Book Name:Bughz-o-Keena

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                   صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

سادات سے بُغض رکھنے والے کو

حوضِ کوثر پر چابک مارے جائینگے

          حضرت سیِّدُنا حسن بن علی  رضی اللہ تعالٰی عنہ کا فرمانِ عبرت نشان ہے: ہم سے بُغض مت رکھنا کہ رسولِ پاک،  صاحِبِ لَولاک، سَیّا حِ اَفلاکصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: لَایُبْغِضُنَا وَ لَایَحْسُدُنَااَحَدٌ اِلَّا ذِیْدَ عَنِ الْحَوْضِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ بِسِیَاطٍ مِنْ نَارٍ جو شخص ہم سے بُغض یا حَسَد کریگا،  اسے قِیامت کے دن حوضِ کوثر سے آگ کے چابکوں کے ذریعے دُور کیا جائے گا۔   (المعجم الاوسط، ۲ / ۳۳، الحدیث ۲۴۰۵)

اہلِ بیت کادشمن دوزَخی ہے

           ایک طویل حدیثِ پاک میں یہ بھی ہے کہ اگر کوئی شخص بیتُ اللہ  شریف کے ایک کونے اور مقامِ ابراھیم کے درمیان جائے اور نَماز پڑھے اور روزے رکھے اور پھر وہ اہلِ بیت کی دشمنی پر مر جائے تو وہ جہنَّم میں جائے گا۔   (المستدرک، کتاب معرفۃ الصحابۃ،  ۴ / ۱۲۹۔۱۳۰، الحدیث ۴۷۶۶)

حُبِّ سادات اے خدا دے واسِطہ

اہلبیتِ پاک کا فریاد ہے                    (وسائل بخشش ص ۵۰۳)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                   صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

عَرَبوں سے بُغض وکدورت رکھنے والا شَفاعَت سے محروم

          عَرَب ممالِک میں کام کرنے والے بعض لوگ عَرَبوں کو بُرا بھلا کہتے رہتے ہیں اور بعض حجاج بھی،  اِس سے بچنا ضِروری ہے۔حضرتِ سیِّدُنا عثمان بن عَفّان رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ شاہِ بنی آدم ،  نبیِّ مُحتَشَمصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: مَنْ غَشَّ الْعَرَبَ لَمْ یَدْخُلْ فِیْ شَفَاعَتِیْ وَ لَمْ تَنَلْہُ مَوَدَّتِیْجس نے اَہلِ عَرَب سے بُغض و کُدُورت رکھی میری شَفاعَت میں داخِل نہ ہو گا اورنہ ہی اُسے میری مَحَبَّت نصیب ہوگی۔  (ترمذی، کتاب المناقب، ۵ / ۴۸۷، حدیث: ۳۹۵۴)

جس نے عربوں سے بُغْض رکھا اس نے مجھ سے بُغْض رکھا

          محبوبِ رب،  تاجدارِ عَرَبصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کا فرمانِ عبرت نشان ہے: عَرَب کی مَحَبَّتایمان ہے اور ان کا  بُغْض کُفر ہے،  جس نے عَرَب سے مَحَبَّت کی اُس نے مجھ سے  مَحَبَّتکی اور جس نے ان سے بُغض رکھا اُس نے مجھ سے بُغض رکھا ۔  ( اَلْمُعْجَمُ الْاَ وْسَط ، ۲ / ۶۶، الحدیث ۲۵۳۷ )   

عَرَب سے بُغض کب کُفْر ہے

          حضرتِ علّامہ مَناوی علیہ رحمۃُ اللہِ القوی کے فرمانِ گرامی کا خُلاصہ ہے: سرکارِ نامدارصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  عَرَبی ہیں اور قراٰن بھی اہلِ عَرَب کی زَبان میں ہے،  ان نِسبتوں کی وجہ سے اگر کوئی عَرَبوں سے بُغض رکھے تو اِس سے سلطانِ عَرَب  صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کا بُغْض لازِم آئے گا جو کہکُفر ہے۔    (فیضُ القدیر لِلمناوی، ۳ / ۲۳۱،  تحتَ الحدیث ۲۲۵ )

تین وجوہ کی بناپر عرب سے محبت رکھو

          سرکارِمدینۂ منوّرہ، سردارِمکّۂ مکرّمہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکا فرمانِ محبت نشان ہے : تین وُجُوہ کی بِنا پر عَرَب سے مَحَبَّت رکھو،  اس لئے کہ {۱}میں عَرَبی ہوں {۲} قُراٰنِ مجید عَرَبی ہے {۳}اہلِ جنَّت کاکلام عَرَبی ہے۔ (شُعَبُ الْاِیْمَان، باب فی تعظیم النبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم، ۲ / ۲۳۰، الحدیث ۱۶۱۰ )  

حسنِ یوسُف پہ کٹیں مِصر میں اَنگُشتِ زَناں

سر کٹاتے ہیں ترے نام پہ مردانِ عرب

 (حدائقِ بخشش شریف، ص۵۸)

 



Total Pages: 30

Go To