Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

میں  نے برا عمل کیا اور اپنی جان پر ظلم کیا ہے پس میرا گناہ بخش دے،   بے شک  تو ہی میرا رب ہے،   یقیناً تیرے سوا گناہوں   کو کوئی نہیں   بخشتا۔

٭  اس کے بعد جب نمازِ تہجد کے لئے کھڑا ہو تو یہ دعا کرے:

 (اَللّٰہُ اَکْبَرُ کَبِیْرًا،   وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ کَثِیْرًا،   وَسُبْحَانَ اللّٰہِ بُکْرَۃً وَّاَصِیْلًا)    ([1])

تر جمعہ : اللہ عَزَّ وَجَلَّ  سب سے  بڑاہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ  کے لئے ہی کثیر حمد ہے اور تسبیح ہے اللہ عَزَّ وَجَلَّ  کی صبح و شام۔

٭  اس کے بعد دس دس بار یہ کلمات پڑھے:  (سُبْحَانَ اللّٰہِ،   اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ،   لَاۤ اِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہُ اور اَللّٰہُ اَکْبَرُ)  

٭ پھر یہ کہے:  (اَللّٰہُ اَکْبَرُ ذُو الْمَلَکُوْتِ وَالْجَبَرُوْتِ وَالْکِبْرِیآءِ وَالْجَلَالِ وَالْعَظَمَۃِ وَالْقُدْرَۃِ)  

تر جمعہ : اللہ عَزَّ وَجَلَّ سب سے  بڑا ہے،   ملکوت و جبروت کا مالک ہے،   کبریائی و جلال اور عظمت وقدرت والاہے۔

٭  اس کے بعد یہ کلمات پڑھے جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ رسولوں   کے سالار،   شہنشاہِ ابرار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم انہیں   تہجد کی نماز میں   پڑھا کرتے:

 (اَللّٰہُمَّ لَكَ الْحَمْدُ،   اَنْتَ نُوْرُ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ،   وَلَكَ الْحَمْدُ،   اَنْتَ بَہَآءُ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ،   وَلَكَ الْحَمْدُ اَنْتَ نُوْرُ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ،   وَلَكَ الْحَمْدُ اَنْتَ زَیْنُ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ،   وَلَكَ الْحَمْدُ اَنْتَ قَیامُ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ،   وَمَنْ فِیْہِنَّ وَمَنْ عَلَیْہِنَّ،   اَنْتَ الْحَقُّ،   وَمِنْكَ الْحَقُّ،   وَلِقَـآؤُكَ حَقٌّ،   وَالْجَنَّۃُ حَقٌّ،   وَالنَّارُ حَقٌّ،   وَالنَّبِیُّوْنَ حَقٌّ،   وَمُحَمَّدٌ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَقٌّ،   اَللّٰہُمَّ لَكَ اَسْلَمْتُ،   وَبِكَ اٰمَنْتُ،   وَعَلَیْكَ تَوَكَّلْتُ،   وَبِكَ خَاصَمْتُ،   وَاِلَیْكَ حَاكَمْتُ،   فَاغْفِرْ اَللّٰہُمَّ یا رَبِّ! لِیْ مَا قَدَّمْتُ،   وَمَاۤ اَخَّرْتُ،   وَمَاۤ اَسْرَرْتُ،   وَمَاۤ اَعْلَنْتُ،   اَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَاَنْتَ الْمُؤَخِّرُ،   لَاۤ اِلٰـہَ اِلَّاۤ اَنْتَ ،   اَللّٰہُمَّ اٰتِ نَفْسِیْ تَقْوَاھَا،   اَللّٰہُمَّ زَكِّہَا،   اَنْتَ خَیْرٌ مَّنْ زَكَّاھَا،   اَنْتَ وَلِیُّہَا وَمَولَاھَا،   اَللّٰہُمَّ اھْدِنِیْ لِاَحْسَنِ الْاَعْمَالِ،   لَا یَہْدِیْ لِاَحْسَنِہَاۤ اِلَّاۤ اَنْتَ،   وَاصْرِفْ عَنِّیْ سَیِّئَہَا،   لَا یَصْرِفُ عَنِّی سَیِّئَہَاۤ اِلَّاۤ اَنْتَ،   اَسْئَلُكَ مَسْئَلَۃَ الْبَـآئِسِ الْمِسْكِیْنِ وَادْعُوْكَ دُعَآءَ الْمُفْتَقِرِ الذَّلِیْلِ فَلَا تَجْعَلْنِیْ بِدُعَـآئِكَ رَبِّ شَقِیا،   وَكُنْ ۢ بِیْ رَؤُوْفًا رَّحِیْمًا،   یا خَیْرَ الْمَسْؤُوْلِیْنَ! وَیاۤ اَکْرَمَ الْمُعْطِیْنَ)   ([2])

