Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

نمازِ تہجد صالحین کی صفت ہے: 

        اللہ عَزَّ وَجَلَّنے رات کی نماز کو صالحین کا وصف قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:

یَّتْلُوْنَ  اٰیٰتِ  اللّٰهِ  اٰنَآءَ  الَّیْلِ  وَ  هُمْ  یَسْجُدُوْنَ (۱۱۳) یُؤْمِنُوْنَ  بِاللّٰهِ  وَ  الْیَوْمِ الْاٰخِرِ  وَ  یَاْمُرُوْنَ  بِالْمَعْرُوْفِ  وَ  یَنْهَوْنَ  عَنِ  الْمُنْكَرِ  وَ  یُسَارِعُوْنَ  فِی  الْخَیْرٰتِؕ-وَ  اُولٰٓىٕكَ  مِنَ  الصّٰلِحِیْنَ (۱۱۴)  

(پ۴،  ال عمران:  ۱۱۳،  ۱۱۴)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اللہ کی آیتیں   پڑھتے ہیں   رات کی گھڑیوں   میں   اور سجدہ کرتے ہیں  ۔ اللہ اور پچھلے دن پر ایمان لاتے ہیں   اور بھلائی کا حکم اور برائی سے  منع کرتے ہیں   اور نیک کاموں   پر دوڑتے ہیں   اور یہ لوگ لائق ہیں  ۔

نمازِ تہجد کا مستحب وقت: 

            نماز ِ تہجد کا مستحب وقت رات کا دو تہائی حصہ ہے اور کم از کم مستحب وقت چھٹا حصہ ہے کیونکہ ماہِ نُبُوَّت،   مہرِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے متعلق مروی ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کبھی بھی اتنی رات گئے تک قیام نہ کیا کہ صبح ہو گئی ہو بلکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم رات کا کچھ حصہ آرام بھی فرمایا کرتے اور کوئی ایسی رات نہیں   گزری کہ جس میں   آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے صبح تک آرام نہ کیا ہو بلکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم رات کا کچھ حصہ ضرور قیام فرمایا کرتے۔  ([1])

        منقول ہے کہ رات کے ابتدائی حصے میں   نماز پڑھنا تہجدگزاروں   کا … نصف شب میں   قیام کرنا فرمانبرداروں   کا … آخر شب میں   قیام کرنا نمازیوں   کا … اور فجر کے وقت قیام کرنا غافلوں   کا طریقہ ہے۔

فرشتہ لوگوں   کو بیدار کرتا ہے: 

حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں   کہ ہمیں   حضرت سیِّدُنا یوسف بن مہران رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے بتایا: مجھے معلوم ہوا ہے کہ عرش کے نیچے ایک فرشتہ ہے جس کی صورت مرغ جیسی ہے،   اس کے پنجے موتیوں   کے اور دونوں   خار  (مرغ کی ٹانگ پر وہ کانٹے جو ٹخنے کے اوپر ہوتے ہیں  )  سبز زبرجد کے ہیں  ،   جب رات کا پہلا آدھا حصہ گزرتا ہے تو وہ اپنے پروں   کو پھڑ پھڑاتا ہے اور کہتا ہے: ’’رات کے وقت نماز پڑھنے والوں   کو اٹھ جانا چاہئے۔ ‘‘  جب رات کا آدھا حصہ گزر جاتا ہے تو وہ اپنے پروں   کو پھڑ پھڑاتا ہے اور کہتا ہے:  ’’تہجد پڑھنے والے کھڑے ہو جائیں  ۔ ‘‘  اور جب تیسرا تہائی حصہ بھی گزر جاتا ہے تو پھر اپنے پروں   کو پھڑ پھڑاتا ہے اور کہتا ہے:  ’’نماز پڑھنے والے کھڑے ہو جائیں  ۔ ‘‘  اور جب طلوعِ فجر کا وقت ہوتا ہے تو اپنے پروں   کو پھڑ پھڑاتا ہے اور کہتا ہے: ’’غافلین بھی اٹھ جائیں   کہ انکے بوجھ انہی پر ہیں  ۔ ‘‘   ([2])

عبادت کرنے والوں   کی اقسام: 

        علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں   کہ رات کے وقت عبادت کرنے والے تین طرح کے ہوتے ہیں  :

