Book Name:Kabab Samosay kay Nuqsanat

کیلئے ڈالی جانے والی چیز بھی نَمی چھوڑتی ہے جس کے سبب تیل مُشتَعِل  (مُشْ۔  تَ۔  عِل)   ہوکر چٹاخ چٹاخ کاشور مچاتا ہے جوکہ اِس کے کیمیائی اَجزا کی توڑ پھوڑ کی علامت ہے اور اِس کے سبب غذائی اَجزا اور وِٹامنز تباہ ہوجاتے ہیں ۔ 

   ’’ یارب ! لَذّاتِ نفسانی سے بچا‘‘      کے اُنّیس حُرُو ف کی

 نسبت سے تلی ہوئی چیزوں سے ہونے والی19 بیماریوں کی نشاندہی

             {۱}  بَدَن کا وزْن  بڑھتا ہے    {۲}   آنتوں کی دیواروں کو نقصان پہنچتا ہے    {۳}   اِجابت  ( پیٹ کی صفائی)   میں گڑ بڑ پیدا ہوتی ہے    {۴}   پیٹ کادرد   {۵}   متلی    {۶}  قے یا    {۷}   اِسہال  ( یعنی پانی جیسے دست)   ہوسکتے ہیں    {۸}   چربی کے مقابلے میں تلی ہوئی چیزوں کا استِعمال زیادہ تیزی کے ساتھ خون میں نقصان دِہ کولیسٹرول یعنیLDL بناتا ہے    {۹}   مُفید کولیسٹرول یعنی HDLمیں کمی آتی ہے    {۱۰}   خون میں لوتھڑے یعنی جمی ہوئی ٹکڑیاں بنتی ہیں    {۱۱}   ہاضِمہ خراب ہوتا ہے    {۱۲}   گیس ہوتی ہے    {۱۳}   زیادہ گرم کردہ تیل میں ایک زَہریلا مادّہ   ’’ اَیکرُولِین‘‘  پیدا ہوجاتا ہے جو کہ آنتوں میں خراش  پیدا کرتا ہے بلکہ مَعَاذَاللہ عَزَّوَجَلَّ   {۱۴}   کینسر کا سبب بھی بن سکتا ہے   {۱۵}   تیل کو زِیادہ دیر تک گر م کرنے اور اِس میں چیزیں تلنے کے عمل سے اس میں ایک اور خطرناک زَہریلا مادّہ ‘’  فری ریڈ یکلز’‘  پیدا ہوجاتا ہے جو کہ دل کے امراض    {۱۶}   کینسر    {۱۷}   جوڑوں میں سوزِش   {۱۸}   دماغ کے اَمراض اور   {۱۹}   جلد بڑھاپا لانے کا سبب بنتا ہے ۔   

            ’’ فری ریڈیکلز ‘‘  نامی خطرناک زہریلا مادّہ پیدا کرنے والے مزید اور بھی عَوامِل ہیں مَثَلاً ٭تمباکو نوشی ٭ہوا کی آلودَگی  (جیسا کہ آج کل گھروں میں ہر وقت کمرہ بند رکھا جاتا ہے نہ دھوپ آنے دی جاتی ہے نہ تازہ ہوا )   ٭کارکا دُھواں ٭ایکسرے ( X -RAY ٭مائیکرووَیْو اَووَن  ٭. T.Vاور ٭ کمپیوٹر کی اِسکرین کی شُعائیں ٭فَضائی سفر کی تابکاری   ( یعنی ہوائی جہاز کا شعائیں پھینکنے کا عمل) 

خطر ناک زَہر کا توڑ

اللہ عَزَّوَجَلَّنے اِس خطر ناک زَہر یعنی ’’  فری ریڈیکلز ‘‘  کا توڑ بھی پیدا فرمایا ہے چُنانچِہ جن سبزیوں اور پھلوں کا رنگ سبز ،  زَرد یا نارنجی یعنی سُرخی مائل زرد ہوتا ہے یہ اِس خطرناک زہر کو تباہ کردیتے ہیں اِس طرح کے پھلوں اور سبزیوں کا رنگ جس قدر گہرا ہوگا اُن میں وٹامنز اور مَعدَنی اجزاء کی مقدار بھی زِیادہ ہوتی ہے وہ اِس زہر کازِیادہ قوّت کے ساتھ توڑ کرتے ہیں ۔   

صَلُّوا1 عَلَی الْحَبِیْب!                                        صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

تلی ہوئی چیزوں کانقصان کم کرنے کا طریقہ

            دو باتوں پر عمل کرنے سے تلی ہوئی چیزوں کے نقصانات میں کمی ا ٓسکتی ہے:   (۱)   کباب ، سموسے،  پکوڑے ، انڈا آملیٹ ، مچھلی وغیرہ تلنے کیلئے جو کڑاہی یا فرائی پین استِعمال کیا جائے وہ نان اسٹک  ( NON STICK  ہو (۲)  تلنے کے بعدایک ایک چیز کوبے خوشبو ٹِشو پیپر میں اچّھی طرح لپیٹ لیا جائے تاکہ کچھ نہ کچھ تیل جَذب ہوجائے ۔   

بچا ہواتیل دوبارہ استِعمال کرنے کا طریقہ

            ماہِرین کاکہنا ہے کہ : ایک بار تلنے کیلئے استعمال کرنے کے بعد تیل کو دوبارہ گرم نہ کیا جائے ۔  اگر دوبارہ استعمال کرنا ہوتواس کا طریقہ یہ ہے کہ اِس کو چھان کر ریفریجریٹر میں رکھ دیا جائے ، بِغیر چھانے فِرِج میں نہ رکھاجائے۔    

فنِّ طِبّ یقینی نہیں

  تلی ہوئی چیزوں کے نقصانات کے تعلُّق سے میں نے جو کچھ عرض کیا وہ میری اپنی نہیں طبیبوں کی تحقیق ہے۔    یہ اُصول یاد رکھنے کے قابل ہے کہ ’’  فنِّ طِبّ سارے کا سارا ظنّی ہے یقینی نہیں ۔   ‘‘  

   ’’ یاربِّ مصطَفے ہمیں مدینۃُ المُنوَّرہ کی نعمتیں نصیب فرما‘‘     کے اِکتالیس حُرُوف کی نِسبت سے غذاؤں کے بارے میں 41مَدَنی پھول

      {۱}   چاکلیٹ اور مٹھائیاں زِیادہ کھانے سے دانت خراب ہوجاتے ہیں کیوں کہ چِینی کے ذرّات دانتوں پر چپک کرمخصوص جراثیم کی افزائش کاسبب بنتے ہیں    {۲}   بچّےچاکلیٹ کے شیدائی ہوتے ہیں ان کو بچانا ضروری ہے۔   چاکلیٹ یا اس کی پنّی پر چند مرتبہ کوئی کڑوی چیز یا مرچیں وغیرہ لگا دی جائیں جس سے ان کو چاکلیٹ سے دلچسپی ختم ہو جائے    {۳}   پراسیس کردہ ٹِن پیک غذاؤں کومحفوظ کرنے کیلئے ’’  سوڈیم نائٹرٹ‘‘  نامی کیمیکل ڈالا جاتا ہے ،  اس کا مسلسل استعمال سرطان کی گانٹھ  (CANCER TUMOR)   بناتا ہے    {۴}  آئسکریم کے ایک کپ  ( یعنی 210ملی لیٹر)   میں 84 ملی گرام کولیسٹرول ہوتا ہے    {۵}   250گرام کی بوتل  



Total Pages: 4

Go To