Book Name:Aik Aankh wala Aadmi

حضرتِ سیِّدُنا ابن عباس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما فرماتے ہیں کہ ایک شخص نورِ مجَسّمْ، شہنشاہِ بنی آدم صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمت میں حاضِر ہوا جس کا خون بہہ رہاتھا تو  سرورِ کونین، دُکھی دِلوں کے چین صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے استفسار فرمایا : تجھے کیا ہوا؟ عرض کی: (آپ کی خدمت میں حاضری کے لیے آتے ہوئےراستے میں) میرے پاس سے ایک عورت گزری تو میں نے اس کی طرف دیکھا اور میری نِگاہیں مسلسل اس کا پیچھا کر رہی تھیں کہ اچانک سامنے دیوار آگئی جس نے مجھے زخمی کردیا اور میرا یہ حال کر دیا جسے آپ مُلاحَظہ فرمارہے ہیں۔ تو سرورِ دو عالم صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :اللہ عَزَّ وَجَلَّ جب کسی بندے سے بھلائی کاارادہ فرماتا ہے تواُسے دنیاہی میں اس  (کے گناہ)  کی سزادے دیتاہے۔ ([1])

پیارے اسلامی بھائیو!  عِبْرَت  پکڑئیے اور بدنگاہی سے فوراً باز آجائیے کہ دنیا میں آج مسلمانوں کے زوال کی ایک وجہ بدنگاہی و بے حیائی بھی ہے۔ کیونکہ یہ عام مشاہدہ ہے کہ بعض لوگ بدنِگاہی کے اس قدر عادی ہوچکے ہیں کہ مَعَاذَ اللہ ثُمَّ مَعَاذَ اللہ  جب تک غىر محرم عورتوں کو تکتے نہىں انہىں چین نہیں آتااور وہ اپنے اس مذموم مقصد کے حُصول کی خاطِر بازاروں، شاپنگ سینٹروں، تفریح گاہوں، الغرض جہاں جہاں بے پردہ عورتوں کا اِزْدِحام  (مجمع) ہوتا ہےوہاں مارے مارے پھرتے،خوب بدنِگاہیاں کرتے اور اپنی دنیا وآخرت کی بربادی کا سامان کرتے ہیں۔ چنانچہ حُجَّةُ الْاِسْلَام حضرت سیِّدُنا امام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالوَالِی مِنْهَاجُ الْعَابِدِیْن میں فرماتے ہیں:حضرت سیِّدُنا عیسٰی عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے منقول ہے کہ خود کو بدنِگاہی سے بچاؤ کیونکہ بدنِگاہی دل میں شہوت کا بِیج بَوتی ہے،پھر شہوت بدنِگاہی کرنے والے کو فتنہ میں مبتلا کردیتی ہے۔ ([2])

کامِل مومن کی پہچان

بدنِگاہی کرنے والے کو اگر پتا چل جائے کہ کوئى غىر مرد اس کی ماں، بہن، بیوی یا بیٹی کو بری نظر سے دىکھ رہا ہے تو اس کی  غىرت کو جوش آجائے اور وہ  آگ بگولا ہو جائے،لہٰذا اسے غور کرنا چاہئے کہ جسے وہ دىکھ رہا ہے وہ بھی تو کسى کى ماں، بہن، بیوی یا بیٹی ہے۔یہ کیسی منطق ہے  کہ جو بات اپنے لئے ناپسند ہے اسے دوسروں کے حق میں برا نہیں سمجھاجاتا؟حالانکہ مسلمان کی شان اور کامِل مومن کی پہچان تو یہ ہے کہ جو اپنے لئے پسند کرے وہی اپنے مسلمان بھائی کےلئے بھی پسند کرے۔جیسا کہ حضرت سَیِّدُنا اَنَس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ  سے روایت ہے کہ حضور سرورِکونین صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:لَا يُؤْمِنُ اَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبَّ لِاَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهٖ۔ تم میں سے کوئی مومن نہیں ہوسکتا یہاں تک کہ اپنے  بھائی کیلئے  بھی وہی پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔ ([3])

دعوتِ اسلامی کی معاشرتی برائیوں کے خلاف جنگ

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  عَزَّ  وَجَلَّ! تبلیغِ قرآن و سنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامى کى ىہ خصوصىت ہے کہ ىہ مُعاشَرتی برائىوں کو ہائى لائٹ  (High light) کرتى، ہمارے اندر کے چور کو پکڑتى،ضمیر کو جھنجوڑتی  اور مُعاشَرے میں پائی جانے والی مختلف برائیوں سے ہونے والے نقصانات کی طرف ہمیں مُتَوجّہ کرتی ہے تاکہ اگر لاشعوری ونادانستہ طور پر ہم  ان میں سے کسی عادَت کو اپنائے ہوں تو اس کی روک تھام کے لئے کوشِش کرسکیں۔مثلاً فی زمانہ یہ بات عام ہے کہ مَحافِل وتقریبات میں اپنى بىوى، بیٹی وغیرہ  کاغیر مردوں سے تعارف کروایا جاتا ہے کہ ان سے ملىے ىہ مىرى بىوی ہے، یہ میری بیٹی ہے اور وہ اجنبی شخص اس کى بیوی، بىٹى کو آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دىکھتا ہے اور بسا اوقات تو ہاتھ تک ملاتے ہوئے یہ کہتا ہے کہ آپ سے مل کر بڑی خوشی ہوئی۔کیا یہ شَرم سے ڈوب مَرنے کا مَقام نہیں!

شَرمِ نبى خوفِ خدا                ىہ بھى نہىں وہ بھى نہىں

 



[1]    بحر الدموع، الفصل السابع ، الحذر من النظر، ص ٥٧ مجمع الزوائد، كتاب التوبة، باب فيمن عوقب بذنبه فی الدنيا ،۱۰ /  ۳۱۳، حديث:۱۷۴۷۱

[2]   منهاج العابدین،تقویٰ الاعضاء الخمسة، الفصل الاول :العين، ص۶۲

[3]      بخاری ، کتاب الایمان ،باب  من الایمان ان یحب لاخیه  … الخ،۱۶ / ۱، حدیث:۱۳



Total Pages: 16

Go To