Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

سونے سے  پہلے فکر مدینہ: 

٭  بندے کو چاہئے کہ سوتے وقت موت کو یاد کیا کرے اور یہ یقین رکھے کہ سونے سے  قبل اس کا جو تعلق اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے  قائم تھا مرنے کے بعد بھی ویسا ہی ہو گا۔٭...  اس بات پر بھی غور و فکر کر لینا چاہئے کہ سوتے وقت کس حالت پر قائم ہے؟ اور جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے  ہمیشہ کی نیند  (یعنی موت)  عطا فرمائے گا تو کس غم میں   مبتلا ہو گا؟

٭  اور یہ بھی یاد رکھے کہ قیامت کے دن اسی حالت پر دوبارہ زندہ ہونا ہے کیونکہ بندہ مرتے وقت دنیا میں   جس حالت و کیفیت پر ہو گا اسی حالت و کیفیت پر دوبارہ اٹھایا جائے گا اور اس کا حشر اس کے محبوب کے ساتھ ہو گا جیسا کہ ایک سونے والا شخص کسی کی محبت میں   سوتا ہے اور پھر اُسی کی محبت کا دم بھرتے ہوئے بیدار ہوتا ہے۔ چنانچہ،   

            شہنشاہِ مدینہ،   صاحبِ معطر پسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ فضیلت نشان ہے کہ انسان اپنے محبوب کے ساتھ ہو گا اور اس کی جزا بھی اس کے اپنے گمان کے مطابق ہی ہو گی۔ ([1])

            باعثِ نُزولِ سکینہ،   فیض گنجینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے  مروی ہے کہ جو شخص جس مرتبہ پر مرے گا اسی مرتبے پر قیامت کے دن دوبارہ زندہ ہو گا۔  ([2])

حضرت سیِّدُنا کعب الاحبار عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْغَفَّار فرماتے ہیں   کہ جب سوؤ تو دائیں   پہلو کے بل لیٹا کرو اور اپنے چہرے کو قبلہ رو کر لو کہ یہ بھی موت  (کی ایک صورت)  ہے۔ بندے کو یہ یقین ہونا چاہئے کہ بے شک  اللہ عَزَّ وَجَلَّ قبر سے  اٹھنے کے بعد اس کے ساتھ اسی کیفیت کے مطابق سلوک فرمائے گا جو اس کی نیندسے  بیدار ہونے کے بعد ہوتی ہے۔ نیز یہ بھی غور کر لینا چاہئے کہ وہ کس حالت پر زندہ کیا جائے گا؟ چنانچہ،   اگر بندہ اپنے مولا عَزَّ وَجَلَّ کو مکرم جاننے والا ہو،   اس کو عظیم الشان ماننے والا ہو اور اس کی حرمت کو بڑا سمجھتا ہو،   اپنے محبوب کی جانب متوجہ رہتا ہو اور اس کی رضا کی دائمی نعمتوں   کے حصول میں   جلدی کرتا ہو تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ بھی آخرت میں   اسے  اپنی رضا سے  عزت عطا فرمائے گا اور اگر بندہ اپنے مولا عَزَّ وَجَلَّ کے حق میں   سستی کرنے والا،   اس کے احکام کو ہلکا جاننے والا اور اس کے شعائر کو حقیر سمجھنے والا ہو تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ بھی اسے  اس کی حیثیت کے مطابق ذلیل و رسوا کرے گا۔ چنانچہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

وَ مَا یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُۙ (۱۹)  (پ۲۲،  فاطر:  ۱۹)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور برابر نہیں   اندھا اور انکھیارا۔

        اسی طرح وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے وہ اور گناہ گار افراد ایک دوسرے کے برابر نہیں   ہو سکتے۔ چنانچہ ایک جگہ انہیں   تنبیہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَ (۳)  (پ۸،  الاعراف:  ۳)  

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: بہت ہی کم سمجھتے ہو۔

        ایک مقام پر ارشاد فرمایا:

اَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِیْنَ كَالْمُجْرِمِیْنَؕ (۳۵)  (پ۲۹،  القلم:  ۳۵)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: کیا ہم مسلمانوں   کو مجرموں   سا کردیں  ۔

        اور اس کے بعد ان کے حکم کی مذمت اور عیب بیان کرنے کے لئے ارشاد فرمایا:  

مَا لَكُمْٙ-كَیْفَ تَحْكُمُوْنَۚ (۳۶)  (پ۲۹،  القلم:  ۳۶)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: تمہیں   کیا ہوا کیسا حکم لگاتے ہو۔

        اور ایک مقام پر ارشاد فرمایا:

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ اجْتَرَحُوا السَّیِّاٰتِ اَنْ نَّجْعَلَهُمْ كَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِۙ-سَوَآءً مَّحْیَاهُمْ وَ مَمَاتُهُمْؕ-سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ۠ (۲۱)  (پ۲۵،  الجاثية:  ۲۱)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: کیا جنہوں  نے برائیوں   کا ارتکاب کیا یہ سمجھتے ہیں   کہ ہم انہیں   ان جیسا کردیں   گے جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے کہ اِن کی اُن کی زندگی اور موت برابر ہوجائے کیا ہی بُرا حکم لگاتے ہیں  ۔

        پس زندگی میں   اور موت کے بعد اس کے ہاں   اِن کے متعلق جو فیصلہ ہو چکا ہے اس کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’اِن کی اُن کی زندگی اور موت برابر ہوجائے۔ ‘‘  یعنی جس طرح وہ دنیاوی زندگی میں   تھے اسی طرح مرنے کے بعد بھی ہوں   گے۔ چنانچہ اسکے فوراً بعد اللہ عَزَّ وَجَلَّنے مخلوق کے متعلق اپنے عدل کا تذکرہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:   وَ خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ وَ لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ (۲۲)  (پ۲۵،  الجاثية:  ۲۲)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور اللہنے آسمان اور زمین کو حق کے ساتھ بنایا اور اس لئے کہ ہر جان اپنے کئے کا بدلہ پائے اور ان پر ظلم نہ ہو گا۔

        یہ کلام عقل مندوں   کے لئے نصیحت ہے اور ایک مقام پر تدبر کرنے،   اہلِ عقل و دانش کو اسے  یاد رکھنے اور اس سے  نصیحت حاصل کرنے کا حکم دیا۔ چنانچہ ارشاد فرمایا:

كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ مُبٰرَكٌ لِّیَدَّبَّرُوْۤا اٰیٰتِهٖ وَ لِیَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ (۲۹)  (پ۲۳،  ص:  ۲۹)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: یہ ایک کتاب ہے کہ ہم نے تمہاری طرف اتاری برکت والی تاکہ اس کی آیتوں   کو سوچیں   اور عقلمند نصیحت مانیں  ۔

 



[1]     جامع الترمذی،ابواب الزهد،باب ما جاء ان المرء مع من احب،الحديث: ۲۳۸۶، ص۱۸۹۱ ما احتسب بدله ما اکتسب

[2]     التذکرة للقرطبی، الفصل السادس، باب منه فی صفة البعث    الخ، ص۲۱۰



Total Pages: 332

Go To