Book Name:Bughz-o-Keena

(کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب ص ۲۸۶تا۲۹۹ملتقطاً)  

کیا کُفّارِ عَرَب سے بھی مَحَبَّت رکھنی ہوگی؟

          مَحَبَّتایمان کے ساتھ مَشروط ہے، لہٰذا کفّار و مُرتَدّینِ عَرَب سے مَحَبَّتتو دُور کی بات ہے اُن سے عداوت رکھنی واجِب ہے ۔ جیسا کہ حضرتِ علّامہ مَناوی علیہ رحمۃ القوی فرماتے ہیں : جو اہلِ عَرَب کافِریا منافِق ہیں اُن سے بُغض رکھنا بُرا نہیں بلکہ واجِب ہے۔   (فیض القدیر، ۱ / ۲۳۱،  تحت الحدیث ۲۲۵ )  

اہلِ عَرَب عَرَبی آقا کے ہم قوم ہیں

        عَرَبی لوگ قومِیّت کے اِعتِبار سے چُونکہ عَرَبی آقا صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  سے نسبت رکھتے ہیں لہٰذا مَحَبَّت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ جو اہلِ عرب مسلمان ہیں ان کو بُرا بھلا کہنے سے زَبان کوروکا جائے،  ہاں اِن میں جوکفّار ،  مُرتَدِّین اور منافقین ہیں یقینا وہ بُرے ہیں اور ان کو بُرا ہی کہا جائے گا۔دیکھئے! ابولَہَب بھی عَرَبی تھا مگراُس کی مذمّت میں قراٰنِ پاک کی ایک پوری سورت سُورۂ لَہَبموجود ہے۔ بَہَرحال اگر عَرَبِیوں میں سے کسی کی طرف سے بِالفرض آپ کو کوئی ذاتی تکلیف پَہنچ بھی گئی ہو تب بھی صبرسے کام لیجئے۔ یقینا اِس ایک کی ایذا دہی کی وجہ سے سب عَرَب ہرگز بُرے نہیں بن گئے۔اہلِ عَرَب سے مَحَبَّت کیلئے ہم غلامانِ مصطَفٰے کیلئے یِہی بات کافی ہے کہ ہمارے پیارے پیارے میٹھے میٹھے آقا  صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  عَرَبی ہیں ۔

ہائے کس وَقْت لگی پھانس اَلَم کی دل میں

کہ بَہُت دور رہے خارِ مُغیلانِ عرب                        (حدائق بخش ص۶۰)

 

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                   صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

 علم اور عالِم سے بُغْض رکھنے والا نہ بن کہ ہلاک ہوجائیگا

          سرکارِ مدینہ،  سلطانِ باقرینہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکا فرمانِ عظمت نشان ہے : اُغْدُ عَالِمًا اَوْ مُتَعَلِّمًا اَوْ مُسْتَمِعًا اَوْ مُحِبًّا وَلَا تَــــــکُنِ الْخَامِسَۃَ فَتَہْلِکَ عالِم بن یامتعلِّم،  یا علمی گفتگو سننے والا یا علم سے محبت کرنے والا بن اور پانچواں  (یعنی علم اور عالِم سے بُغْض رکھنے والا ([1]) )  نہ بن کہ ہلاک ہوجائیگا۔ (الجامع الصغیر، ص۷۸، حدیث: ۱۲۱۳)

عالمِ دین سے خواہ مخواہ بُغض رکھنے

 والا مریض القلب اور خبیث الباطن ہے

         اعلیٰ حضرت ،  اِمامِ اَہلسنّت، مولاناشاہ امام اَحمد رَضا خانعلیہ رحمۃُ الرَّحمٰن فتاویٰ رضویہ جلد 21صَفْحَہ129 پرفرماتے ہیں : {ا}  ’’  اگر عا لمِ  (دین)  کو اِس لئے بُرا کہتا ہے کہ وہ  ’’ عالِم  ‘‘  ہے جب تو صَریح کافِر ہے اور{۲} اگر بوجہِ عِلم اُس کی تعظیم فرض جانتا ہے مگر اپنی کِسی دُنیوی خُصُومت  (یعنی دشمنی)  کے باعِث بُرا کہتا ہے، گالی دیتا  (ہے اور)  تَحقیرکرتا ہے تو سخت فاسِق فاجِر ہے اور{۳} اگر بے سبب (یعنی بِلاوجہ )  رنج  (بُغض )   رکھتا ہے تو مَرِیْضُ الْقَلْب خَبِیْثُ الْباطِن  (یعنی دل کا مریض اور ناپاک باطن والا ہے)  اور اُس  (یعنی خواہ مخواہ بُغُض رکھنے والے)  کے کُفْرکا اندیشہ ہے ۔  ’’ خُلاصہ  ‘‘ میں ہے : مَنْ اَبْغَضَ عَالِماً مِّنْ غَیْرِ سَبَبٍ ظَاھِرٍ خِیْفَ عَلَیْہِ الْکُفْر  (یعنی  ’’ جو بِلا کسی ظاہِری وجہ کے عالم ِدین سے بُغض رکھے اُس پر کُفر کا خوف ہے ‘‘ ۔)                  (خُلاصَۃُ الفتاوٰی، ۴ / ۳۸۸)

مجھ کو اے عطّارؔ سُنّی عالِموں سے پیار ہے

ان شاءَاللہ دوجہاں میں میرا بیڑا پار ہے          (وسائل بخشش ، ص۶۴۶ )

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                   صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

 



[1]     فیض القدیر، ۲/۲۲، تحت الحدیث:۱۲۱۳



Total Pages: 30

Go To