تر جمعہ : اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! تیرے لئے ہی حمد ہے،   تو آسمانوں   اور زمین کا نور ہے اور تیرے لئے ہی حمد ہے،   تو آسمانوں   اور زمین کی رونق ہے اور تیرے لئے ہی حمد ہے،   تو آسمانوں   اور زمین کا نور ہے اور تیرے لئے ہی حمد ہے،   تو آسمانوں   اور زمین کی زینت ہے اور تیرے لئے ہی حمد ہے تو ہی قائم کرنے والا ہے آسمانوں   اور زمین کا اور جو کچھ ان میں   ہے اور جو کچھ ان کے اوپر ہے،   تو حق ہے اور تجھ سے  ہی حق ہے،   تیری ملاقات حق ہے،   جنت حق ہے،   دوزخ حق ہے،   انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام حق ہیں  ،   حضرت سیِّدُنا محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حق ہیں  ،   اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! میں   تیرے لئے اسلام لایا اور تجھ پر ہی ایمان لایا،   تجھ پر ہی بھروسا کیا اور تیرے ہی لئے جھگڑا کیا،   تیری بارگاہ میں   معاملہ پیش کیا،   پس اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! اے میرے پَرْوَرْدگار ! بخش دے میرے وہ تمام گناہ جو میں  نے پہلے کئے اور جو بعد میں   کئے،   جو پوشیدہ کئے اور جو علانیہ کئے،   تو اَلْمُقَدِّم اور اَلْمُؤَخِّر ہے،   تیرے سوا کوئی معبود نہیں  ۔ اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! میرے نفس کو تقویٰ عطا فرما،   اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! اس کاتزکیہ فرما،   تو ہی سب سے  بہتر اس کا تزکیہ فرمانے والا ہے،   تو ہی اس کا ولی ہے اور تو ہی اس کا آقا و مولا ہے،   اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! مجھے حسنِ عمل کی توفیق دے،   کہ تیرے سوا کوئی بھی اچھے اعمال پر نہیں   چلا سکتا اور مجھ سے  نفس کی برائی دور فرما کہ تیرے سوا کوئی بھی اس کی برائی دور نہیں   کر سکتا۔ میں   تجھ سے  مسکین و مجبور کے سوال کرنے کی طرح سوال کرتا ہوں   اور فقیر و حقیر شخص کی طرح دعا کرتا ہوں   پس اے میرے رب! اس دعا کے ساتھ مجھے بد بخت نہ بنا بلکہ مجھ پر رحم و کرم فرما،   اے سب سے  بہتر مسؤول  (یعنی جس سے  سوال کیا جائے)  ! اور اے سب سے  بہتر و زیادہ عطا فرمانے والے!

        مستحب یہ ہے کہ نمازِ تہجد کی ابتدا دو مختصر رکعتوں   سے  کرے۔ نیز یہ بھی مستحب ہے کہ کچھ نہ کھائے پئے یہاں   تک کہ نماز پڑھنے سے  فارغ ہو جائے۔ کیونکہ بندہ جب نیند سے  بیدار ہوتا ہے تو اس کا دل ہر قسم کی خواہشات سے  خالی ہوتا ہے،   پس جب وہ کچھ کھائے پئے گا تو اس کی کیفیت تبدیل ہو جائے گی۔ لہٰذا کھانا نہ کھائے یہاں   تک کہ فجر کے طلوع ہونے کا اندیشہ پیدا ہو جائے،   اگر اسنے ابھی تک کچھ کھایا پیا نہ ہو تو اس وقت فوراً شروع کر دے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مدد کے بغیر نہ تو نیکی کرنے کی طاقت ہے اور نہ ہی برائی سے  بچنے کی قدرت۔

٭٭٭  

فصل:  14

رات کی تقسیم اور عابدین کے فضائل

عابدین کے فضائل: 

            اس فصل میں   رات کے وقت عبادت کرنے،   سونے کے اوقات کی تقسیم،   عبادت کرنے اور تہجد پڑھنے والوں   کے فضائل مذکور ہیں  ۔ چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے رات کے وقت عابدین اور شکر ادا کرنے اور بہترین جزا دینے میں   ان کا تذکرہ رسولوں   کے سالار،   شہنشاہِ ابرار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ذکر کے ساتھ فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا:  اِنَّ رَبَّكَ یَعْلَمُ اَنَّكَ تَقُوْمُ اَدْنٰى مِنْ ثُلُثَیِ الَّیْلِ وَ نِصْفَهٗ وَ ثُلُثَهٗ وَ طَآىٕفَةٌ مِّنَ الَّذِیْنَ مَعَكَؕ-  (پ۲۹،  المزمل:  ۲۰)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: بے شک  تمہارا رب جانتا ہے کہ تم قیام کرتے ہو کبھی دو تہائی رات کے قریب کبھی آدھی رات کبھی تہائی اور ایک جماعت تمہارے ساتھ والی۔

        اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اس آیتِ مبارکہ میں   خبر دی ہے کہ رات کے وقت قرآنِ کریم کی تلاوت کرنا دل کے لئے انتہائی مؤثر ہے اور اس وقت قرآنِ پاک کو سمجھنے اور یاد کرنے میں   دل زبان کا ساتھ دیتا ہے۔ نیز اللہ   عَزَّ وَجَلَّنے رات کے وقت عبادت کرنے والوں   کو علما کے نام سے  یاد فرمایا اور انہیں   اہلِ خوف و رجا میں   سے  شمار کرنے کے علاوہ ان کے لئے بہترین



[1]     سنن ابی داود، کتاب الصلاة، باب ما يستفتح به الصلاة من الدعاء، الحديث: ۷۶۴، ص۱۲۷۹

[2]     صحيح البخاری، کتاب التهجد، باب التهجد بالليل، الحدیث: ۱۱۲۰، ص۸۷



Total Pages: 332

Go To