے کے بارے میں مزید تفصیلات فتاوی رضویہ جلد 21صفحہ 238 تا243پر ملاحظہ کیجئے ۔



Total Pages: 30

Go To