Book Name:Aik Aankh wala Aadmi

نصیب ہواکہ 1998؁ء میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے فضل و کرم سے مجھے  دعوتِ اسلامی کے مشکبار مدنی ماحول کی سنّتوں بھری فضا مل گئی۔ ایک عاشقِ رسول جواگرچہ شیخ طریقت، امیر اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے مرید تو نہ تھے مگر وہ دعوتِ اسلامی کے اس عظیم مَدَنی مقصد ’’مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے۔‘‘ اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ،کے جذبے سے سرشار دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ تھے، انہوں نے ایک دن انفرادی کوشش کرتے ہوئے مجھے ایک ضخیم کتاب بنام فیضانِ سنّت مُطالعہ کے لیے دی، پڑھی تو بہت اچھی لگی، ایسی پر تاثیر تحریر پہلی مرتبہ پڑھی تو اس نے میرا اندازِ حیات  ہی بدل دیا اور میں اپنے سابقہ گناہوں کی مغفرت اور اپنی اصلاح کے جذبے کے تحت دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہوگیا۔مدرسہ بالغان میں دُرُست مخارج سے قرآنِ پاک پڑھنا شروع کردیا اور مدنی انعامات پر عمل کو اپنا معمول بنا لیا جس کی برکت سے نہ صرف آنکھوں کے قفلِ مدینہ کی دولت نصیب ہوئی بلکہ بدنگاہی کے ملعون مرض سے بھی جان چھوٹ گئی اور میں والدین کی بھی اطاعت کرنے لگا ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ اس ماحول نے میرے گناہوں سے بھرپور دامن کو ایسا دھویا کہ آج میں اپنے گاؤں کی مسجد میں امام وخطیب کے فرائض سرانجام دینے کے ساتھ ساتھ حلقہ نگران کی حیثیت سے مدنی کاموں کی ترقی وعروج کے لیے کوشا ں ہوں۔ میری والدہ کا کہنا ہے کہ میری آنکھوں کو یقین نہیں  آتا کہ جو بیٹا میری ایک نہیں سنتا تھا دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول نے اسے اطاعت گزار بنانے کے ساتھ ساتھ امامت وخطابت کے اعلیٰ منصب پر فائز کردیا ہے ۔

سُنّتیں مصطَفٰے کی تُو اپنائے جا

دین کو خوب محنت سے پھیلائے جا

یہ وصیّت تو عطارؔ پہنچائے جا

اُس کو جو اُن کے غم کا طلبگار ہے

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!                       صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

بدنگاہی کے نقصانات

پیارے اسلامی بھائیو!  دیکھا آپ نے! بدنگاہی نے ایک اسلامی بھائی کو کس طرح ہلاکت خیز گناہوں میں مبتلا کر دیا۔ یہ تو پروردگار عَزَّ  وَجَلَّکا کرم ہوا کہ وہ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی  ماحو ل سے وابستہ ہو گئے اور انہیں بدنگاہی کی لعنت سے چھٹکارا مل گیا،لہٰذا یاد رکھئے بدنگاہی انسان کو کہیں کا نہیں چھوڑتی اس کی وجہ سے  بندہ نہ صرف ماں باپ کا نافرمان بن جاتا ہے بلکہ ہر وقت اس کے دل و دماغ میں شیطان سمایا رہتا ہے، عجب بےسکونی کا عالم اس پر طاری رہتا ہے، نفسانی خواہشات و خیالات اس پر غالب رہتے ہیں، نفس کی تسکین کے لیے وہ مزید ہلاکت خیز گناہوں میں مبتلا ہو جاتا ہے مثلاً زناکاری ولواطت کے علاوہ اپنے ہاتھوں سے اپنی جوانی برباد کرنے سے بھی گریز نہیں کرتا۔ الامان والحفیظ۔۔

حجۃ الاسلام امام غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالوَالِی  منہاج العابدین میں فرماتے ہیں: بعض اوقات ایک بار بد نگاہی کرنے والا عرصہ تک تلاوتِ قرآن کی سعادت سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ ([1])  اور حضرتِ علامہ عبد الغنی نابلسی حنفی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی نے اَلْـکَشْفُ وَ الْبَیَانُ فِیْمَا  یَتَعَلَّقُ بِالنِّسْیَان کے صَفْحَہ 27 تا 32پر حافِظہ کمزور کرنے والے جو اسباب تحریر فرمائے ہیں ان میں یہ بھی ہے کہ اپنا اور غَیر کا سَتْر دیکھنے سے تنگدستی آتی اور حافِظہ کمزور ہوتا ہے۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  جب اپنی شرم گاہ کو دیکھنے سے بھی حافظہ کی کمزوری اور تنگدستی کا وبال آتا ہے تو پھر بدنگاہی کرنے اور فلمیں دیکھنے کے دنیوی و اُخروی نقصانات کا تو پوچھنا ہی کیا!

دیکھنے ونہ دیکھنے کی مختلف صورتیں

 



[1]        منھاجُ العابدین، ص ۱۵۷



Total Pages: 16

Go To