Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

            منقول ہے کہ جو بغیر وصیت کے جہانِ فانی سے  چلا جائے گا قیامت تک عالم برزخ میں   اسے  کلام کرنے کی اجازت نہ دی جائے گی۔ ([1]) یہ بھی منقول ہے کہ وہ دوسرے مُردوں   کو باتیں   کرتا ہوا دیکھے گا لیکن قیامت تک خود ان سے  بات نہ کر پائے گا اور وہ ایک دوسرے سے  کہیں   گے:  ’’یہ بیچارہ بغیر وصیت کے مر گیا تھا۔ ‘‘  تو ان کی یہ بات اس کے لئے حسرت بن جائے گی۔

          اچانک موت اس مومن فقیر کے لئے راحت کا باعث ہوتی ہے جس کے پاس کوئی مال نہ ہو اور نہ ہی اس پر کوئی قرض ہو لیکن ثواب کی نیت سے  اس کے لئے وصیت کرنا بھی مستحب ہے اور جو قرض کے بوجھ تلے دبا ہو اور اس کے پاس مال بھی ہو یا پھر وہ قرض اتارنے میں   ٹال مٹول سے  کام لیتا ہو تو اس کے لئے اچانک موت ایک سزا اور ناپسندیدہ شے ہے۔ بندے کو اس حال میں   سونا چاہئے کہ وہ ہر گناہ سے  توبہ کرنے والا ہو،   تمام مسلمانوں   کے لئے اس کا دل صاف ہو،   اس کے دل میں   کسی پر بھی ظلم کا ارادہ پیدا نہ ہو اور نہ ہی بیداری کے بعد کسی گناہ کا خیال ہو۔ چنانچہ،   

        ایک روایت میں   ہے کہ جو بستر پر لیٹے اور کسی پر ظلم کرنے کی نیت کرے نہ کسی کے خلاف کینہ کو دل میں   جگہ دے تو اس کی تمام غلطیاں   بخش دی جائیں   گی۔  ([2])

سونے کا طریقہ: 

            سوتے وقت قبلہ رو ہوں   اور قبلہ رو ہونے کا طریقہ یہ ہے کہ دائیں   کروٹ سوئیں   اور یہ یاد رکھیں   کہ موت کے وقت ایسی ہی حالت ہو گی اور قبر میں   لیٹنے کا یہی انداز ہو گا۔ چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے:

اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ كِفَاتًاۙ (۲۵)  اَحْیَآءً وَّ اَمْوَاتًاۙ (۲۶)  (پ۲۹،  المرسلات:  ۲۵،   ۲۶)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: کیا ہم نے زمین کو جمع کرنے والی نہ کیا۔ تمہارے زندوں   اور مُردوں   کی۔

        مفسرینِ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں   کہ زمین کے زندوں   اور مردوں   کو جمع کرنے سے  مراد یہ ہے کہ زندہ لوگ زمین کی سطح پر ہیں   اور مردہ زمین کے اندر۔ چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے رات کے وقت سونے اور دن کے وقت فضل تلاش کرنے کو ماننے والوں   کے لئے بطورِ دلیل اپنی نشانیوں   میں   سے  قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: 

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ مَنَامُكُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ ابْتِغَآؤُكُمْ مِّنْ فَضْلِهٖؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ (۲۳)  (پ۲۱،  الروم:  ۲۳)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور اس کی نشانیوں   میں   سے  ہے رات  اور دن میں   تمہارا سونا اور اس کا فضل تلاش کرنا بیشک اس میں   نشانیاں   ہیں   سننے والوں   کے لئے۔

        صفہ کے فقرا اور تابعین میں   سے  بعض زاہد جب سویا کرتے تو زمین پر کچھ نہ بچھاتے۔ بلکہ ان میں   سے  بعض تو مٹی پر ہی لیٹ جاتے اور اپنے اوپر کپڑا اوڑھ لیتے اور یہ آیتِ مبارکہ پڑھا کرتے:

مِنْهَا خَلَقْنٰكُمْ وَ فِیْهَا نُعِیْدُكُمْ (پ۱۶،   طه:  ۵۵)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: ہم نے زمین ہی سے  تمہیں   بنایا اور اسی میں   تمہیں   پھر لے جائیں   گے۔

        گویا وہ زمین سے  دور ہونا اور مٹی سے  بچنا پسند نہ کرتے بلکہ زمین پر لیٹنے سے  دلوں   کی نرمی اور عاجزی و انکساری میں   زیادتی محسوس کرتے۔

نیند اور برزخ میں   مماثلت: 

        اہلِ حقیقت کے نزدیک نیند کی مثال برزخ کی سی ہے۔ جس طرح برزخ دنیا اور آخرت کے درمیان ایک مقام کا نام ہے اسی طرح نیند بھی زندگی و موت کے درمیان کی ایک حالت کا نام ہے۔ جب نیند کا حجاب دور ہوتا ہے تو دنیا اپنی حکمتوں   کے ساتھ جلوہ گر نظر آتی ہے اور جب حجابِ دنیا ہٹتا ہے تو آخرت اپنی قدرت کے ساتھ عیاں   دکھائی دیتی ہے اور اس وقت دنیا کی حیثیت نیند میں   نظر آنے والے خواب جیسی ہو جاتی ہے۔ چنانچہ،   

        اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے: 

وَ هُوَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰىكُمْ بِالَّیْلِ وَ یَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بِالنَّهَارِ ثُمَّ یَبْعَثُكُمْ فِیْهِ (پ۷،  الانعام:  ۶۰)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور وہی ہے جو رات کو تمہاری روحیں   قبض کرتا ہے اورجانتا ہے جو کچھ دن میں   کماؤ پھر تمہیں   دن میں   اٹھاتا ہے۔

                بزرگانِ دین فرمایا کرتے کہ اس شخص پر تعجب ہے جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نافرمانی کرتا ہے اور پھر اس کے بعد سو جاتا ہے۔ بعض علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامنے نقل کیا ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ  ارشاد فرماتا ہے :  ’’اگر تم میری نافرمانی کرتے ہو تو پھر میری سلطنت و قدرت سے  باہر نکل جاؤ اور میرے قبضۂ اختیار میں   مت سوؤ۔  ‘‘  

حضرت سیِّدُنا لقمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  کی نصیحت: 

            حضرت سیِّدُنا لقمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اپنے صاحبزادے سے  ارشاد فرمایا: ’’ اے میرے بیٹے! اگر تمہیں   موت میں   کوئی شک ہو تو مت سونا،   کیونکہ جس طرح تو سوتا ہے اسی طرح تجھے مرنا بھی ہے اور اگر تجھے دوبارہ زندہ ہونے میں   کوئی شک ہو تو جب سوئے تو پھر کبھی بیدار نہ ہونا کیونکہ جس طرح تو سونے کے بعد بیدار ہو جاتا ہے اسی طرح مرنے کے بعد زندہ بھی ہو جائے گا۔ ‘‘   ([3])

 



[1]     الفردوس بماثور الخطاب، الحديث: ۵۵۶۶، ج۳، ص۵۰۵ دون قوله فی البرزخ

[2]     تاريخ مدينة دمشق، الرقم ۶۴۶۲ محمد بن صالح، ج۵۳، ص۲۷۳ مفهوماً

[3]     تفسير البحر المديد، پ۲۰، النمل، تحت الاية ۸۶، ج۵، ص۳۶۶



Total Pages: 332

Go To