Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

جزا مخفی رکھی۔ چنانچہ ارشاد فرمایا:  اَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ اٰنَآءَ الَّیْلِ سَاجِدًا وَّ قَآىٕمًا یَّحْذَرُ الْاٰخِرَةَ وَ یَرْجُوْا رَحْمَةَ رَبِّهٖؕ- (پ۲۳،  الزمر:  ۹)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: کیا وہ جسے  فرمانبرداری میں   رات کی گھڑیاں   گزریں   سجود میں   اور قیام میں   آخرت سے  ڈرتا اور اپنے رب کی رحمت کی آس لگائے ۔

        اور اس کے بعد ارشاد فرمایا:

قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَؕ- (پ۲۳،  الزمر:  ۹)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: تم فرماؤ کیا برابر ہیں   جاننے والے اور انجان۔

          یعنی جو شخص عالم ہو اور فرمانبردار و اطاعت گزار ہو کیا وہ اس شخص کے برابر ہو سکتا ہے جو غافل ہو اور رات بھر سویا رہتا ہو؟ اسے  یہ بھی معلوم نہ ہو کہ اسے  کس بات سے  ڈرایا جا رہا ہے اور وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّسے  کس شے کی امید رکھے۔

       اللہ عَزَّ وَجَلَّنے قرآنِ کریم میں   علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے دنیاوی و اُخروی اوصاف بیان کئے ہیں  ۔ چنانچہ دنیا میں   ان کے اوصاف کا تذکرہ فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا:

 (۱) وَ الَّذِیْنَ یَبِیْتُوْنَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَّ قِیَامًا (۶۴)  (پ۱۹،   الفرقان:  ۶۴)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور وہ جو رات کاٹتے ہیں  اپنے ربّ کے لئے سجدے اور قیام میں  ۔

 (۲) تَتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّ طَمَعًا٘- (پ۲۱،  السجدة:  ۱۶)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: ان کی کروٹیں   جدا ہوتی ہیں   خوابگاہوں   سے  اور اپنے ربّ کو پکارتے ہیں   ڈرتے اور امید کرتے۔

        یعنی وہ بستروں   سے  جدا ہو جاتے ہیں  ،   انہیں   ڈر اور ثواب کی امید کی وجہ سے  کسی پل چین نہیں   آتا ۔

        اور آخرت میں   جو ان کے لئے نعمتیں   تیار کی ہیں   ان کا تذکرہ فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا:

فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِیَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْیُنٍۚ-جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ (۱۷)  (پ۲۱،  السجدة:  ۱۷)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: تو کسی جی کو نہیں   معلوم جو آنکھ کی ٹھنڈک ان کے لئے چُھپا رکھی ہے صلہ ان کے کاموں   کا۔

        اس آیتِ مبارکہ کی تفسیر میں   منقول ہے کہ’’ یَعْمَلُوْنَ  ‘‘  سے  ان کا رات بھر عبادت کرنا مراد ہے اور یہ بھی منقولہے کہ اس سے  مراد اہلِ خوف و رجا ہیں  ۔ خوف ورجا دل کے دو ایسے  عمل ہیں   جن سے  مشاہدۂ غیب حاصل ہوتا ہے۔ جب علمائے ربانیین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن اپنے ربّ عَزَّ وَجَلَّکی خاطر چھپ کر اعمال بجا لاتے ہیں   تو ان کا ربّ عَزَّ وَجَلَّبھی ان کے لئے بہترین جزا کے ذخائر ظاہری آنکھوں   سے  چھپا دیتا ہے اور جس طرح اللہ عَزَّ وَجَلَّسے  محبت کرنے والوں   کا کوئی بھی عمل اپنے ربّ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے بغیر نہیں   ہوتا اسی طرح ان کی آنکھیں   بھی اپنے ربّ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے بغیر کسی چیز سے  ٹھنڈی نہیں   ہوتیں  ۔ 

نماز تہجد: 

        اللہ عَزَّ وَجَلَّکا فرمانِ عالیشان ہے:

وَ اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ- (پ۱،  البقرة:  ۴۵)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور صبر اور نماز سے  مدد چاہو۔ بعض علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں   کہ یہاں   نماز سے  مراد صلاۃ ُاللَّیل ہے کہ جس سے  اللہ

عَزَّ وَجَلَّکے بندے مجاہدۂ نفس اور دشمن کی اذیتوں   پر صبر حاصل کرنے کے لئے مدد طلب کرتے ہیں  ۔  ([1])

        اس کے بعد اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ارشاد فرمایا:

وَ اِنَّهَا لَكَبِیْرَةٌ اِلَّا عَلَى الْخٰشِعِیْنَۙ (۴۵)  (پ۱،  البقرة:  ۴۵)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور بیشک نماز ضرور بھاری ہے مگر ان پر جو دل سے  میری طرف جھکتے ہیں  ۔

            یہاں’’ خاشعین ‘‘  سے  مراد اللہ عَزَّ وَجَلَّسے  ڈرنے اور عاجزی و انکساری کرنے والے لوگ ہیں   یعنی ان لوگوں   پر نماز بوجھ ہوتی ہے نہ وہ اس سے  منہ موڑتے ہیں   بلکہ نماز تو ان کے لئے آسان ہے اور وہ اس سے  لذت پاتے ہیں  ۔

            مروی ہے کہ عرض کی گئی:  ’’ یا رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! فلاں   شخص رات کو نماز پڑھتا رہتا ہے اور جب صبح ہوتی ہے تو چوری کرنے لگتا ہے۔ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’جو تم کہہ رہے ہو عنقریب اس کی نماز وہ  (برائی)  چھڑا دے گی۔ ‘‘   ([2])

            مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ تقرب نشان ہے: ’’نماز  (یعنی تہجد)  ضرور ادا کیا کرو! کیونکہ یہ تمہارے ربّ کی رضا کا باعث ہے تمہارے گناہوں   کو مٹانے والی ہے تم سے  پہلے نیک بندوں   کا یہی طرزِ عمل رہا ہے گناہوں   کو دور کرنے والی بوجھ اتارنے والی شیطان کے مکر و فریب کو ختم کرنے والی اور جسم سے  بیماریوں   کو بھگانے والی ہے۔ ‘‘    ([3])

 



[1]     عوارف المعارف، الباب الثامن والاربعون فی تقسيم قيام الليل، ص۲۱۹

[2]     المسند للامام احمد بن حنبل، مسند ابی هريرة، الحديث:۹۷۸۵، ج۳، ص۴۵۷

[3]     جامع الترمذی، کتاب الدعوات، باب من فتح لکم باب الدعاء، الحديث: ۳۵۴۹، ص۲۰۱۷



Total Pages: 332

Go To