Book Name:Aik Aankh wala Aadmi

وہ خبردار ہے کىا ہونا ہے

نیچی نظر رکھنے کا لاجواب طریقہ

حضرتِ سیِّدُناحَسّان بِن اَبی سنان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الْحَنَّان نَمازِ عید کے لیے گئے۔ جب واپس گھر تشریف لائے تو آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ کی اہلیہ کہنے لگی:آج آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ نے کتنی عورَتیں دیکھیں؟ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ خاموش رہے، جب اُس نے زیادہ اصرار کیا تو فرمایا:گھر سے نکلنے سے لے کرتمہارے پاس واپس آنے تک میں اپنے  (پاؤں کے)  انگوٹھوں کی طرف دیکھتا رہا۔ ([1])

سُبحٰنَ اللہ! اللہ والے بِلا ضَرورت بِالخصوص بھیڑکے موقع پر اِدھر اُدھر دیکھتے ہی نہیں کہ مَبادا (یعنی ایسا نہ ہو کہ) شرعاًجس کی اجازت نہ ہواس پر نظر پڑجائے !  (گزرے ہوئے نیک بندوں کی ایک علامت بیان کرتے ہوئے ) حضرتِ سیِّدُنا داود طائی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ نے فرمایا:نیک لوگ فُضول اِدھر اُدھر دیکھنے کو ناپسند کرتے تھے۔ ([2])

آنکھ اٹھتى تو  مىں جھنجھلا کے پلک سى لىتا

دل بگڑتا تومىں گھبراکے سنبھالا کرتا ([3])

غیر کی طرف متوجہ ہونے کی سزا

پیارے اسلامی بھائیو! اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کے نیک بندے دو طرح کے ہیں، بعض اس کی عبادت میں اس لیے مصروف رہتے ہیں کہ ان کے دل خوفِ خدا سے لبریز ہوتے ہیں، اگر کبھی کوئی کوتاہی ہو جائے تو فوراً اس کی تلافی کرنے کی کوشش کرتے ہیں جیسا کہ ایک آنکھ والے آدمی کی حکایت میں بیان ہو چکا ہے۔جبکہ بعض لوگ اپنے پروردگار عَزَّ  وَجَلَّکی عبادت جنت کے حصول اور جہنم سے نجات کے لیے نہیں بلکہ رِضائے رَبُّ الاَنام پانے کے لیے کرتے ہیں۔اگر ایسے لوگ تھوڑی دیر کے لیے بھی بارگاہِ خداوندی سے توجہ ہٹاتے ہیں تو انہیں فوراً خبردار کر دیا جاتا ہے تاکہ دوبارہ ایسا نہ ہو۔ جیسا کہ حضرتِ سیِّدُنا ابو یعقوب نَہْرَجُوری رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ فرماتے ہیں:میں نے طواف کے دوران ایک شخص کو دیکھا جس کی ایک آنکھ نہ تھی اور وہ یہ دعا مانگ رہا تھا:”اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ! میں تجھ سے تیر ی پناہ مانگتاہوں۔“ میں نے اس سے پوچھا :یہ کیسی دعاہے ؟تو اس نے بتایا:میں پچا س سال سے بَـیْتُ الله شریف کی خدمت کر رہا ہوں (مگر کبھی میں نے کسی کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھا)  ایک دن میں نے ایک شخص کو دیکھا تو اس کے حسن کی تعریف کردی۔ اچانک مجھے ایک تھپڑآن لگا جس سے میری آنکھ میرے رخسار پر بہہ گئی،تکلیف کی شدت سے میرے منہ سے آہ نکلی تو دوسرا تھپڑ آلگا اور کسی کہنے والے نے کہا :اگر تُونے پھر آہ کی تو ہم اور ماریں گے۔ ([4])

ہمیں کیا کرنا چاہئے؟

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اس بات سے اِنکار ممکن نہیں کہ اہل وعیال کی کفالت کا ذمہ دار مرد ہے جسےپورا کرنے  کے لئے وہ مختلف ذرائع بروئے کار لاتا ہے مثلاً کوئی  کاروبار یا نوکرى وغىرہ  کرتا ہے اور کفالَت گھر بیٹھے ہرگز نہیں ہوسکتی اس کے لئے یقیناً باہر جانا پڑے گا اور فی زمانہ باہَر کا ماحَول کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اىسے حالات مىں نظر کى حِفاظَت انتہائی ضَروری ہے اور اس کے لئے  ہمیں خوب مشق کرنی پڑے گی اور وہ یوں کہ  اپنے گھر مىں بھی نِگاہیں نىچى رکھنے کی کوشش کیجئے ، زہے نصیب شیخِ طریقت، اَمِیْرِ اہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کےعطاکردہ اس مَدَنی انعام ’’آنکھوں کی



[1] موسوعة الامام ابن ابی الدنیا،کتاب الورع، باب الورع فی النظر، ۲۰۵ / ۱

[2] موسوعة الامام ابن ابی الدنیا،کتاب الورع، باب الورع فی النظر، ۲۰۴ / ۱

[3]  ذوقِ نعت از مولانا حسن رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الْحَنَّان

[4]  بحر الدموع، ص ۵۷



Total Pages: 16

Go To