Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

        منقول ہے کہ جو سوتے وقت یہ کلمات کہے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ تین فرشتے زمین پر اتارتا ہے جو اسے  نماز کے لئے بیدار کر دیتے ہیں  ،   اب اگر وہ نماز پڑھتا ہے اور دعا مانگتا ہے تو وہ اس کی دعا پر آمین کہتے ہیں   اور اگر وہ قیام نہ کرے تو فرشتے فضا میں   عبادت کرتے ہیں   اور ان کی عبادت کا ثواب اس کے لئے لکھ دیا جاتا ہے۔

٭…  اس کے بعد 33،   33 بار  (سُبْحَانَ اللّٰہِ،   اَ لْحَمْدُ لِلّٰہِ،    اَللّٰہُ اَکْبَرُ)  پڑھے اور بہتر یہ ہے کہ 25بار یہ کلمات پڑھ لے: (سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ لَاۤ اِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ)  یہ کلمہ پڑھنے سے  مذکورہ کلمات مل کر پورے سو  (100)  ہو جائیں   گے اور اس کو ہمیشہ پڑھنا بھی آسان ہے۔ سرورِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بھی اس کا حکم دیا ہے اور پانچوں   نمازوں   کے بعد اور سوتے وقت انہیں   پڑھنا مستحب ہے۔ ([1])

سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی سوتے وقت دعا:

٭…  ام المومنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  فرماتی ہیں   کہ سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سوتے وقت سب سے  آخر میں   یہ کلمات پڑھا کرتے جبکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا دایاں   ہاتھ رخِ انور تلے ہوتا اور حالت یہ ہوتی گویا اسی رات روحِ اقدس پرواز کر جائے گی:

 (اَللّٰہُمَّ رَبَّ السَّمٰوَاتِ السَّبْعِ،   وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ،   رَبَّنَا  وَرَبَّ کُلِّ شَیْئٍ،   مُنَزِّلَ التَوْرَاۃِ وَالْاِنْجِیْلِ وَالزَّبُوْرِ وَالْفُرْقَانِ،   فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوٰی،   اَعُوْذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ دَآبَّۃٍ اَنْتَ اٰخِذٌ ۢ بِنَاصِیَتِہَا۔ اَللّٰہُمَّ اَنْتَ الْاَوَّلُ فَلَیْسَ قَبْلَكَ شَیْئٌ،   وَاَنْتَ الْاٰخِرُ فَلَیْسَ بَعْدَكَ شَیْئٌ،   وَاَنْتَ الظَّاھِرُ فَلَیْسَ فَوقَكَ شَیْئٌ،   وَاَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَیْسَ دُوْنَكَ شَیْئٌ،   اِقْضِ عَنِّی الدَّیْنَ وَاغْنِنِیْ مِنَ الْفَقْرِ)     ([2])

تر جمعہ : اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! اے ساتوں   آسمانوں   کے رب! اور اے عرشِ عظیم کے پَرْوَرْدگار ! اے ہمارے اور ہر شے کے رب! اے تورات،   انجیل،   زبور اور قرآنِ کریم نازل فرمانے والے! اے دانے اور گٹھلی کو پھاڑنے والے! میں   تیری پناہ مانگتا ہوں   ہر جاندار کے شر سے ،   جس کی پیشانی تیرے قبضۂ قدرت میں   ہے،   اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! تو ایسا اوّل ہے کہ تجھ سے  پہلے کچھ نہ تھا اور تو ہی آخر ہے کہ تیرے بعد بھی کچھ نہ ہو گا،   تو ہی ظاہر ہے کہ کچھ بھی تجھ سے  بڑھ کر نہیں  ،   تو ہی باطن ہے کہ ہر چیز تیرے بغیر کچھ نہیں  ،   میرا قرض اتار دے اور مجھے فقر کے خوف سے  بے پروا کردے۔

        پس یہ تمام دعائیں   اور آیاتِ مبارکہ سوتے وقت پڑھنا مستحب ہیں  ۔

نیند کے آداب: 