 (۱) … ایک تو وہ لوگ ہیں   جنہیں   رات سفر طے کرتے ہوئے پیچھے چھوڑ کر خود آگے بڑھ جاتی ہے،   یہ مریدین اور وظائف کرنے والے لوگ ہیں   جنہوں  نے رات کے ابتدائی حصے میں   عبادت شروع کی لیکن رات ان پر غالب آ گئی اور وہ سو گئے۔  (۲)  …دوسرے وہ لوگ ہیں   جنہوں  نے رات کو پچھاڑ دیا،   یہ صبر کرنے والے علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کا گروہ ہے جنہوں  نے صبر کیا اور غالب آ گئے۔

 (۳)  …تیسرے وہ لوگ ہیں   جن کے سبب رات اپنا سفر طے کرتی ہے۔ یعنی وہ محبین اور اہل فکر و دانش ہیں  ،   انیس و ہم نشین ہیں  ،   ذکر و مناجات والے ہیں  ،   عاجزی و انکساری کے پیکر اور حضوری والے ہیں  ۔ جب رات ہوتی ہے تو وہ پریشان حال ہو جاتے ہیں   اور ان پر نازل ہونے والی نعمتیں   انہیں   رات کی کمی کا احساس دلاتی ہیں  ،   دیدارِ حبیب ان سے  نیند ختم کر دیتا ہے اور فہم و ادراک ان پر قیام کا بوجھ آسان کر دیتاہے،   بارگاہِ قدس سے  مخصوص تعلق ان سے  تھکاوٹ دور کر دیتا ہے ا ور عتاب کی وعید انہیں   بیدار رکھتی ہے۔

بزرگانِ دین کی راتیں  : 

٭  منقول ہے کہ کسی شب بیدار سے  پوچھا گیا کہ رات کے ساتھ آپ کا تعلق کیسا ہے؟ تو انہوں  نے جواب دیا: ’’میں  نے کبھی خیال ہی نہیں   کیا،   بس رات اپنا چہرہ دکھا کر لوٹ جاتی ہے اور میں  نے کبھی اس کی پروا نہیں   کی۔ ‘‘ 

٭  اللہ عَزَّ وَجَلَّکے ایک نیک بندے کا فرمان ہے کہ میں   اور رات ایک دوسرے سے  سبقت لے جانے والے دو گھوڑوں   کی طرح ہیں  ،   کبھی تو وہ فجر تک میرا ساتھ دیتی ہے اور کبھی مجھے غورو فکر سے  بھی غافل کر دیتی ہے۔

٭  اللہ عَزَّ وَجَلَّکے ایک نیک بندے سے  پوچھا گیا کہ آپ کی رات کی کیفیت کیسی ہوتی ہے؟ تو انہوں  نے فرمایا: ’’اس وقت میری دو حالتیں   ہوتی ہیں  : یعنی جب رات آتی ہے تو میں   اس کی ظلمت و تاریکی سے  خوش ہو جاتاہوں   مگر جب فجر طلوع ہوتی ہے تو میں   غم میں   مبتلا ہو جاتا ہوں   ،   نہ تو کبھی میری خوشی مکمل ہوتی ہے اور نہ ہی میں  نے کبھی اس غم سے  شفا پائی ہے۔ ‘‘ 

٭ ایک عاشقِ حقیقی سے  جب پوچھا گیا کہ آپ کی رات کیسی ہوتی ہے؟ تو انہوں  نے بتایا:  ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم! میں   نہیں   جانتا کہ میری اس وقت کیفیت کیسی ہوتی ہے،   ہاں   اتنا جانتا ہوں   کہ میں   بس دیکھنے اور لمحہ بھر ٹھہر جانے کی کیفیت کے درمیان ہوتا ہوں  ،   یعنی رات جب اپنی تاریکی کے ساتھ آتی ہے اور میں   اس کی تاریکی میں   داخل ہوتا ہوں   تو اس سے  پہلے



[1]     صحيح البخاری، کتاب التهجد، باب من نام    الخ، الحديث: ۱۱۴۶، ص۸۹ مفهوماً

[2]     الحبائک فی اخبار الملائک، باب ما جاء فی الديک، ص۲۴



Total Pages: 332

Go To