        سونے سے  پہلے درج ذیل امور مستحب ہیں  :

٭…  کامل وضو کر کے سوئے،   ورنہ پانی کے ساتھ اعضائے وضو تَر کر لے۔

٭…  بزرگانِ دین سوتے وقت مسواک کرنا پسند فرمایا کرتے تھے اور محبوب ربِّ داور،   شفیعِ روزِ مَحشر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا بھی یہی معمول تھا۔  ([3]بعض بزرگ سوتے وقت سرہانے مسواک اور وضو کا پانی رکھ لیا کرتے تھے،   جب رات کو بیدار ہوتے تو مسواک کرتے اور اعضاء کو پانی سے  تر کر لیتے اور بستر پر لیٹے لیٹے ہی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی پاکی بیان کرتے رہتے اور تلاوتِ قرآنِ کریم کے ذریعے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ذکر میں   مشغول رہتے اور اسے  قیام اللیل کے برابر خیال کرتے۔ چنانچہ امیرالمومنین حضرت سیِّدُنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  اور دیگر صحابۂ کرام رِضْوَانُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن  کے علاوہ تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے  بھی ایسا ہی مروی ہے،   نیز آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم رات کے وقت جب بھی نیند سے  بیدار ہوتے ہر بار مسواک فرمایا کرتے۔ ([4])

            پس بندے کو بھی چاہئے کہ مسواک اور وضو کا پانی اپنے سرہانے رکھا کرے اور نمازِ تہجد کی نیت کر کے سویا کرے  اور جب بھی بیدار ہو تو وضو کرے اور نماز پڑھے یا بیٹھا تلاوت کرتا رہے یا دعا میں   مشغول رہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ   کا ذکر کرے،   اس سے  بخشش کا سوال کرے یا پھر اس کی نعمتوں  ،   عظمتوں   اور اس کی قدرت کی نشانیوں   میں   غور و فکر کرے،   پس ان میں   سے  کوئی بھی کام کیا تو یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ   کا ذکر ہی ہے۔ لہٰذا اس کو اپنا معمول بنا لے کہ اس میں   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے قرب کا حصول ہے،   نیز یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ   کا خاص کرم اور اس کی رحمت بھی ہے۔

سونے سے  قبل وصیت کرنا: 

        اگر کسی کے پاس کوئی ایسی چیز ہو جس میں   وصیت کرنا ضروری ہو تو اسے  چاہئے کہ رات سونے سے  قبل وصیت لکھ کر سوئے کیونکہ موت کا بھروسا نہیں   اور اس لئے بھی کہ سرکارِ والا تَبار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایسا کرنے کو مستحب قرار دیا ہے۔ چنانچہ،   

            آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’کسی بندے کے لئے یہ مناسب نہیں   کہ وہ دو راتیں   اس حالت میں   بسر کر دے کہ اس کے پاس کوئی قابلِ وصیت شے ہو اور اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی نہ ہو۔ ‘‘   ([5])

 



[1]     سنن ابی داود، کتاب الوتر، باب التسبيح بالحصي، الحديث: ۱۵۰۴، ص۱۳۳۴کتاب الخراج   الخ، باب فی بيان مواضع     الخ، الحديث: ۲۹۸۸، ص۱۴۴۷

[2]     صحيح مسلم، کتاب الذکر و الدعاء، باب الدعاء عندالنوم، الحديث: ۶۸۸۹، ص۱۱۴۹

[3]     معرفة الصحابة لابی نعيم، الرقم ۲۷۶۷محرز، الحدیث: ۶۲۸۷، ج۴، ص۲۸۰

[4]     سنن ابی داود، کتاب الطهارة، باب السواک لمن قام بالليل، الحديث: ۵۶، ۵۷، ص۱۲۲۶ مفهوماً

[5]     جامع الترمذی، ابواب الجنائز، باب ما جاء فی الحث علی الوصية، الحديث: ۹۷۴، ص۱۷۴۴



Total Pages: 332

Go To